30

پاکستان کا نظامِ ٹیکس: عدم مساوات اور عدم اعتماد کا گھمبیر جال

پاکستان کا نظامِ ٹیکس ایک ایسا پیچیدہ جال بن چکا ہے جو نہ صرف مالیاتی کمزوریوں کا عکاس ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان گہرے عدم اعتماد کی بنیاد بھی ہے۔ یہ کوئی راز نہیں کہ ہمارا ٹیکس ڈھانچہ انتہائی غیر متوازن ہے، جہاں ٹیکس دینے والے چند تنخواہ دار افراد اور چھوٹی صنعتیں ہیں، جبکہ ملک کی دولت مند اشرافیہ اور بااثر طبقات بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری یا چھوٹ کے ذریعے قومی خزانے میں حصہ ڈالنے سے گریزاں ہیں۔ یہ نظام غیر منصفانہ طور پر بالواسطہ ٹیکسوں (Indirect Taxes) پر بری طرح انحصار کرتا ہے یعنی وہ ٹیکس جو غریب سے لے کر امیر تک ہر شخص اشیا اور خدمات کی خریداری پر ادا کرتا ہے۔ بجلی، گیس، پیٹرول اور روزمرہ کی ضروریات پر عائد یہ بھاری ٹیکس غربت کی چکی میں پسے ہوئے اور متوسط طبقے کی کمر توڑ رہے ہیں۔ اس کے برعکس، براہِ راست ٹیکس (Direct Taxes)، جو لوگوں کی آمدنی اور دولت پر لگنے چاہئیں، ان کا دائرہ انتہائی تنگ ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکس-ٹو-جی ڈی پی کا تناسب محض 10 فیصد کے آس پاس سسک رہا ہے یہ شرح خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں شرمناک حد تک کم ہے۔عوام کا بنیادی اعتراض صرف ٹیکس کی شرح پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ ریاست اپنی بنیادی ذمہ داریوں میں ناکام ہو چکی ہے۔ شہری یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ بالواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں، لیکن اس کے بدلے انہیں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، اور ایک فعال عدالتی نظام جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ جب ایک عام شہری ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں، ناقص سرکاری ہسپتال، اور میرٹ کی پامالی دیکھتا ہے تو وہ سوال کرتا ہے: “میرا دیا ہوا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟” یہی وہ سوال ہے جو عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔ قوم کا نقطہ نظر یہ ہے کہ سرکاری عہدے داران اور حکمران طبقہ اس ٹیکس کی رقم کو عوامی فلاح کے بجائے اپنے ذاتی اللے تللوں، غیر ضروری تشہیر، اور شاہانہ طرزِ زندگی پر ضائع کر رہے ہیں۔ ٹیکس وصولی اور اس کے استعمال میں شفافیت اور احتساب کا فقدان اس تاثر کو مزید پختہ کرتا ہے کہ حکومتی حلقے عوام کے سرمائے کو نجی ملکیت سمجھتے ہیں۔ اس بدترین بدگمانی کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ شعوری طور پر براہِ راست ٹیکس دینے کو قومی ذمہ داری کے بجائے ایک بوجھ یا سزا تصور کرتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ بڑے مگرمچھ قانون کی گرفت سے باہر ہیں، تو وہ خود کیوں ایمانداری سے اپنا حصہ ڈالیں؟تازہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ 2024 کے لیے جمع کرائے گئے 5.9 ملین انکم ٹیکس ریٹرنز میں سے تقریبا نصف نے اپنی آمدنی “صفر” ظاہر کی ہے۔ یہ اعداد و شمار ٹیکس قوانین کے نفاذ کی کمزوری، اور اس بات پر واضح سوال کھڑا کرتے ہیں کہ کیا ملک کا دولت مند طبقہ قومی خزانے میں حصہ ڈالنے پر آمادہ ہے؟ بظاہر جواب نفی میں ہے، اور یہی عدم مساوات پورے ٹیکس نظام کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ٹیکس کلچر کو فروغ دینے اور عوام کو رضاکارانہ طور پر ٹیکس دینے پر آمادہ کرنے کے لیے حکومت کو اب لفاظی سے نکل کر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے، جو عدل، شفافیت، اور سہولت پر مبنی ہوں۔ سب سے پہلے نظام کو منصفانہ اور ترقی پسند (Progressive) بنانا ہو گا، جہاں ٹیکس کا بوجھ دولت کی بنیاد پر تقسیم ہو۔ امیروں، بڑی کارپوریشنوں، غیر دستاویزی معیشت (Undocumented Economy)، اور منافع بخش رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر بھاری اور مثر ٹیکس عائد کیا جائے۔ جب عوام دیکھیں گے کہ بااثر اور مالدار لوگ بھی قومی بوجھ اٹھا رہے ہیں، تب ہی ان کا اعتماد بحال ہو گا۔ حکومت کو یہ واضح کرنا ہو گا کہ ایک ایک پیسہ کہاں خرچ ہوا ہے۔ مخصوص ٹیکسوں کو واضح، مقامی ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ جوڑا جائے، اور ان منصوبوں کی پیشرفت کا مکمل حساب عوام کے سامنے رکھا جائے۔ جب شہریوں کو ان کے ٹیکس کے بدلے اپنے محلے میں ایک بہتر اسکول یا ہسپتال ملے گا، تو ٹیکس دینے کا جذبہ خود بخود پروان چڑھے گا۔ ٹیکس چوری کرنے والے بااثر افراد کے خلاف بلاتفریق، سخت کارروائی کی جائے۔ ٹیکس نفاذ کے نظام کو ٹیکنالوجی اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے مضبوط کیا جائے تاکہ ٹیکس چوری کو ناممکن بنایا جا سکے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو ڈرانے دھمکانے والے ادارے کے بجائے خدمت گار اور سہولت کار میں تبدیل کیا جائے۔ ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی، عملے کا بہتر رویہ، اور فائلنگ کا آسان عمل عوام کی شرکت کو یقینی بنا سکتا ہے۔ آخرکار، پاکستان میں ٹیکس کلچر کی بحالی صرف حکومتی آمدنی بڑھانے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ریاست اور شہریوں کے درمیان ٹوٹے ہوئے اعتماد کو بحال کرنے کی بنیاد ہے۔ جب تک حکومت ایک ایسے نظام سے دستبردار نہیں ہوتی جو ظالمانہ حد تک رجعتی (Regressive) اور غیر منصفانہ ہے، عوام کی جیب سے پیسے تو نکلتے رہیں گے، مگر وہ رضاکارانہ طور پر اپنی دولت کو قومی تعمیر پر خرچ کرنے کا حوصلہ کبھی نہیں پائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں