پاکستان کا ہر تیسرا بالغ فرد بلڈپریشر کے مرض میں مبتلا

کراچی (بیوروچیف) ہائی بلڈ پریشر (ہائیپر ٹینشن) یا لو بلڈ پریشر دونوں کا دل کی صحت سے گہرا تعلق ہے۔ زیادہ تر لوگ ڈاکٹر اور ہسپتال میں جاکر اپنا بی پی چیک کرواتے ہیں، لیکن گھر پر خود چیک کرنے کا صحیح طریقہ بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ڈاکٹر اور نرسز نہ صرف مشین کے اعداد و شمار سمجھ سکتے ہیں بلکہ اس کے سیاق و سباق کو بھی جانتے ہیں، جبکہ زیادہ تر لوگ یہ نہیں جانتے کہ اعداد کو کیسے پڑھا جائے یا ان کا مطلب کیا ہے۔کورونا وبا کے بعد، پورٹیبل اور سستے بی پی مانیٹرز کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور مارکیٹ میں یہ مشینیں کم قیمت میں دستیاب ہیں۔ ، لیکن اگر آپ صحیح طریقے سے ریڈنگ پڑھنا نہیں جانتے تو اس سے غیر ضروری تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔بی پی کی ریڈنگ دو نمبر پر مشتمل ہوتی ہے: سِسٹولک (اوپر والا نمبر) جو دل کے دھڑکنے کے وقت شریانوں میں پیدا ہونے والے دبا کو ظاہر کرتا ہے اور ڈایسٹولک (نیچے والا نمبر) جو دل کے آرام کے دوران دبا بتاتا ہے۔بی پی صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں؛ یہ ہمارے جسمانی اور جذباتی حالات سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ بی پی وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ دبا، جلدی یا ورزش سے ریڈنگ بڑھ سکتی ہے اور آرام، سیر یا نیند کے بعد واپس نارمل ہو جاتی ہے۔ اس لیے ایک دن کی ہائی ریڈنگ پر گھبرانا ضروری نہیں، اہم یہ ہے کہ ریڈنگ کا پیٹرن وقت کے ساتھ کیسا ہے؟آرام سے بیٹھیں، کمر کو سہارا دیں، پائوں فرش پر رکھیں،پیمائش سے پانچ منٹ قبل خاموشی سے بیٹھیں، بازو کو دل کی سطح پر رکھیں اور مشین کی کیف صحیح طرح باندھیں، چائے، کافی، سگریٹ یا ورزش کے فورا بعد نہ ناپیں، عام انداز میں سانس لیں، بات نہ کریں اور سانس روکیں نہیں، دو سے تین بار ریڈنگ لیں اور اوسط نکالیں، یہ آسان طریقے غلط ہائی یا لو ریڈنگ سے بچاتے ہیں اور صحیح معلومات فراہم کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ اعداد معلومات ہیں، فیصلے نہیں۔ایک دن کی ہلکی ہائی ریڈنگ پر گھبرائیں نہیں۔ پوسچر، خوراک، پانی کی مقدار اور ذہنی دبا کا جائزہ لیں، پھر دوبارہ چیک کریں۔ آہستہ سانس لینا، مراقبہ، یا موسیقی سننا بھی صحیح ریڈنگ لینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ہائی بلڈ پریشر اکثر بغیرعلامات کے ہوتا ہے اور دل کی بیماری، اسٹروک یا گردے کے مسائل کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر اکثر خاموش قاتل کی طرح ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں تقریبا ہر تیسرے بالغ فرد کو ہائی بلڈ پریشر کامرض لاحق ہے۔گھر پر باقاعدہ چیک کرنے سے جلد ہی کسی بھی تبدیلی کا پتہ چلتا ہے اور صحت مند طرز زندگی اپنانے میں مدد ملتی ہے، جیسے: نمک کم کرنا، سبزیاں اور پھل زیادہ کھانا، روزانہ واک کرنا، ذہنی دبائو کم کرنا، بی پی مانیٹر صرف ایک گیجٹ نہیں، بلکہ اپنی صحت کی نگرانی کا ٹول ہے۔ جب اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ ہمیں اپنی صحت کے کنٹرول میں مدد دیتا ہے اورغیر ضروری خوف سے بچاتا ہے۔تحقیق کے مطابق مذکورہ نیا چاند زمین کے سات معلوم قریبی چاندوں میں سے سب سے چھوٹا اور سب سے غیر مستحکم ہے۔زمین کے گرد گردش کرنے والے ایک نئے چاند (Quasi-Moon) کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جسے سائنس دانوں نے 2025 PN7 کا نام دیا ہے۔ حیران کن طور پر یہ چھوٹا سیارچہ گزشتہ 60 سالوں سے زمین کے قریب مدار میں گردش کر رہا تھا، مگر اس کی کم روشنی اور ناقص مشاہداتی زاویوں کے باعث یہ طویل عرصے تک سائنس دانوں کی نظروں سے اوجھل رہا۔یہ انکشاف اسپین کی کمپلوتینسے یونیورسٹی آف میڈرڈ سے تعلق رکھنے والے ماہرِ فلکیات کارلوس ڈی لا فوئنٹے مارکوس کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق میں سامنے آیا ہے، جسے 2 ستمبر 2025 کو ریسرچ نوٹس آف دی امریکن ایسٹرونومیکل سوسائٹی (AAS) میں شائع کیا گیا ہے۔قریبی چاند وہ فلکی اجسام ہوتے ہیں جو زمین کے گرد براہِ راست گردش نہیں کرتے، بلکہ وہ سورج کے گرد ایسا مدار اختیار کرتے ہیں جو زمین کے مدار سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ اس ہم آہنگی کی وجہ سے وہ ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے زمین کے ساتھ ساتھ حرکت کر رہے ہوں، مگر درحقیقت وہ زمین کے مستقل قدرتی چاند نہیں کہلاتے ہیں۔تحقیق کے مطابق مذکورہ نیا چاند زمین کے سات معلوم قریبی چاندوں میں سے سب سے چھوٹا اور سب سے غیر مستحکم ہے۔ اس کا قطر تقریبا 62 فٹ (19 میٹر) ہے، جو اسے فلکیاتی لحاظ سے ایک نہایت مختصر جسم بناتا ہے۔ اگرچہ یہ سیارچہ روشنی میں انتہائی مدھم ہے، لیکن اعلی معیار کی دوربین کے ذریعے اسے دیکھنا ممکن ہے۔یہ چاند سورج کے گرد زمین جیسا ہی مدار اختیار کرتا ہے، اور زمین سے اس کا فاصلہ 28 لاکھ میل سے لے کر 3.7 کروڑ میل تک رہتا ہے۔ماہرین کے مطابق، یہ سیارچہ آئندہ 60 سالوں تک زمین کے ساتھ اپنی ہم آہنگ حرکت برقرار رکھے گا، جس کے بعد ممکن ہے کہ کششِ ثقل کے باعث اس کا مدار تبدیل ہو جائے۔تحقیقی ٹیم کے سربراہ کارلوس ڈی لا فوئنٹے مارکوس نے بتایا ہے کہ، یہ سیارچہ چھوٹا، کمزور اور زمین سے مشاہدے کے لیے غیر موزوں زاویے پر موجود ہے، اس لیے یہ تعجب کی بات نہیں کہ یہ اتنے برسوں تک ہماری نظروں سے پوشیدہ رہا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قریبی چاند کا ذکر سب سے پہلے فرانسیسی صحافی ایڈرین کوفینیٹ نے کیا تھا، جنہوں نے 30 اگست 2025 کو مائنر پلینٹ میلنگ لسٹ (Minor Planet Mailing List) پر اس کی مدار کی تفصیلات شائع کی تھیں۔ ان کے مطابق، پی این سیون 2025 بظاہر آئندہ 60 سالوں تک زمین کا کوآزی سیٹلائٹ رہے گا۔یہ دریافت نہ صرف فلکیاتی تحقیق میں ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ہماری زمین کے گرد اب بھی ایسے کئی اجرامِ فلکی موجود ہو سکتے ہیں جو جدید ترین آلات کے باوجود ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں