17

پاک افغان جنگ بندی میں توسیع (اداریہ)

پاکستان اور افغانستان نے مشترکہ طور پر جنگ بندی میں توسیع پر رضامندی ظاہر کی ہے برطانوی خبر رساں ایجنسی نے پاکستان سکیورٹی حکام اور افغان طالبان کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان میں پاکستان نے دوحہ میں ہونے والی بات چیت کے اختتام تک جنگ بندی میں توسیع کی ہے افغانستان میں طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اﷲ مجاہد نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ پاک افغان جنگ بندی میں توسیع کی گئی ہے تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ یہ اقدام پاکستان کی درخواست پر کیا گیا ذبیح اﷲ مجاہد نے مقامی نیوز چینل آریا ناینوز کو بتایا پاکستان سے بات چیت کے لیے افغان طالبان کا وفد دوحہ جائے گا انہوں نے کہا تھا کہ ان مذاکرات کا مقصد جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی لانا ہے یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی میں کمی کیلئے مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوں گے دونوں ملکوں نے 48گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جو گزشتہ روز شام 6بجے ختم ہونا تھی تاہم اسے دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے اختتام تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا،، پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ ہونا ضروری ہے دونوں ممالک کے عوام ایک ہی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں صرف یہی نہیں بلکہ ان کے درمیان رشتہ داریاں’ ثقافتی روابط اور مشترکہ تاریخ بھی موجود ہے سرحدی علاقوں کے قبائل تو دہائیوں تک بغیر ویزا کے ایک دوسرے کے علاقوں میں آتے جاتے رہے ہیں آج بھی لاکھوں افغان شہری پاکستان میں مقیم ہیں جن میں سے بیشتر طویل عرصے سے یہیں کے باسی بن چکے ہیں یہ بات حقیقت ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کا اخلاقی سطح پر ساتھ دیا پاکستان نے افغانستان پر قبضے کی کوشش نہ کی نہ خواہش کی نہ ہی جارحیت کی نیت سے کوئی قدم اٹھایا، پاکستان کے پاس طاقت ضرور ہے کہ وہ افغانستان کو چند دنوں میں زیر کر سکتا ہے لیکن اس کی نیت جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی ہے ویسے بھی جتنے پشتون اُدھر ہیں اتنے ہی ادھر پاکستان میں ہیں، شائد ان سے زیادہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسئلہ طاقت کا نہیں بلکہ پالیسیوں اور پروکیسز کا ہے بعض حلقے افغانستان کو بھارت کی بجاطور پر پراکسی قرار دیتے ہیں اگر کابل بھارت کے زیراثر نہ ہو تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے کی طرح برادرانہ بنیادوں پر بحال ہو سکتے ہیں ماضی میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات خراب ہوئے تو دونوں ممالک نے تجارتی وسفارتی روابط منقطع کر دیئے جو بدستور معلق ہیں لیکن افغانستان کے ساتھ ایسا نہیں ہوا یہاں تک کہ موجودہ کشیدگی کے دوران بھی پاک افغانستان تجارت ایک دن کیلئے بھی بند نہیں ہوئی اگرچہ بعض گزرگاہیں عارضی طور پر بند رہیں مگر 2700کلومیٹر طویل سرحد دونوں طرف کے لوگوں کی آمدورفت مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہی جائزہ لیا جائے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ تنازعہ دراصل سفارتی ناکامیوں اور سیاسی غلط فہمیوں کا نتیجہ ہے کوئی حقیقی جنگ نہیں دونوں ملک ایک دوسرے کے وجود کے لیے خطرہ نہیں بلکہ دونوں کا امن ایک دوسرے سے وابستہ ہے افغانستان اگر بھارت کے اثر سے نکل کر ایک آزاد پالیسی بنائے اور پاکستان داخلی طور پر استحکام حاصل کرے تو خطے کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے دشمنی کی نہیں بھائی چارے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر اس خطے نے مزید جنگیں دیکھیں تو نقصان دونوں کا ہو گا اور فائدہ صرف ان طاقتوں کا ہو گا جو ہمیشہ دوسروں کے تنازعات سے اپنے مفادات کشید کرتی ہیں افغانستان اور پاکستان کے درمیان جو خلیج پیدا کی جا رہی ہے اس کا فوری سدباب نہ کیا گیا تو مستقبل میں ان دیکھے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ملک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں