پنجاب’ معاشرتی برائیوں کیخلاف سخت قانون کی تیاری (اداریہ)

پنجاب میں عادی مجرموں اور معاشرتی برائیوں کے خلاف سخت قانون کی تیاری’ پنجاب حکومت نے مختلف نوعیت کے معاشرتی جرائم اور بدنظمیوں کے تدارک کے لیے ایک جامع قانون کی جلد منظوری کے لیے پنجاب اسمبلی میں پیش کئے جانے کا امکان ہے الیکٹرک نگرانی’ پاسپورٹ وبینک اکائونٹ منجمند کرنے منقولہ جائیداد ضبط کرنے یا غیر منقولہ جائیداد منسلک کرنے اور سفری پابندیوں کی تجاویز صوبائی خلاف ورزی پر 4سال قید’ بھاری جرمانے’ جھوٹی خبریں یا افواہیں پھیلانا بھی قابل کارروائی’ پنجاب کنٹرول آف نارکوٹک سبٹیسیز ایکٹ کے تحت تمام جرائم بھی اس قانون کے دائرے میں شامل’ قانون پورے پنجاب میں نافذ العمل ہو گا،، پنجاب ہسجیپول آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بہیویئر ایکٹ 2026ء کے عنوان کے تحت تیار کئے گئے اس مجوزہ قانون کا مقصد عادی مجرموں کی مؤثر نگرانی اور ایسے اقدامات کی روک تھام کیلئے قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے جو ریاستی رٹ کو چیلنج کریں عوامی امن میں خلل ڈالیں یا معاشرے کو جرائم کی طرف دھکیلیں’ مسودہ قانون کے مطابق صوبائی سطح کی انٹیلی جنس کمیٹی کے کنوینئر سیکرٹری محکمہ داخلہ ہوں گے، انٹیلی جنس کمیٹیاں کم ازکم ہر ماہ ایک مرتبہ اجلاس منعقد کریں گی جس کے لیے کل ارکان کا ایک تہائی کورم ضروری ہو گا ان اجلاسوں کی کارروائی خفیہ تصور ہو گی اور اسے بادی النظر میں درست تصور کیا جائے گا کمیٹیاں عوامی رجحانات اور حساس معاملات پر عوامی ردعمل پر نظر رکھیں گی اقلیتوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کریں گی صوبے ڈویژن یا ضلع میں قائم مذہبی اداروں عبادت گاہوں فلاحی تنظیموں اور نجی اداروں کا ریکارڈ مرتب کریں گی یہ کمیٹیاں پنجاب سکیورتی آف ولزیبل اسٹیبلشمنٹس ایکٹ 2015ء کے تحت اقدامات کی نگرانی کریں گی خاص طور پر کرایہ داروں اور پیٹنگ گیٹس کے بارے میں معلومات کی نگرانی کریں گی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر نظر رکھیں گی ضرورت پڑنے پر امن کمیٹیوں کے قیام کی سفارش بھی کر سکیں گی مجوزہ قانون کے تحت ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کو ایسے اعمال کے خلاف پیشگی کارروائی کا اختیار ہو گا جو ریاستی رٹ کو چیلنج کریں گے یا ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 133 کے تحت عوامی خلل کا باعث بنیں اسی طرح غیر قانونی شراب سازی یا فروخت’ قحبہ خانہ چلانا یا جسم فروشی کی آمدن پر گزارہ کرنا’ خیرات کے نام پر دھوکہ دہی سے چندہ اکٹھا کرنا عوامی مقامات پر فحش یا گالم گلوچ پرمبنی زبان استعمال کرنا خواتین یا کم عمر افراد کو ہراساں کرنا یا فحش حرکات کرنا بھی اس زمرے میں شامل ہوں گی دھونس یا دھمکی کے ذریعے بھتہ وصول کرنا چوری شدہ املاک کی خرید وفروخت’ سوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش یا اشتعال انگیز مواد کی تشہیر’ ہوائی فائرنگ’ جعلسازی’ بلیک مارکیٹنگ’ جعلی کرنسی کا استعمال اور غلط معلومات یا گمراہ کن مواد کی تشہیر بھی اینٹی سوشل بہیویئر قرار دی جائے گی اس کے علاوہ منظم جرائم پیشہ گروہوں میں شمولیت ای کامرس پلیٹ فارمز پر سائبر کرائم اسٹاکنگ’ ووئیورزم آن لائن بلیک میلنگ سائبر بلیئنگ ڈیجیٹل بھتہ خوری’ لینڈ گریننگ اور منشیات کی اسمگلنگ بھی قانون کے دائرے میں آئیں گے قانون کے تحت اگر کسی شخص کے خلاف پولیس آفیسر اے سی’ سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر یا انٹیلی جنس رپورٹ کے ذریعے شکایت موصول ہو تو ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی ابتدائی تحقیقات کے لیے اے سی اور سب ڈویژنل پولیس آفیسر پر مشتمل کمیٹی قائم کر سکتی ہے بعد میں نوٹس جاری ہو گا اور کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنا موقف پیش کرنا پڑے گا،، پنجاب میں معاشرتی برائیوں کے خلاف سخت قانونی کی تیاری صوبہ میں قیام امن’ بھتہ خوری’ جرائم کی لہر پر قابو پانے سوشل میڈیا پر شتر بے مہار کی طرح اشتعال انگیز مواد اپ لوڈ کرنے اور دیگر برائیوں پر قابو پانے کیلئے اہم کردار ادا کرے گا بلاشبہ ہمارا معاشرہ برائیوں میں جکڑا ہوا ہے کہ اسے راہ راست پر لانے کیلئے سخت قانون کی اشد ضرورت ہے اور پنجاب اسمبلی سے اگر یہ قانون پاس ہو گیا تو یہ پنجاب حکومت کی بڑی کامیابی اور صوبہ میں معاشرتی برائیوں پر قابو پانا یقینی ہو جائے گا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قانون کو جلد سے جلد پاس کرایا جائے تاکہ اس کے لاگو ہونے کے بعد معاشرہ کو امن کا گہوارہ بنانے میں مدد مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں