پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تجارتی تعلقات مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں،انڈونیشین سفیر

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے جو صنعت، انفراسٹرکچر، انرجی سیکورٹی ، افرادی قوت اور نئے اکنامک زونز کے ذریعے 7-8فیصد کی گروتھ کیلئے کوشاں ہے۔ یہ بات پاکستان میں تعینا ت انڈونیشیا کے سفیر مسٹر چندرا وار سینتوسوکوٹجو نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں بزنس کمیونٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ملک کی آبادی 270ملین اور جی ڈی پی 1.4ٹریلین ہے جبکہ ترقی کیلئے نئے اہداف مقرر کئے گئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں اپنا قریبی شراکت دار قرار دیا اور اس کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی تجارت پہلے ہی اربوں ڈالر میں ہے جس میں قابل تجدید توانائی ، ڈیجیٹلائزیشن ، پروسیسڈ فوڈ اور پائیدار صنعتوں کے ذریعے مزید اضافہ کی گنجائش ہے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامر س اینڈانڈسٹری کے صدر ریحان نسیم بھراڑہ نے انڈونیشیا کے سفیر اور اُن کی ٹیم کے ارکان کا خیر مقدم کیا اور بتایا کہ فیصل آباد صنعت و تجارت کا اہم ترین مرکز ہے جہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گنجائش ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت تجارتی توازن انڈونیشیا کے حق میں ہے جسے بہتر بنانے کیلئے انڈونیشیا کے سرمایہ کاروں کو یہاں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا کیلئے پاکستان کی برآمدات 2022ء میں 156ملین ڈالر تھیں جو 2024ء میں بڑھ کر 505ملین ہو گئی ہیںجبکہ درآمدات 3.36بلین سے بڑھ کر4.7بلین ہو گئی ہیں۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے چیمبرز کے درمیان رابطوں کو بڑھانے اور تجارتی وفود کے تبادلے پر بھی زور دیا تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارتی پوٹینشل سے بھر پور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ سینئر نائب صدر قیصر شمس گچھا نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ آخر میں ایگزیکٹو کمیٹی ممبر فاروق یوسف نے انڈونیشیا کے سفیر مسٹر چندرا سوکوٹجو کو چیمبر کی شیلڈ پیش کی جبکہ صدر ریحان نسیم بھراڑہ نے انڈونیشیا کے سفیر کو فیصل آباد چیمبر کی گولڈن جوبلی کی پن لگائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں