4

پاکستان کی سفارتی کامیابیاں (اداریہ)

پاکستان’ سیاسی’ عسکری ادارہ جاتی ہم آہنگی سے دنیا میں سفارتی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے متعدد ممالک کے ساتھ متعاشی تعلقات بہتر ہو رہے ہیں پاکستان نے انڈونیشیا کے ساتھ تجارتی معاہدے کو جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے میں بدلنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں وزیراعظم شہباز شریف پاکستان اور کویت کے سیاسی تعلقات کو سرمایہ کاری’ تجارت اور معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں رقمی اسلامی بنک کو ڈیجیٹل بینکنگ لائسنس کا اجراء پاکستان کویت تعلقات کیلئے بہت اہم ہے اس سے پاکستان میں نجکاری کے شعبے کو فروغ حاصل ہو گا سیاسی تعلقات معاشی تعاون میں تبدیل کرنا اہمیت کا حامل ہے گزشتہ روز کمبوڈین وزیر تجارت نے بھی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی اور معیشت تجارت’ سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون پر زور دیا گیا گزشتہ روز سعودی عرب میں جاری عالمی دفاعی نمائش کے دوران سعودیہ اور پاکستان کی اسلحہ ساز کمپنیوں کے مابین بھی معاہدہ طے پایا جو جدید ٹیکنالوجی سے باہمی دفاعی تعاون کو فروغ دینے سے متعلق ہے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں حالیہ دنوں جو یزی وسعت اور عملی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے وہ اس امر کی مظہر ہے کہ ریاستی قیادت نے بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں قومی مفادات کے تحفظ اور فروغ کے لیے ایک واضح سمت متعین کر لی ہے آسیان ممالک عالمی تجارت میں تیزی سے ابھر رہے ہیں پاکستان اگر ان ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت یا ترجیحی تجارتی معاہدوں کی طرف بڑھتا ہے تو اس سے جاری برآمدی منڈیوں میں تنوع آئے گا اور ہم چند روائتی منڈیوں پر انحصار کم کر سکیں گے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی صنعت میں معاہدہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے جدید ٹیکنالوجی سے لیس اسلحہ ساز کمپنیوں میں شراکت داری نہ صرف دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرے گی بلکہ دفاعی پیداوار کو بھی برآمدی صنعت میں بدلنے کا موقع فراہم کرے گی، عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں بڑی طاقتوں کے درمیان کشمکش’ مشرق وسطیٰ کی صورتحال’ توانائی کی سیاست اور معاشی بلاکس کی تشکیل نو جیسے عوامل چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کے لیے چیلنج بھی ہیں اور مواقع بھی پاکستان اگر بروقت اور دانشمندانہ فیصلے کرے تو وہ ان حالات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون’ خصوصی اقتصادی زونز اور زرعی ترقی کے منصوبے پہلے ہی زیرعمل ہیں اگر ان کے ساتھ مسلم ممالک اور جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ شراکت داری کو بھی مربوط کر دیا جائے تو پاکستان علاقائی اقتصادی مرکز بن سکتا ہے آج جب پاکستان مسلم ممالک کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی روابط کو وسعت دے رہا ہے تو یہ ہماری نظریاتی سمت کا ہی تسلسل ہے اسلامی دنیا اگر باہمی تجارت’ مشترکہ صنعت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کی بنیاد پر آگے بڑھے تو وہ عالمی معیشت میں ایک طاقتور بلاک بن سکتی ہے پاکستان اس میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے بشرطیکہ ہم اپنے داخلی استحکام اور پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھیں سیاسی’ عسکری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی برقرار رہی خارجہ پالیسی میں توازن اور معیشت میں اصلاحات کا عمل جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان عالمی طور پر ایک مستحکم ملک کی صورت میں ابھرے گا آج کا تقاضا ہے کہ ہم باہمی اعتماد قومی اتحاد اور عملی اقدامات کے ذریعے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں