109

پاکستان کے معاشی اور معاشرتی ترقی میں چراگاہوں کا کردار

تحریر: ڈاکٹر احسان الحق اسسٹنٹ پروفیسر فارسٹری یونیورسٹی آف ایگریکلچر (UAFسب کیمپس بوریوالا )
پاکستان ایک ایسا ملک ہے یہاں زرعی شعبے کو پاکستان کی ریڑھ کی ھڈی کی حثیت حاصل ہے ۔ اور ہماری معاشرتی زندگی میں زراعت کی اہمیت اس بات سے بھی لگائی جا سکتی ہے کہ ہماری معاشی نمو میں زراعت کا ایک کلیدی کردار جوکہ 24% کے قریب ہے ۔پاکستان کی 68 % آبادی براہ راست زراعت سے منسلک ہے ۔جس کی مثال پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری ہے ۔جو ملک کی سب سے بڑی انڈسٹری جو کاٹن پر منحصر کرتی ہے ۔اور 65% کے قریب مختلف اقسام کی ایکسپورٹ کر رہا ہے ۔جس میں بیڈ شیٹ، کمفرٹ، پردے وغیرہ دنیا کے مختلف ممالک کو بھجوا کر خاطر خواہ زرمبادلہ حاصل کر رہا ہے ۔جس کی وجہ سے ناصرف پاکستان کی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل رہی ہے ساتھ ساتھ 45 % مقامی لوگوں کو روزگار بھی مل رہا ہے ۔ پاکستان کی کیش اجناس میں گندم، چاول، گنا، مکء اور کاٹن شامل ہیں پاکستان کے جیو سروے کے مطابق ٠٢٠٢۔١٢ کے مطابق ٢٠٧٦١٩ ملین ٹن گندم ٨٠٩٣٩٧ ملین ٹن مک 8419 ملین ٹن چاول اور ٩٠٠١٨ ملین ٹن گنا شامل ہیں ۔ اور اگر جنگلات کی بات کی جاے تو 2020 کے اعداد و شمار کے مطابق ٠٩١ ملین کیوبیک میٹر لکڑی حصل کی گ ۔جس کی کل لاگت ٩٠٢٢ ملین روپے بنتی ہے ۔پاکستان کا کل رقبہ 491۔79 مربع کلومیٹر ہے ۔پاکستان کو اس خطے میں خاص اہمیت حاصل ہے ۔بنیادی طور پر پاکستان ایک زرعی ملک ہے ۔جس کی آبادی 2023 کی مردم شماری کے مطابق 41۔241 کڑور کے قریب لوگ اس ارض پاک میں بستے ہیں ۔ 24 کڑور عوام کی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہمیں گندم چینی خوردنی تیل اور دالیں اور گوشت کی اشد ضرورت ہے ۔موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ارض پاک کو شادید خطرات سے دوچار ہے اور معاشی وسائل کی کمی نے ہماری ارض پاک کے بسنے والوں کیلئے مذید گمگیر مسائل میں الجھا کر رکھ دیا ہے ۔ آبادی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور زرعی پیداوار میں کمی اور زرعی زمینوں کی شہری آبادی میں تبدیلی کی وجہ سے ہماری بقا کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے ۔امر اس بات کی ہے کہ کس طرع ہم ان تمام مسائل پر قابو پا سکیں ۔ اور کس طرع جو ہمارے پاس، زیر کاشت رقبہ موجود ہے اس کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ ہم معاشی اور معاشرتی طور پر مضبوط ہو سکیں ۔اور ہماری اندرونی اور بیرونی سطح پر زرعی پیداوار کی ضروریات کو پورا کر سکیں ۔تاکہ ہم آپنی برآمدات اور درآمدات میں ایک توازن قائم کر سکیں ۔ اس کے لیے ایک مربوط اور مضبوط حکمت عملی کی ضرورت ہے اور ان تمام مسائل کا علم اور ان کو حل کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئیے ۔اور زراعت کے مختلف سیکٹر میں کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ جس میں سب سے بڑا سکیٹر کاٹن کا ہے ۔جو ملک میں ریڑھ کی ھڈی کی حثیت حاصل ہے ۔ جس سے ہماری ٹیکسٹائل کی صنعت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے جو کہ فاران زرمبادلہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ بدقسمتی سے ہم نے آپنے فارمرز کو نہ تو بہترین سیڈ دینے میں کامیاب ہو سکے اور ناہی کوئی مراعات اور موسمیاتی تبدیلیوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی کیونکہ ہمارے پاس ان موسمی تبدیلیوں سے لڑنے نہ کو تیاری ہے اور نہ کوئی حکمت عملی ۔اور اوپر سے ہماری حکومتوں کی عدم دلچسپی اور سیاسی جماعتوں کے اختلافات نے مکمل طور پر زرعی سیکٹر کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ۔ارض پاک کی کل رقبے کا صرف 5۔4 فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے ۔جب کہ 25 فیصد رقبے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے ۔ جس سے وہ تمام مسائل جن میں ہم دوچار ہیں ۔ ہم نہ صرف معاشی اور معاشرتی مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں ۔ارض پاک کے کل رقبے کا 60 فیصد حصہ ہماری چراگاہیوں پر مشتمل ہے ۔ اور یہ چراگاہیں ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ چراگاہیں ہماری جانوروں کی بقا کے لیے بھرپور انداز سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگر ان کا جائزہ لیا جائے تو یہ پنجاب میں 7۔9 سندھ میں 5۔9 خیبر پختونخواہ میں 7۔5 اور بلوچستان میں 7۔32 ملین ایکٹر پر پھیلی ہوئی ہیں ۔ ان میں سب سے زیادہ زرخیز خیبر پختونخواہ کی ہیں ۔جو 80-60 فیصد چارہ جانوروں کو مہیا کر رہی ہیں ۔ پنجاب کی بات کی جائے تو پھٹوہار کی چراگاہیں زیادہ زرخیز ہیں ۔جس کی وجہ زیادہ بارشیں اور حرارت کی کمی ہے ۔ جس کی وجہ سے سارا سال جانوروں کو چارہ مہیا کرتی ہیں ۔ ہماری زیادہ تر چراگاہیں مناسب دیکھ بھال اور کوئی جانوروں کی زیادہ تعداد اور ہماری عدم توجہی کی وجہ سے بنجر ہو رہی ہیں ۔ اور یہ چراگاہیں صرف 40-30 فیصد اپنا حصہ ڈال رہی ہیں ۔ جو کہ جانوروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہیں ۔ نیشل کمیشن کی 1984 کی رپورٹ کے مطابق ملک میں تقریبا 91 ملین جانوروں کو ہماری یہ چراگاہیں سپورٹ کر رہی ہیں ۔ ایک لوکل سروے کے مطابق پنجاب خیبر پختون خواہ اور آزاد کشمیر کی چراگاہیں %40-30 جانوروں کو اور سندھ اور بلوچستان کی چراگاہیں %80-60 چارہ جانوروں کو مہیا کر رہی ہیں ۔ اسی طرح نیشل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 19 ملین بھیڑیں ان چراگاہیوں پر انحصار کرتی ہیں جو کہ ملک کی %40 بھیڑ بکریوں کے برابر ہے ۔ 2020 کے سروے کے مطابق پاکستان میں ایگرکلچر سیکٹر میں جانوروں کا حصہ %3۔56 فیصد ہے جو کہ تقریبا %11 جی ڈی پی کا بنتا ہے۔ اور اگر جنڈر کے لحاظ سے دیکھا جاے تو یہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنجاب کی %59 دیہاتی خواتین جانوروں کی دیکھ بھال میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں ۔پاکستان کی چراگاہیں اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ یہ نہ صرف معاشی اور معاشرتی مسائل میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ ہمارے موحول کی بائیو ڈاورسٹی کو قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ موسمی تبدیلیوں کی نشاندہی میں بھی اپنا کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں ۔ نیشل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق تقریبا 200 ہزار دیہی گھرانے ان چراگاہیوں پر انحصار کرتے ہیں اور ان چراگاہیوں سے منسلک ہیں ۔امر اس بات کی ہے ہم سب کو اپنی قومی اثاثہ جات کی بہتری کے لیے بھرپور انداز سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور ان مسائل کی طرف توجہ دینا چاہیے ۔جس کی وجہ سے ہماری بقا کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے ۔ ہماری چراگاہیں مسلسل بدانتظامی کی وجہ سے تنزلی کا شکار ہو چکی ہیں ۔پاکستان میں ایگرکلچر سیکٹر کے بعد لائیو اسٹاک ایک ایسا سیکٹر ہے ۔جس میں بہت سارا پوٹشیل موجود ہے ۔اور جس کی ترقی کی بدولت ہم کثیر تعداد میں زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے ۔ اس کے لیے ہم کو اپنی چراگاہیوں کی بہتری کے لیے جدید ترین سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کا سہارا لینا پڑے گا اور اپنی چراگاہیوں کو ایک منظم طریقے اور نظام پر استوار کرنا پڑے گا ۔اس کے لیے ہم کو نئی قسم کے چارہ جات کی قسمیں متعارف کرنے کی ضرورت ہے۔ جو کہ آپنے اردگرد کے ماحول کے مطابق ہوں۔ اور جانوروں کی غزائیت ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی ہوں ۔ اور دوسری طرف جانوروں کی ایسی اقسام جو کے زیادہ سے زیادہ قوت مدافعت کی حامل ہوں۔ امر اس بات کی ہے کہ کس طرع ہم ان تمام مسائل سے چھٹکارہ پا سکتے ہیں اور کس طرع ان کو محفوظ بنا سکتے ہیں ۔ اگر ہم کوشش کریں اور مندرجہ ذیل مندرجات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تو ہم نہ صرف معاشی اور معاشرتی مسائل سے چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ہمارے موحول کی Biodiversity کو بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔کسی بھی نظام کی بہتری اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتی جب تک وہاں کے لوگ اپنی ذمیداری کا احساس نہیں کرتے ۔ اس لیے لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ کمیونٹی کو چاہیے کہ اپنے جانوروں کو چراگاہیوں کی صلاحیت کے مطابق استعمال کریں ۔اور اس وقت چراگاہیں استمال نہ کریں جب وہ بیج لگنے کے قریب ہوں ۔ اپنی چراگاہیوں کو ایک منظم طریقے اور نظام کے ساتھ جانوروں کو چروائی کرے ۔اور جانوروں کو دوسرے علاقوں میں شفٹ کرتے رہے ۔تاکہ وہ دوبارہ بڑہوتی حاصل کرسکیں ۔حکومتی اداروں کو چاہییکہ وہ نئی نسل کے جانوروں کو لوگوں کو مہیا کریں اور چارہ جات کی نئی قسمیں بنائیں جن کی Nutritional Value زیادہ سے زیادہ ہو اور جانور کم خوراک لے کر اپنی ضروت کو پورا کرسکیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہ چراگاہیوں کے قریب جانوروں کے ہسپتالوں کو یقینی بنایا جائے تاکہ بر وقت پر لوگوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر ان کے جانوروں کا علاج ممکن ہو سکے ۔ چراگاہیوں کے اردگرد درخت لگائے جائیں جو موسم گرما اور سرما میں جانوروں کے چارہ کی ضرورت کو پورا کر سکیں ۔پاکستان کے مسائل پر قابو پانے کے لیے ہم سب کو انفرادی سوچ سے نکل کر اجتماعی سوچ کی طرف توجہ دینا پڑے گی ۔ اسی میں ہماری بقا اور کامیابی ہے شامل ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں