لاہور (بیوروچیف) پنجاب حکومت کا احتساب کا عمل مزید موثر بنانے کے حوالے سے فیصلہ سامنے آیا ہے،محکمہ لیبر اور سوشل سکیورٹی اداروں کے اکائونٹس کاآڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے کروایا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی ایمپلائز سوشل سکیورٹی آرڈیننس 1965 میں ترمیم کا بل قائمہ کمیٹی برائے لیبر پنجاب اسمبلی کو موصول ہو گیا ہے بل کے متن کے مطابق محکمہ لیبر کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے کروایا جائے گا جبکہ سوشل سکیورٹی اداروں کے اکانٹس آڈیٹر جنرل پاکستان سے آڈٹ کروائے جانے کا کہا گیا ہے۔ترمیمی متن میں گورننگ باڈی میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے نمائندے کو شامل کرنے اور گورننگ باڈی ممبران کی تعداد چار سے بڑھا کر پانچ کرنے سمیت فنانس کے ساتھ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے نمائندہ کی شمولیت کی تجویز دی گئی ہے۔ترمیم میں قانون کے مطابق متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی شرائط پوری کرنا لازمی قرار دینے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے جبکہ گورننگ باڈی کو چارٹرڈ اکائونٹنٹ یا فرم سے اضافی آڈٹ کرانے کا اختیار ہو گا۔ علاوہ ازیں سوشل سکیورٹی کو خود میڈیکل، ڈینٹل، نرسنگ ، الائیڈ ہیلتھ ادارے قائم کرنے کی اجازت بھی ہو گی، متعلقہ کمیٹی 2 ماہ میں بل پر رپورٹ ایوان میں پیش کرے گی۔




