61

پاک چین اقتصادی تعاون قومی ترقی کی کنجی قرار (اداریہ)

وفاقی وزیر برائے ترقی ومنصوبہ بندی احسن اقبال نے پاک چین مضبوط اقتصادی تعاون کو قومی ترقی کی کنجی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک نے پاکستان اور چین کی لازوال دوستی کو سیاسی تعاون سے آگے بڑھ کر سماجی ومعاشی شراکت داری میں تبدیل کر دیا ہے، دیرپا اور پائیدار ترقی کے لیے چین کی اقتصادی اور اصلاحتی کامیابی اور سائنسی منصوبہ بندی ہمارے لئے مشعل راہ ہے گزشتہ روز وفاقی وزیر احسن اقبال سے چین کے ڈویلپمنٹ ریسرچ سنٹر اور سنٹر فار انٹرنیشنل نالج آن ڈویلپمنٹ کے صدر لوبائو نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران احسن اقبال نے زور دیا کہ چین سالانہ تقریباً 2ملین ڈالر کی درآمدات کرتا ہے لیکن پاکستان کا ان میں حصہ کم ہے، چینی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا ہمارا اہم معاشی ہدف ہے ملاقات کے ودران وزارت منصوبہ بندی پاکستان اور چین کے ڈویلپمنٹ ریسرچ سنٹر کے درمیان اشتراک اور تعاون معاہدے پر اتفاق کیا گیا لوبائو نے پاکستان کی برآمدات پر مبنی معیشت بنانے کی حکمت عملی پر اعتماد کا اظہار کیا دریں اثناء پروفیسر احسن اقبال نے بیجنگ میں چین کے نائب وزیر خارجہ سن ویڈنگ سے اہم ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات’ سی پیک فیز ٹو اور بزنس ٹو بزنس تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی چینی نائب وزیر خارجہ نے وزیر منصوبہ بندی کا پرتپاک خیرمقدم کیا جبکہ احسن اقبال نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے چین کی قیادت کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا چینی نائب وزیر خارجہ سن ویڈنگ نے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کیلئے پرعزم ہے انہوں نے کہا پاکستان کے فائیو ایز فریم ورک سے معاشی استحکام اور خود انحصاری کے امکانات روشن ہیں،، سی پیک منصوبہ گیم چینجر منصوبہ اس منصوبہ کو پاکستان کی ترقی کی کنجی قرار دینا درست ہے پاک چین اقتصادی تعاون سے دونوں ملکوں کو بھرپور فوائد حاصل ہوں گے اس منصوبہ نے پاکستان اور چین کی لازوال دوستی کو مزید مضبوط کر دیا ہے وزیر ترقی ومنصوبہ بندی احسن اقبال نے سی پیک کو پاکستان کیلئے انتہائی ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے اس کی بدولت ہم نے نہ صرف معاشی منزل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں بلکہ عالمی تجارت کے حوالے سے خطے کے ممالک کی معاونت اور دنیا میں ایک ابھرتی ہوئی معاشی قوت بن سکتے ہیں سی پیک منصوبہ سے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ’ صنعتی ترقی اور بڑھتی ہوئی تجارت سے بے شمار ملازمتیں پیدا ہوں گی بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلیے منصوبے لگانا بھی شامل ہیں اس سے نہ صرف چین اور پاکستان کو فائدہ ہو گا بلکہ ایران افغانستان بھارت وسطی ایشیا اور خطے پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے یہ منصوبہ چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے ملاتا ہے جس سے چین کو بحیرہ عرب تک رسائی حاصل ہو گی سی پیک منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی بہت کوششیں کی گئیں مگر پاکستان اور چین نے تمام مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور یہ منصوبہ تیزی سے اپنی تکمیل کی جانب گامزن ہے گوادر کی بندرگاہ مکمل ہو چکی ہے گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے اندرون ملک کیلئے پروازوں کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ گوادر بندرگاہ سے خلیجی ممالک کیلئے تجارتی سامان لانے اور لیجانے کیلئے حکمت عملی مرتب کی جا چکی ہے ون دن دور نہیں جب سی پیک منصوبہ کے تحت گوادر بندرگاہ کو عالمی تجارتی مرکز کی حیثیت حاصل ہو گی موجودہ حکومت آئینی دوست چین کے ساتھ مل کر اس گیم چینجر منصوبہ کو جلد مکمل کرنا چاہتی ہے تاکہ اس عظیم منصوبہ کی بدولت پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ پاکستان کو سی پیک منصوبوں سے بہت سی امیدیں ہیں اور اس منصوبہ کے مکمل ہوتے ہی پاکستان پر عالمی طور پر ترقی کے در کھل جائیں گے اور ملک معاشی طور پر مضبوط ہو گا عوام خوشحال اور پاکستان بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کر لے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں