60

پاکستان کی ترقی کیلئے زرعی انقلاب ناگزیر قرار (اداریہ)

قیام پاکستان کے بعد وطن عزیز کو معاشی طور پر چیلنجز کا سامنا رہا تاہم کھیتی باڑی کے میدان میں تجربہ رکھنے والے ہمارے آبائو اجداد نے زرعی انقلاب کے ذریعے اس کا مقابلہ کیا ایک وقت تھا جب پاکستان گندم’ چاول’ کپاس’ چینی’ گڑ’ شکر’ دالیں وغیرہ اور ہر طرح کے پھل وسبزیاں دیگر ممالک کو بھجوا کر قیمتی زرمبادلہ کماتا تھا مگر حالات بدلتے گئے اور آہستہ آہستہ زراعت کے میدان میں ترقی کرنے والا پیارا وطن عزیز گوناگوں مسائل کا شکار ہوتا گیا یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا زیادہ دارومدار اس کے پاس موجود زرعی وسائل پر ہوتا ہے زراعت کسی بھی سوسائٹی کی خوش حالی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے زمین پر انسانی زندگی کے آغاز سے پہلے ہی اﷲ نے اس کرہ ارض پر وہ تمام وسائل رزق پیدا کر دیئے تھے جو قیامت تک آنے والی مخلوقات کے رزق کی ضروریات پورا کرنے کیلئے کافی ہیں کھیتی باڑی کر کے زمین سے ضرورت کے مطابق اجناس اگانا زمانہ قدیم سے چلا آ رہا ہے آج ترقی یافتہ ممالک بھی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کر کے زرعی میدان میں انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں پاکستان کی تقریباً 70فی صد آبادی دیہاتوں میں آباد ہے اور زراعت کے پیشے سے وابستہ ہے لیکن وسائل کی کمی کے باعث اور جدید ٹیکنالوجی جدید مشینری نہ ہونے کے باعث مطلوبہ پیداوار حاصل کرنے سے قاصر ہے نتیجتاً ملک کو مختلف قسم کی اجناس درآمد کرنا پڑتی ہے چاہے وہ دالیں ہوں خوردنی تیل یا گندم اور چاول ہم بجائے برآمد کرنے کے اس کی درآمد پر مجبور ہیں جو لمحہ فکریہ سے کم نہیں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ترقی یافتہ ممالک نے اپنی ترقی کیلئے زراعت پر خصوصی توجہ دی جدید مشینری’ جدید آلات’ جدید ٹیکنالوجی استعمال کر کے کم وقت میں زیادہ پیداوار حاصل کر کے اسکی بدولت زرعی میدان میں ناقابل یقین حد تک ترقی کی اور ان ممالک میں خوشحالی نظر آ رہی ہے اس کے برعکس پاکستان میں زراعت کے شعبہ کو نظرانداز کیا گیا کسان کو ضروری سہولیات کی فراہمی سے نظریں چرائی گئیں اس کو وسائل فراہم نہیں کئے گئے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسان بدحال ہو گیا اور زرعی سیکٹر کی ترقی کا خواب ادھورا رہ گیا یعنی دوسرے لفظوں میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہم زرعی میدان میں نہ صرف پیچھے رہ گئے بلکہ اپنی ضروریات کیلئے اجناس دوسرے ممالک سے منگوانے لگے آخر کیوں؟ بڑا زرعی رقبہ رکھنے والا ملک آج اپنی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دوسرے ممالک کا محتاج نظر آتا ہے زرعی سیکٹر کی تباہ کاری کے پیچھے بہت سے محرکات ہیں جاگیرداری نظام’ بنجر زمینوں کو کاشت کاری کے قابل نہ بنانا’ کسانوں کو وسائل فراہم نہ کرنا ملک کا نہری نظام بھی بااثر افراد کے گرد گھومتا ہے ڈیمز میں پانی کی قلت’ آبی ذخائر کی تعمیر میں سستی’ بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا انتظام نہ ہونا وغیرہ وغیرہ شامل ہیں بدقسمتی سے زرعی ادویات’ کھادیں’ بیج بھی نقلی اور غیر معیاری مارکیٹ میں آ چکے ہیں جن سے زرعی سیکٹر کو بہت نقصان پہنچا ہے ترقی یافتہ ممالک سے لیکر چھوٹے ممالک بھی پانی کو ذخیرہ کرنے کے حوالے سے خطیر رقوم خرچ کر کے اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں مگر ہمارے ہاں ہر سال بارشی پانی سیلاب کی صورت میں ضائع کر دیا جاتا ہے اور کئی دہائیوں سے یہ سلسلہ جاری ہے مگر اس پر کوئی منصوبہ سازی نہیں ہو سکی جو افسوسناک ہے کتنے دکھ کی بات ہے کہ پاکستان جیسے زرعی ملک کو اپنی ضروریات کیلئے بیرونی ممالک سے اجناس درآمد کرنی پڑتی ہے حالانکہ ہم دیگر ممالک کو اجناس برآمد کر کے قیمتی زرمبادلہ کماتے رہے ہیں اگر حکومت چاہتی ہے کہ ملک میں ایک بار پھر خوشحال ہو تو اسے زرعی انقلاب برپا کرنا ہو گا ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالی جائے اور نظام عدل قائم کیا جائے سرمایہ دارانہ اور جاگیردانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر اسکی جگہ عادلانہ اور کسان دوست نظام قائم کیا جائے تاکہ ملک میں زرعی انقلاب لانے میں مدد مل سکے پاکستان کو خودکفیل اور زرعی ملک بنانا ہے تواس کے لیے کسانوں کو سہولیات فراہم کرنا ہونگی وطن عزیز کو زراعت کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ظالمانہ نظام کا گلہ گھوٹنا ہو گا ورنہ ہم اپنی منزل حاصل نہیں کر سکیں گے زرعی زمینوں پر ہائوسنگ سوسائٹیز کے قیام کو روکنا بھی ضرورت ہے زرعی سیکٹر کو ترقی دیکر ہی زرعی انقلاب کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور زرعی انقلاب ملکی خوشحال کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں