پاک’ چین کا ”سی پیک” تعاون اور تعلقات کو نئی جہت دینے پر اتفاق (اداریہ)

نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورہ بیجنگ کے دوران دونوں ممالک نے پاک چین اقتصادی راہداری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق کر لیا ہے ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بیجنگ میں اعلیٰ سطح کی سفارتی سرگرمیوں کے دوران چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبے کے وزیر لیوہائی شنگ سے ملاقات کی اور اس موقع پر انہوں نے کمیونسٹ پارٹی کی 20 ویں مرکزی کمیٹی کے چوتھے پلینری اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی، دونوں فریقین نے پاک چین دوطرفہ تعلقات کی مستحکم اور مستقبل کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی ٹو پارٹی روابط’ علاقائی صورتحال اور سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کا جائزہ لیا اور اس کے علاوہ سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کو بامقصد اور شایان شان انداز میں منانے پر اتفاق کیا گیا، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے چین کے ایگزیکٹو نائب وزیراعظم ڈنگ شوئے شیانگ سے بھی ملاقات کی، جس میں پاک چین ہمہ موسمی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا چین کے نائب وزیراعظم نے چین کے بنیادی مفادات پر پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہا اور پاکستان کی قیادت وعوام کیلئے نئے سال کی نیک تمنائوں کا اظہار کیا دونوں راہنمائوں نے سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق کیا،، پاک چین سفارتی تعلقات کی 75سالگرہ کو شایان شان طریقہ سے منانے کا فیصلہ خوش آئند ہے، دونوں ملکوں کی لازوال دوستی کو 75سال مکمل ہو گئے اور اس عرصہ میں پاک چین دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی دونوں ملکوں کے تعلقات میں دراڑیں ڈالنے والوں کی تمام تر کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں اور پاک چین دوستی آج بھی قائم ہے چین اور پاکستان کا سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق کیا ہے جو لائق تعریف ہے سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور اقتدار میں چین کے صدر کی طرف سے پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبہ میں 45اب ڈالر سرمایہ کاری کے اعلان سے دنیا بھر میں ہلچ مچ گئی تھی بھارت ومتعدد ممالک تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے تھے کیونکہ یہ ممالک پاکستان کو ترقی یافتہ نہیں دیکھنا چاہتے مگر چین نے کسی ملک کی پرواہ کئے بغیر پاکستان میں سی پیک منصوبے قائم کر کے دوستی کی نئی مثال قائم کر دی سی پیک گیم چینجر منصوبہ ہے اس منصوبہ کے تحت گوادر بندرگاہ کے ذریعے دنیا بھر میں تجارتی مال بھجوانے اور منگوانے کی منصوبہ بندی کی گئی اس اقدام سے گوادر کی بندرگاہ کو عالمی تجارتی بندرگاہ کے طور پر پیش کیا جانا اور علاقے کے ممالک کو اس منصوبے کے ثمرات سے فائدہ اٹھانے کا موقع دینا مقصد ہے پاکستان میں نواز حکومت کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی اقتدار میں آئی اور سی پیک منصوبوں کی رفتار میں سستی آئی بھارت کی طرف سے مسلسل منصوبے کی مخالفت کی چین نے پرواہ نہیں اور یہ منصوبہ موجودہ حکومت کے دور میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ایک کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہے 2030ء تک انشاء اﷲ منصوبہ مکمل ہونے کی توقع ہے جس کے بعد پاکستان دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی قوت حاصل کرے گا چین نے پاکستان کی ترقی کیلئے پاکستان میں سرمایہ کاری کے در کھول دیئے ہیں جن کی بدولت ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں چین نے پاکستان کی سیاسی وسفارتی ہر سطح پر ہمیشہ حمایت کی ہے دنیا اس سے باخبر ہے کہ چین اور پاکستان کی دوستی میں کوئی بھی دیوار حائل نہیں ہو سکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں