76

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پر پیشرفت (اداریہ)

پاکستان نے جرمانے سے بچنے کیلئے تعطل کا شکار پاک ایران گیس لائن منصوبہ دو مرحلوں میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا، یہ فیصلہ خوش آئند ہے کیونکہ اس اقدام سے 18ارب ڈالر کے جرمانے سے بچنے کے ساتھ ساتھ ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی، پہلے مرحلے میں ایرانی سرحد سے گوادر تک پائپ لائن بچھائی جائے گی، خصوصی سرمایہ کاری کونسل نے 781 کلومیٹر کی کل پائپ لائن کے پہلے حصے کے طور پر 81کلومیٹر تک بچھانے کے منصوبے کی منظوری دیدی جسے بعد کے مراحل میں نواب شاہ سے منسلک کیا جائے گا، ایران نے پہلے ہی ڈیڈلائن میں ستمبر 2024ء تک توسیع کر دی ہے، پٹرولیم ڈویژن جلد ہی وفاقی کابینہ سے 81کلومیٹر گیس پائپ لائن بچھانے کیلئے انتظامی منظوری طلب کرے گا اور وزارت خزانہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے بورڈ سے مطلوبہ فنڈنگ کا بھی بندوبست کرے گی، ابتدائی طور پر گوادر میں گیس استعمال کی جائے گی اور اگر کسی قسم کی پابندیوں کا سامنا نہ ہوا تو گیس پائپ لائن کو گوادر سے نوابشاہ تک بڑھایا جائے گا، اگر امریکہ نے کسی قسم کی پابندیاں لگائیں تو پاکستان کے پاس اس منصوبے کو ترک کی معقول وجوہات ہونگی اور اس طرح وہ 18ارب ڈالر کے جرمانے اور ثالثی عدالت کی کارروائی سے بچ سکتا ہے، پاکستان تاخیر کا شکار آئی پی گیس منصوبے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اگر اسلام آباد کے حکام مثبت جواب دینے میں ناکام رہے تو تہران بین الاقوامی ثالثی سے 18ارب ڈالر کے جرمانے کا مطالبہ کرے گا، تاہم ایران نے پاکستان کو اپنی قانونی اور تکنیکی مہارت کی پیشکش بھی کی ہے وہ 180 دن کی ڈیڈلائن کے اختتام سے قبل مشترکہ طور پر حکمت عملی کے تحت کام کرے جس کے تحت اس منصوبے کو عملی شکل دی گئی ہے کہ ثالثی سے بچا جا سکے اور ایران پر عائد امریکی پابندیوں کے اثر سے پاکستان محفوظ رہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کو مکمل کرنے پر بھرپور توجہ دی جائے اور اس سلسلے میں تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران منصوبے پر عدم عملدرآمد کو لے کر عالمی عدالت انصاف میں جا سکتا ہے جس سے پاکستان پر جرمانہ لگنے کے خدشہ کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، لیکن اس صورت میں پاکستان اور ایران کے تعلقات بھی شدید متاثر ہونگے، یہی وجہ ہے کہ ایران لچک کا مظاہرہ کر رہا ہے، جبکہ پاکستان نے بھی ایران پر عائد امریکی پابندیوں کے باعث دبائو کو بالائے طاق رکھتے ہوئے منصوبے کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پٹرولیم ڈویژن پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پر کام شروع کرنے کیلئے کابینہ سے منظوری کا منتظر ہے، جبکہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بورڈ کو بھی منصوبے کیلئے فنانسنگ کا پراسیس تیز کرنے کا کہہ دیا گیا ہے، پاک ایران گیس پائپ دو مرحلوں میں مکمل کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے اور اسے اس منصوبہ کی تکمیل کیلئے اہم پیشرفت قرار دیا جائے تو بیجانہ ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں