37

پاک افغان ترجیحی تجارتی معاہدہ (اداریہ)

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے میں 14اگست سے انگور اڈا کراسنگ پوائنٹ کھولنے’ افغانستان میں مشترکہ سرمایہ کاری پروجیکٹ’ صنعتی پارک اور اکنامک زونز کے قیام سمیت اہم منصوبوں پر اتفاق ہوگیا ہے دونوں ملکوں نے معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں جس پر عملدرآمد 15اگست 2025 سے شروع ہو گا ابتدائی طور پر ایک سال کیلئے مؤثر رہے گا” پہلے مرحلے کے تحت دونوں ممالک کی 4،4 برآمدی اشیاء پر ٹیکس میں نمایاں کمی کی گئی ہے افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کیلئے آئندہ 2ماہ میں حتمی شکل دی جائے گی جس کے لیے آئندہ 15روز میں تکنیکی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق ہوا ہے دونوں ملکوں نے تجارتی نمائشوں کے لیے فوکل پرسن نامزد کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے افغانستان کے نائب وزیر صنعت وتجارت احمد اﷲ زاہد کی سربراہی میں وفد نے پاکستان کا 2روزہ دور کیا اور تجارت’ سرمایہ کاری سمیت اہم مور پر تبادلہ خیال کیا’ جن اہم امور پر دونوں ممالک میں اتفاق ہوا ہے ان میں جامع ترجیحی تجارتی معاہدہ’ افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ’ افغانستان میں مشترکہ سرمایہ کاری پروجیکٹس اور صنعتی پارکوں کے قیام اور افغانستان او رپاکستان میں مشترکہ تجارتی نمائشوں کا انعقاد انگور اڈا 14اگست بھارت کیلئے کھولنے پر اتفاق ہوا ہے،، پاکستان اور افغانستان کے مابین درآمدی اشیاء پر ٹیرف میں کمی کا معاہدہ خوش آئند ہے ٹیرف کی شرح 60 سے 27فی صد تک لانے پر اتفاق پایا جانا تجارتی تعلقات کو عروج پر لیجا سکتا ہے پاکستان اشیاء پر ڈیوٹی کم کرے گا افغانستان ٹیرف کم کرنے کیلئے تیار، یہ اقدام دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے اور خطے میں اقتصادی تعاون بڑھانے کیلئے اٹھایا گیا ہے پاکستان افغانستان سے درآمد کئے جانے والے انگور’ انار’ سیب اور ٹماٹر پر ڈیوٹی کم کرے گا افغانستان پاکستان سے آنے والے آم’ کینو’ کیلے’ آلو پر ٹیرف میں کمی کرے گا جس سے دونوں ملکوں کے عوام کو فائدہ حاصل ہو گا فروٹ کی تجارت کرنے والے بیوپاریوں کو بھی اپنا مال فروخت کرنے کیلئے ایک قانونی راستہ ملے گا تجارتی وسعت سے پاکستان میں سیب’ انار’ انگور ارزاں داموں عوام کو ملیں گے جبکہ افغانستان میں مشترکہ سرمایہ کاری پروجیکٹ’ صنعتی اور اکنامک زونز کے قیام سمیت اہم منصوبوں کے فوائد دونوں ممالک سمیٹ سکیں گے، افغانستان پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور پاکستان نے روس اور امریکہ کی جانب سے افغانستان پر چڑھائی کے بعد افغان مہاجرین کو پناہ دی ان کی میزبانی کی’ افغانستان سے پھل سبزیاں بہت بڑی تعداد میں پاکستان کو سپلائی کئے جاتے ہیں جبکہ پاکستان سے مختلف قسم کا تجارتی سامان افغانستان بھجوایا جاتا ہے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کئی دہائیوں سے جاری ہے تاہم ملکی قوانین کی خلاف ورزی پر پاکستان کی جانب سے تجارتی راستے کی بندش کا فیصلہ کیا گیا اب جبکہ دونوں ملکوں نے ترجیحی تجارتی معاہدہ پر دستخط کر دیئے ہیں لہٰذا اب دونوں اطراف سے تجارتی سامان کی نقل وحمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہو گی کھلے عام تجارت ہو گی جس کے معیشت پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوں گے ضرورت اس امر کی ہے کہ معاہدہ کے مطابق ٹیرف میں کمی اور تجارتی راہ گزر کو ہر لحاظ سے محفوظ بنایا جائے تاجروں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ تجارتی تعلقات کو مستحکم بنانے میں مدد مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں