77

پنجاب حکومت کا گرینڈ ہیلتھ پیکج (اداریہ)

وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبہ کے ہر شہری کو صحت کی عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے گرینڈ ہیلتھ پیکج کا اعلان کر دیا دور دراز علاقوں کے مراکز صحت اور ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کے لیے خصوصی الائونس کی منظوری دے دی وزیراعلیٰ کی زیرصدارت صحت عامہ پر خصوصی پلان پر 3گھنٹے طویل جائزہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا ہر ڈویژن میں صحت کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعلیٰ نے مارچ 2025ء تک صوبے کے تمام بنیادی اور دیہی مراکز صحت میں عالمی معیار کے مطابق خدمات کی فراہمی کا ٹاسک دیا اور جون 2025ء تک پنجاب کے تمام ہسپتالوں کی تعمیر ومرمت مکمل کرنے کی ہدایت کی نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا کی تعمیر جلد شروع کرنے بھکر میں قطری ہسپتال میں کینسر ہسپتال اور راجن پور میں بڑا ہسپتال قائم کرنے کی تجویز بھی اتفاق کیا گیا وزیراعلیٰ نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے دوسرے مرحلے کو جلد مکمل کر کے فعال بنانے کی ہدایت کی اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 46ارب کی لاگت سے پہلے سرکاری کینسر ہسپتال کے پہلے مرحلے کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے وزیراعلیٰ نے نواز شریف کینسر ہسپتال کے پہلے مرحلے میں بستروں کی تعداد کو 100 سے بڑھا کر 150 کرنے کی ہدایت کی پنجاب میں پہلا بون میروٹرانسپلانٹ کا عالمی معیار کے خصوصی ہسپتال کے قیام کی تجویز پر بھی غور کیا گیا پنجاب میں فری انسولین پروگرام کے آغاز سملی ٹی بی ہسپتال کو جنرل ہسپتال میں تبدیل کرنے اور انجیوگرافی سروسز کی آئوٹ سورسنگ سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں ہر ضلع میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت میڈیکل کالج قائم کرنے پر بھی غور کیا گیا 50فی صد طلبا سرکاری میرٹ پر داخل ہوں گے بریفنگ میں بتایا گیا کہ بنیادی اور دیہی مراکز صحت میں ڈیجیٹل ریکارڈ کے لیے ای ایم آر سسٹم کی تنصیب مکمل کر لی گئی ہے،، پنجاب حکومت کا صحت عامہ کے لیے گرینڈ ہیلتھ پیکج بلاشبہ بڑا اقدام ہے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے سیکرٹری ہیلتھ کو ہسپتالوں میں دستیاب سہولتوں اور مریضوں کے رش کا تعین کرنے’ صحت کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے اور خدمات کی فراہمی کی مسلسل نگرانی کا جامع نظام قائم کرنے کی ہدایت خوش آئند ہے پنجاب کی ہر تحصیل میں فیلڈ ہسپتال کی سہولت یقینی بنانے کے اقدام کو بھی سراہا جا رہا ہے’ ہمارے ہاں سرکاری ہسپتالوں کا معیار کم ہوتا جار ہا ہے بنیادی صحت مراکز جو دیہی علاقوں کے عوام کے علاج معالجہ کیلئے قائم کئے گئے ان کے بارے میں بھی عوام کو بہت شکایات ہیں کئی مراکز میں سٹاف کی قلت ہے کہیں زچہ بچہ کے لیے سہولیات کا فقدان ہے دور دراز علاقوں میں قائم بنیادی صحت مراکز پر بااثر افراد نے قبضے جما رکھے ہیں اور وہاں مویشی باندھ رکھے ہیں ادویات خوردبرد کی جا رہی ہیں سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کمی ہے رات کے وقت بنیادی صحت مراکز سمیت تحصیلوں کے ہسپتالوں میں پورا سٹاف موجود نہیں ہوتا اور ایمرجنسی کی صورت میں مریض کے لواحقین کو ضلعی ہسپتالوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبہ کے عوام کی صحت عامہ کے حوالے سے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں انقلابی اقدامات کئے ہیں جن میں سب سے اہم فیصلہ فیلڈ ہسپتال (کلینک آن ویلز) جو مکمل ہسپتال کی شکل میں دور دراز علاقوں کے عوام کو سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔ یہ ہسپتال ان علاقوں میں جاتے ہیں جہاں بنیادی ہیلتھ مراکز موجود نہیں ہیں، پنجاب حکومت کی جانب سے لوگوں کے گھروں تک ادویات کی فراہمی بھی کی جا رہی ہے جو آج سے قبل کسی حکومت کے دور میں نہیں دیکھی گئی وزیراعلیٰ پنجاب نے صرف 100 دنوں میں ان گنت فلاحی کاموں کا اعلان کر کے پنجاب کے عوام کے دل میں گھر کر لیا ہے پنجاب حکومت کا گرینڈ ہیلتھ پیکج ایک اہم منصوبہ ہے جس کے ثمرات صوبہ کے عوام کو بلاامتیاز پہنچانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ان منصوبوں کی کڑی نگرانی کا نظام بھی قائم کیا جائے تاکہ ان کا تسلسل قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی شفافیت پر بھی انگلیاں نہ اُٹھ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں