8

پلازہ میں آتشزدگی ،ہلاکتیں14ہوگئیں،تاجروں کا اربوں کا نقصان

کراچی(بیوروچیف) شہر قائد میں گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ سے عمارت مکمل گرنے کے خدشے پر فائر فائٹنگ آپریشن روک دیا گیا، ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے، ہلاکتوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے، 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ 60 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے بتایا کہ گل پلازہ میں مرکزی آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، اور اس وقت کولنگ کا عمل چل رہا ہے، محدود پیمانے پر سرچ آپریشن بھی کیا جا رہا ہے، ہفتے کی رات کو لگنے والی آگ 33 گھنٹے بھڑکتی رہی۔گل پلازہ کی عقبی سائیڈ پر فائر بریگیڈ کی تمام گاڑیوں نے کام بند کر دیا، کیونکہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران عمارت سے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں، عمارت مکمل طور پر خستہ حال ہو چکی ہے اور اس کے گرنے کا خدشہ ہے، اسی لیے فائر فائٹنگ روک دی گئی ہے، صرف ملبے کو ہٹایا جا رہا ہے۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ آگ پر 90 فیصد قابو پایا گیا، عمارت کی حالت مخدوش ہونے پر کام روک دیا گیا،، عمارت گرنے کے خدشے پر فائر فائٹنگ روک دی گئی۔ ڈی آئی جی ساتھ اسد رضا نے بتایا ہے کہ گل پلازہ سے 11 لاشیں مکمل ملی ہیں جبکہ 3 لاشوں کے اعضا ملے ہیں، ملبے تلے سے رات گئے ایک شخص کی لاش کو چھیپا حکام نے نکال لیا جس کی شناخت تاحال نہ ہو سکی ہے۔گل پلازہ کے فائر فائٹنگ اور ریسکیو آپریشن میں پاک بحریہ، سندھ رینجرز، کے ایم سی، ریسکیو سندھ سمیت رضا کار بھی شامل رہے جنہوں نے انسانی زندگیاں بچانے کے لیے اپنی زندگیاں دا پر لگا دیں۔ سانحہ گل پلازہ کے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے لیے ڈپٹی کمشنر ساوتھ نے30افسران پر مشتمل 6 ٹیمیں بنا دی ہیں، کمشنر کراچی کے احکامات پر تمام ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، کراچی : ہر ٹیم میں سربراہ کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکار ہوں گے، ٹیم امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرے گی۔ڈی سی ساتھ کے مطابق ہیلپ ڈیسک پر آنے والے 39 افراد کی لسٹ تیار کی گئی ہے، لاپتہ 31 افراد کی لوکیشن گل پلازہ کی آئی ہے۔ڈی آئی جی ساتھ اسد رضا نے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے حوالے سے بتایا کہ پولیس نے 59 افراد کی مسنگ پر مختلف لوگوں سے رابطہ کیا اور تمام افراد کے ان کی فیملیز سے موبائل نمبر حاصل کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب تک 26 افراد کی لوکیشن گل پلازہ کے پاس ملی، مزید افراد کی لوکیشن کی سکرونٹی کررہے ہیں اور پولیس موبائل نمبرز پر مزید کام کر رہی ہے۔ڈی آئی جی ساتھ کے مطابق گل پلازہ میں 1200 دکانیں تھیں، اس کے اطراف پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے، ریسکیو ٹیموں کے لیے راستے کلیئر رکھے جا رہے ہیں، آگ لگنے کی اصل وجہ کولنگ کے بعد تحقیقات میں سامنے آئے گی۔قبل ازیں ڈپٹی کمشنر کو لوگوں نے شکایات درج کرائی تھیں کہ 56 افراد لاپتا ہیں جبکہ صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق 80 سے 100 افراد عمارت میں موجود ہوسکتے ہیں تاہم ڈی آئی جی ساتھ نے بتایا کہ 59 افراد لاپتا ہیں جن کی تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں۔طبی حکام کے مطابق دھوئیں سے حالت غیر ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا، دو فائر فائٹرز ارشاد اور بلال زخمی ہوئے جو پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں، مجوعی طور پر 30 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 13 برنس سیںٹر، پندرہ اس کے ٹراما سینٹر میں اور دو جناح ہسپتال لائے گئے۔ایدھی فانڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ عمارت میں 55 سے زائد افراد لاپتا ہیں جن کے ورثا نے ہم سے رابطہ کیا ہے، فائرفائٹر اپنی جانوں کی قربانی دیکر آگ بجھانے اور لوگوں کو بچانے کی کوشیش کررہے ہیں، عوام سے گزارش ہے پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں عمارت سے دور ہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کاشف ولد یونس (40 سال)، فراز ولد ابرار (55 سال)، محمد عامر ولد نامعلوم (30 سال)، فرقان ولد شوکت علی (25 سال) سمیت 5 دیگر افراد شامل ہیں جن کی لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔زخمی اور متاثرہ افراد میں حسیب ولد وسیم (25 سال)، وسیم ولد سلیم (20 سال)، دانیال ولد سراج (20 سال)، صادق ولد نامعلوم (35 سال)، حمزہ ولد محمد علی (22 سال)، رحیم ولد گل محمد (25 سال)، فہد ولد محمد ایوب (20 سال)، جواد ولد جاوید (18 سال)، ایان ولد نامعلوم (25 سال)، عبداللہ ولد ظہیر (20 سال)، عثمان ولد اصغر علی (20 سال)، فہد ولد حنیف (47 سال)، زین ولد عبداللہ (23 سال)، نادر ولد نامعلوم (50 سال) اور دیگر شامل ہیں۔تاحال 59 افراد لاپتا، ناموں کی فہرست سامنے آگئی۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کا دورہ کیا اور کہا کہ لوگ یہاں خریداری کرنے آتے ہیں، آج کل شادیوں کا سیزن ہے، کل رات 10بجے کے بعد یہاں آگی لگنے کی اطلاع ملی، ہماری میونسپل اتھارٹیز نے فوری ریسپانس کیا اور مجھے اطلاع دی، 10 بج کر 27 منٹ پر یہاں پہلا فائر ٹینڈر پہنچا، آگ بجھانے کی کارروائی شروع ہوئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ تقریبا 26 فائر ٹینڈرز، چار اسنارکل اور 10 بازر نے حصہ لیا، کے ایم سی کے علاوہ پاکستان نیوی نے بھی اپنا ایک اسنارکل دیا؛ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے بھی 3 آگ بجھانے کی مشینیں آئیں، 22 لوگ زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی گئی، افسوس کی بات یہ ہے کہ 58 یا 60 سے بھی زائد افراد لاپتا ہیں، اللہ تعالی ان کو زندگی دے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ بیسمنٹ گرانڈ اور تین منزلہ عمارت تھی، یہاں تقریبا ایک ہزار سے زائد دکانیں تھیں، جس طریقے سے آگ لگی ہے ابھی حتمی طورپر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کچھ کہتے ہیں کہ کسی ایک دکان میں شارٹ سرکٹ کے بعد یہ آگ لگی اور وہاں ایسا میٹریل موجود تھا کہ جس کی وجہ سے آگ فوری پھیل گئی، فائر فائٹرز کو اندر جانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا، کوشش کریں گے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں، تاجروں کے نقصان کا ازالہ کریں گے۔سی پی ایل سی شناخت پروگرام کی ٹیم نے سول اسپتال ٹراما سینٹر کے باہر کیمپ لگادیا، انچارج عامر حسن کے مطابق متاثرین اپنے لاپتا پیاروں سے متعلق تفصیلات سی پی ایل سی ہیلپ ڈیسک پر فراہم کرسکتے ہیں، شناخت ٹیم سانحات میں جاں بحق افراد کی درست شناخت اور ورثا کا سراغ لگانے کا کام انجام دیتی ہے۔ انچارج کے مطابق ملبے اور عمارت میں اب بھی کئی افراد کی موجودگی کا خدشہ ہے، اب تک 6 لاپتا افراد کے لواحقین نے رابطہ کرکے ان کی تفصیلات جمع کرائی ہیں، سی پی ایل سی پروگرام ناقابل شناخت لاشوں کی ڈی این اے کی مدد سے شناخت کو ممکن بناتا ہے، ماضی میں پی آئی اے طیارہ حادثہ، سانحہ بیلا، نوری آباد اور دیگر میں جاں بحق افراد کی لاشوں کی شناخت اس ہی ٹیم نے ممکن بنائی تھی۔انچارج نے مزید بتایا کہ اب تک 40 افراد ہمارے پاس رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کو ٹیلیفون کرکے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کی تازہ صورتحال دریافت کی۔صدر مملکت نے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران وزیراعلی سندھ کو امدادی کاموں کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت دی۔صدر مملکت نے شہید فائر فائٹر فرقان شوکت کی شجاعت کو سراہتے ہوئے اسے سول ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کا کہا، انہوں نے زخمیوں کی نگہداشت اور متاثرین کے گھروں کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کی بھی ہدایت کردی۔وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سانحہ گل پلازہ پر افسوس کا اظہار کیا، وفاقی حکومت کی جانب سے ہرقسم کی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کردی، وزیراعظم نے کہا کہ دکھ و مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرین اور سندھ حکومت کے ساتھ ہیں۔گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے گل پلازہ کا دورہ کیا، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 70 سے زائد لوگوں کا لاپتہ ہونا المیہ ہے، کوئی نہیں چاہتا آگ لگے اور کسی کا کاروبار تباہ ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں آگ لگنے کے عوامل کو جاننا ہے، گورنر سندھ نے یقین دہانی کرائی کہ جب تک نقصان کا ازالہ نہیں ہوتا میں ساتھ کھڑا رہوں گا۔میئرکراچی مرتضی وہاب نے گل پلازہ کا دوبارہ دورہ کیا جہاں انہوں نے جلنے والی عمارت کا جائزہ لیا، میئر کراچی نے اس دوران امدادی کاموں کو تیز کرنے کی ہدایت کردی۔میڈیا سے گفتگو میں مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ 65کے قریب لوگ لاپتا ہیں، رش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات ہیں، عمارت کے پیچھے سے بھی آپریشن کیا جا رہا ہے، آگ پر مکمل کنٹرول اور کولنگ کا عمل کب مکمل ہوگا، وقت نہیں دے سکتا۔مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے ان کی آمد پر احتجاج کیا اور نعرے لگائے، عوام کی تکلیف کو سمجھتے ہیں۔صدرالیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن رضوان عرفان نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ سے اربوں روپے کا نقصان ہوا، انہوں نے بتایا کہ دکاندار اور ان کے ورکر تاحال عمارت میں ہیں۔صدر الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ آج سوگ میں مارکیٹیں بند رہیں گی اور دکانداروں سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔دریں اثنائ۔کراچی (بیوروچیف) تاجر رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ ایک اندازہ ہے کہ فی دکان میں پچیس سے تیس لاکھ کا سامان تھا اور مجموعی طور پر تین ارب سے زائد کا سامان جل کر بھسم ہوا ہے۔عتیق میر نے بتایا کہ تاجروں نے عید کے لیے سامان خریدا تھا۔ایک اور تاجر مزمل نے کہا کہ اس سانحے میں لوگوں کا کروڑوں اربوں کا مال ضائع ہوچکا ہے، حکومت ان کا ساتھ دے۔واضح ریے کہ گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کو لگے چھبیس گھنٹے گزر چکے ہیں، مگر تاحال ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہوا۔حادثے میں اب تک چھ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ متعدد افراد کے عمارت میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کر کے صورت حال پر بات کی ہے، جائے وقوعہ پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں