پاکستان کی تاریخی سفارتی کامیابی (اداریہ)

ایران’ امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کا اہم کردار دنیا بھر میں تاریخی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادتوں کی کاوشوں سے امریکی وایرانی وفود کی پاکستان آمد اور اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین براہ راست مذاکرات کا بھی آغاز ہو گیا ہے پاکستان کی اسی سفارتکاری کی بنیاد پر اسرائیل اور لبنان بھی مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے ہیں اور ایران اور سعودی عرب کے مابین بھی رابطے بحال ہو گئے ہیں جس سے پائیدار علاقائی اور عالمی امن کے قوی آثار پیدا ہوتے نظر آ رہے ہیں چنانچہ آج پاکستان اندرونی استحکام اور خارجہ تعلقات کی بہترین حکمت عملی کے نتیجہ میں اقوام عالم کی نگاہوں کا مرکز بن چکا ہے او اس کے دشمن بھی اس کی خداداد صلاحیتوں کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن واستحکام اور مکالمے کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے اس حالیہ صورحال میں بھی اس کا کردار نمایاں رہا ہے سب سے پہلے پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر غیر جانبداری کی پالیسی اپنائی اس نے نہ تو کسی ایک فریق کی کھل کر حمایت کی نہ مخالفت بلکہ دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے خاموش مگر مؤثر سفارتی کوششیں جاری رکھیں اس حکمت عملی نے پاکستان کو ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر پیش کیا دوسری جانب پاکستان نے اپنے علاقائی اور عالمی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا چین سعودی عرب اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ قریبی روابط کی وجہ سے پاکستان نے ایک پُل کا کردار ادا کیا جس نے سفارتی سطح پر مثبت نتائج پیدا کئے پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے بھی متوازن اور محتاط بیانات دیئے جن میں جنگ کے بجائے امن کی اہمیت پر زور دیا گیا اس سے عالمی برادری میں پاکستان کا مثبت تاثر ابھرا اور اسے ایک ذمہ دار اور امن پسند ملک کے طور پر سراہا گیا پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے سفارتی کامیابی کے لیے بے مثال جذبے اور لگن اور عزم کے ساتھ کام کیا ان کی محنتیں رنگ لائیں اور امریکہ اور ایران دونوں جنگ بندی پر رضامند ہو گئے جو بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ عالمی میڈیا ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز پر سراہتے ہوئے اسے اہم کامیابی کا نام دے رہا ہے پاکستان نے دوسرے ممالک کے تعاون کے ساتھ عالمی معاشی بدحالی اور تیسری عالمی جنگ کے امکانات کو روک دیا ہے۔ امریکہ’ اسرائیل اور ایران کے مابین ہونے والی جنگ بندی میں پاکستان نے انتہائی مثبت رول ادا کر کے عالمی برادری میں ایک بہتر سفارت کار’ صلح جُو اور پُرامن ملک کے طور پر انیک نیک نامی میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے بلاشبہ جنگ بندی کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی ہے کہ پاکستان نے نہایت خاموش مگر مؤثر سفارت کاری کے ذریعے دونوں متحارب گروپوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے کلیدی رکدار ادا کیا ہے جب دنیا کے بڑے بڑے طاقتور ممالک اس بحران کو سنبھالنے میں ناکام دکھائی دے رہے تھے پاکستان نے اپنی متوازن خارجہ پالیسی’ دونوں ممالک کے ساتھ قابل اعتماد تعلقات اور خطے میں امن کے لیے اپنی سنجیدہ کوششوں کے ذریعے ایک ایسا راستہ نکالا جس نے جنگ کے شعلوں کو وقتی طور پر ہی سہی مگر ٹھنڈا ضرور کر دیا اسلام آباد کو مذاکرات کیلئے منتخب کیا جانا بذات خود پاکستان پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے یہ وہی پاکستان ہے جسے ماضی میں دہشت گردی’ عدم استحکام اور داخلی مسائل کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا آج وہی پاکستان عالمی امن کا داعی اور ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے اسلام آباد میں ایران امریکہ کشیدگی میں کمی کیلئے جو کوششیں پاکستان نے کی وہ بے مثال ہیں اﷲ کرے ایران امریکہ مذاکرات دونوں فریقین کی نزدیکیوں کا ذریعہ بن جائیں اور خطے میں پائیدار امن وسکون قائم ہو جو وقت کی آواز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں