19

پاک افغان تعلقات میں بہتری وقت کی ضرورت (اداریہ)

پاکستان نے طورخم بارڈر غیر قانونی افغان کے انخلاء کیلئے کھول دیا تاہم تجارت بدستور معطل ہے یہ سرحد 20روز بعد کھولی گئی ہے تجارت بند رہنے سے دونوں ملکوں کے تاجر پریشان ہیں سبزیاں پھل خراب ہو رہے ہیں تجارت سے منسلک ادارے پاک افغان کشیدگی کا جلد سے جلد خاتمہ چاہتے ہیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے بعد کشیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے مگر تاحال ابھی ویسے حالات دیکھنے میں نہیں آ رہے جیسے کشیدگی سے قبل تھے! پاکستان اور افغانستان جنوبی ایشیا کے دو اہم ممالک ہیں جن کے تعلقات ہمیشہ سے ایک ایسی لڑی میں پروئے رہے ہیں جس کے رنگ ایک جیسے ہیں مگر معنی مختلف’ بظاہر دونوں ممالک مذہبی’ جغرافیائی اور تہذیبی قربت رکھتے ہیں مگر پس پردہ حقیقتیں کہیں زیادہ پیچیدہ اور تلخ ہیں کبھی سرحدی تنازعات’ کبھی سیاسی مفادات اور کبھی بیرونی طاقتوں کی مداخلت’ ہر موڑ پر یہ تعلقات ایک نئی کروٹ لیتے ہیں خطے میں افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں بظاہر کئی چیزیں بہت سیدھی محسوس ہوتی ہیں مگر اندرونی حقیقتیں بہت تلخ ہیں’ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے بھارت سے ایک ارب ڈالر کے معاہدے کے ذریعے پاکستان کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے اور افغانستان پاکستان کے ساتھ روابط بہتر نہ کر کے بھارت کی طرف جا رہا ہے اور یہ خود اس کے لیے نقصان کا باعث بنے گا افغانستان اور پاکستان کا نظریاتی یا مذہبی رشتہ ہم بھائی ہیں ہمیں متحد رہنا چاہیے دونوں ملکوں کے مابین دوریاں پیدا ہونا افسوسناک ہے، افغانستان کو بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے بجائے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بہتر بنانا چاہیے کیونکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں دونوں کے درمیان بڑے پیمانے پر تجارت ہو رہی ہے ایک روز کی تجارتی بندش سے دونوں ملکوں کے تاجروں کو بے پناہ نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے پاکستان نے کئی دہائیوں تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی مگر افغانوں نے پاکستان سے وفا نہیں نبھائی اور دہشت گردوں کے سہولت کار بنکر پاکستان کیلئے مشکلات پیدا کرتے رہے افغانوں کے اس گھنائونے کردار سے تنگ آ کر پاکستان نے افغانیوں کو افغانستان واپس بھجوانے کا فیصلہ کیا گزشتہ روز 10ہزار سے زائد افغانوں کو طورخم باڈر کے ذریعے افغانستان واپس بھجوایا گیا تاہم ابھی تجارتی گزرگاہ بحال نہیں ہوئی دونوں ممالک میں جنگ بندی کے بعد کشیدگی کافی حد تک کم ہوئی ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت تجارتی راہ گزر کی بحالی کیلئے بھی متفقہ فیصلہ کریں پاکستان کا افغانستان سے مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے لیے استعمال ہونے سے روکے مگر افغان طالبان وعدہ کے باوجود اس مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے میں ناکام رہی تھی اسی بناء پر دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی پیدا ہوئی اب جبکہ سیزفائر ہو چکا ہے تو دونوں ملکوں کی قیادت کو تعلقات میں بہتری کیلئے مؤثر اقدامات کی جانب بڑھنا چاہیے۔ اسی میں دونوں کا مفاد ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں