3

پاک فوج افغا ن دہشتگردوں کا سر کچلنے کیلئے تیار

اسلام آباد (بیوروچیف) وزیر دفاع خواجہ آصف نے اشارہ دیا ہے کہ میرا خیال ہے پاکستان رمضان سے پہلے افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، دہشتگردی کا سلسلہ افغانستان سے رک نہیں رہا اگر وہ صرف تماشائی ہیں تو شریک جرم ہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حتمی وقتنہیں بتا سکتا لیکن یہی کہوں گا جتنا جلدی ہو رسپانس دینا پڑے گا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ تھرڈ پارٹیاں مذاکرات کر رہی ہیں ان کو بھی احساس ہوگا تاخیر کے نقصانات پاکستان کو اٹھانا پڑ رہے ہیں، دہشتگردی کا سلسلہ افغانستان سے رک نہیں رہا اگر وہ صرف تماشائی ہیں تو شریک جرم ہیں، ہم بات کرنے کو بھی تیار ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ دوسرے دن ان کے لوگ پاکستان میں حملہ کر دیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان عبوری حکومت سے کسی نا کسی طریقے سے رابطہ برقرار رہتا ہے، کوئی تجویز نہیں دے رہا لیکن کوئی واپس آنا چاہیں یا کہیں اور بسانا چاہیں تو پھر حل نکل سکتا ہے، وہ خود کہتے ہیں کہ ہم تحریری گارنٹی نہیں دے سکتے ہیں زبانی کہہ سکتے ہیں، وہ چاہتے ہیں خطے میں امن ہو تو تمام ممالک مل کر افغانستان کی گارنٹی دیں تو مالی امداد کا آپشن بھی طے ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی سیاست بذات خود ثبوت ہے کہ انہوں نے لمبا سفر طے کیا ہے، میاں صاحب کا 99، 93میں سیاست پر جو اعتماد سامنے آیا وہ سب نے دیکھا، ہم نے اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ملکی صورتحال میں فوج سویلین حکومت کو سپورٹ کر رہی ہے تو میرا خیال ہے یہ حکومت کا حصہ ہے، دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں فوج کے جوان قربانیاں دے رہے ہیں، یہ واضح ہونا چاہیے سیاسی اور ملٹری اداروں کو شانہ بشانہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہے، دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ ہے اور ہم نے مل کر اسے جیتنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بہترین انداز میں کام کر رہی ہے تمام صوبے ایک پیج پر آ رہے ہیں، کم از کم وفاق اور کے پی حکومت دہشتگردی کے خلاف ایک پیج پر ہوں اس کے علاوہ دست و گریبان ہوتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں