43

پاک افغان تعلقات مزید مضبوط کرنیکی ضرورت… (اداریہ)

پاک افغان راہنمائوں نے دوطرفہ تعلقات مضبوط کرنے کا اعادہ کیا ہے نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کابل کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں ان کی افغانستان کے عبوری وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں ہوئیں ملاقاتوں میں دوطرفہ مسائل کے حل کیلئے بات چیت مثبت ماحول میں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، امن وترقی کیلئے اقدامات پر اتفاق سکیورٹی اور ٹرانزٹ ٹریڈ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ کسی ملک کی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیے ملاقات میں افغان حکومت سے تجارت کے فروغ پر بھی بات چیت ہوئی سامان کی نقل وحمل کیلئے 2کمپنیاں مختص کر دیں، کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی سامان کی نقل وحمل پر بھی تبادلہ خیال ہوا ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے تجارتی سامان کی نقل وحمل تیز ہو سکتی ہے طورخم بارڈر پر آئی ٹی سسٹم کو جلد بحال کیا جائے گا انہوں نے کہا اب جب ہم تجارت کھول رہے ہیں اور دونوں حکومتیں ملکرسہولتیں فراہم کر رہی ہیں تو پاک افغان تجارت میں اضافہ ضروری ہے جس کے لیے پاکستان ار افغانستان میں تجارتی وفود کا تبادلہ بھی ضروری ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام اور تاجر برادری اس سے فائدہ اٹھائے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کے حوالے سے اصولی فیصلے ہوئے جس میں پہلے نمبر پر یہ کہ افغان شہریوں کو باعزت طریقے سے واپس بھیجا جائے گا جس پر پہلے ہی عمل ہو رہا ہے کیونکہ یہ ہمارا مذہبی فریضہ بھی ہے اور بطور ہمسایہ یہ ہمارا فرض ہے یہی حکومت کی ہدایات بھی ہیں لیکن کہیں اگر کوئی شکایت موصول ہو تو اس پر فوری ایکشن لیا جائے گا اس کیلئے وزارت داخلہ کی جانب سے ہدایات جاری کی جائیں گی اس کا نوٹیفکیشن 48گھنٹے میں جاری کیا جائے گا شکایات کو حل کیا جائے گا کابل روانگی سے قبل اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا معاملہ پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے افغانستان کے ساتھ سکیورٹی ایشوز پر تحفظات ہیں ہمارے لئے پاکستانیوں کے جان ومال کا تحفظ اہم ہے جبکہ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے افغان عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوندزاد سے ملاقات کی جس میں سکیوڑٹی’ تجارتی’ ٹرانزٹ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ملاقات میں عوامی تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ملاقات میں برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کیلئے اعلیٰ سطح تبادلوں کے عزم کا اعادہ کیا گیا،، نائب وزیراعظم’ وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا دورہ افغانستان موجودہ حالات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس وقت جبکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے ٹی ٹی پی اور دیگر کالعدم دہشت گردی تنظیمیں پاکستان میں افراتفری پھیلانے میں مصروف ہیں افغان حکام کے ساتھ اہم حکومتی شخصیات کی ملاقات ضروری تھی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے افغان حکام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان سے افغان شہریوں کو باعزت طریقے سے واپس بھیجا جائے گا جبکہ ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا نائب وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کو اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے لیے استعمال نہ کرانے کے وعدے پر عملدرآمد کرانا ہو گا جبکہ طورخم بارڈر پر آئی ٹی سسٹم کو جلد بحال کرنے پر جلد عمل کیا جا رہا ہے انہوں نے افغان حکام کو یقین دلایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو بڑھانے کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے تجارتی سامان کی نقل وحمل تیز ہو گی نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان کے عبوری وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں اور کابل میں پریس کانفرنس کے ذریعے پاک افغان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا،، پاکستان نے افغانستان کا ہمیشہ اپنا برادر ملک جانا اور اسکی ہر ممکن مدد کی مگر افغانستان پاکستان کے مخالفین کے ہاتھوں سے کھیل کر پاکستان کیلئے مشکلات پیدا کرتا رہا اس وقت بھی افغان عبوری حکومت پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان عبوری حکومت خطے میں امن وسلامتی استحکام کی خاطر پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رکھتے ہوئے پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو دہشت کے لیے استعمال ہونے سے روکے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں