پش اپ میں کی جانیوالی غلطیاں

کراچی ( بیو رو چیف )پش اپس کو ایک آسان مشق سمجھا جاتا ہے۔ نہ کوئی مہنگی مشینیں، جم کی ممبرشپ، نہ کوئی بہانے، لیکن پھر بھی، یہ سب سے زیادہ غلط طریقے سے کی جانے والی ورزشوں میں سے ایک ہے۔لوگ روزانہ پش اپس کرتے ہیں اور پھر بھی حیران ہوتے ہیں کہ کیوں ان کے بازو مضبوط نہیں ہوئے، سینہ چوڑا نہیں ہوا اور کیوں ان کے کور ورزش کا حصہ ہی نہیں بن پارہے۔دراصل مسئلہ پش اپس میں نہیں ہے، بلکہ انہیں صحیح طریقے سے کرنے میں ہے، جس کی وجہ سے بازو، سینے اور کور مضبوط نہیں بن پاتے۔پش اپ کے دوران اگر آپ کے ہپس زمین کی طرف جھک جاتے ہیں یا آسمان کی طرف اٹھ جاتے ہیں، تو آپ کا کور کمزور ہو جاتا ہے اور سارا دبا کمر اور کندھوں پر آجاتا ہے، جو کہ نقصان دہ ہے۔ایک اچھے پش اپ میں آپ کا جسم سر سے لے کر ایڑیوں تک سیدھی لائن میں رہنا چاہیے۔ اگر آپ یہ لائن برقرار نہیں رکھ پاتے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کمزور ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایسا ورژن آزما رہے ہیں جو ابھی آپ کے لیے زیادہ مشکل ہے۔اگر آپ اس پوزیشن کو برقرار نہیں رکھ پا رہے، تو اپنے پش اپس کی شدت کو کم کریں جیسے کہ گھٹنے والے پش اپس یا کسی بینچ پر ہاتھ رکھ کر کرنا۔جب آپ کی کہنیاں باہر کی طرف مڑ جاتی ہیں، تو کندھوں پر اضافی دبا آتا ہے اور سینے کی مشق کم ہو جاتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ کہنیاں اپنے جسم کے قریب رکھیں، یعنی تقریبا ً30 سے 45 ڈگری کے زاویے پر۔ یہ پوزیشن زیادہ محفوظ اور کنٹرولڈ ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں