156

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انتظامات کا آغاز

الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے انتظامات شروع کر دیئے ہیں یکم جولائی سے پنجاب میں نئی حلقہ بندیوں کی تشکیل کے احکامات جاری جبکہ صوبہ کی حدود اور انتظامی حد بندیوں کو منجمد کر دیا گیا ہے پنجاب میں یونین کونسل’ میٹروپولیٹن کارپوریشن’ ضلع کونسل سمیت’ تمام سابق حلقہ بندیوں کی حدود کو منجمد کیا گیا ہے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں کیلئے کل 30جون تک تمام اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے یکم جولائی سے حلقہ بندیوں کی تشکیل کیلئے کمیٹیاں بنانے 22جولائی تک ابتدائی حلقہ بندیوں کی تشکیل اور 23جولائی کو ابتدائی فہرست کی اشاعت اور اعتراضات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے 22اگست تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات نمٹانے جبکہ 29اگست کو حلقہ بندیوں کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا یکم ستمبر 2024ء تک پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست جاری ہو جائے گی دسمبر کے دوسرے ہفتے تک بلدیاتی الیکشن متوقع ہیں،، بلدیاتی اداروں کا قیام صوبائی حکومتوں کی آئینی ذمہ داری ہے آئین کے آرٹیکل140 کا مفہوم یہ ہے کہ ہر صوبہ قانون کے مطابق مقامی حکومتوں کا قیام عمل میں لائے گا جنہیں سیاسی’ انتظامی اور مالیاتی خودمختاری حاصل ہو گی بلاشبہ بلدیاتی ادارے مقامی طور پر عوام کے مسائل کے حل میں بہت مفید ثابت ہوئے ہیں سیاسی حکومتوں بالخصوص پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کی تاریخ کوئی زیادہ شاندار نہیں مقامی حکومتوں کے ادارے صرف غیر جمہوری حکومتوں کے دوران تشکیل پائے اور مستحکم ہوئے اور اسکی وجہ غیر جمہوری حکومتوں کی اپنی ضرورت تھی کہ انکی اپنی کوئی سیاسی جماعت نہ تھی اور انہوں نے بلدیاتی نمائندوں مین سے ہی اپنی پارٹی بنانا تھی اب بھی صرف پنجاب اور اسلام آباد میں ہی بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے اور یہاں بلدیاتی اداروں کا فی الحال وجود نہیں، اصولی طور پر تو جمہوری حکومتوں کو مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنا چاہیے مگر ایسا نہیں جب بھی کوئی سیاسی پارٹی وفاق یا صوبوں میں حکومت بناتی ہے تو وہ بلدیاتی اداروں کے منتخب نمائندوں کو اپنے اشاروں پر نچانے کیلئے کوشاں رہتی ہیں بلدیاتی اداروں کے فنڈز ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کے حلقوں میں خرچ کر کے نچلی سطح پر عوام کی فلاح وبہبود کی سکیموں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں کئی دہائیوں سے یہ سلسلہ چل نکلا ہے کہ ہر صوبائی حکومت بلدیاتی نظام کو اپنے مفاد میں ڈھال کر اسے اپناتی ہے تاکہ بلدیاتی نمائندگان کو اپنی حکومت اور اقتدار کی مضبوطی کیلئے زینہ استعمال کیا جا سکے غیر جمہوری حکومتوں کے دور میں بلدیاتی نمائندگان کو مکمل اختیارات حاصل تھے، سابق صدر محمد ایوب خان’ سابق صدر ضیاء الحق’ سابق صدر پرویز مشرف کی غیر جمہوری حکومتوں میں بلدیاتی اداروں کے قیام کیلئے نئے نئے تجربے اور اداروں کو اپنے نام دیئے گئے مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں بلدیاتی الیکشن کرائے گئے مگر ان نمائندگان کو ایک عرصہ تک اختیار ہی نہ مل سکے تھے پی ٹی آئی حکومت میں آئی تو انہوں نے نیا بلدیاتی نظام لانے کا اعلان کیا مگر ان کی حکومت کو مہلت نہ مل سکی اب مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر پنجاب میں حکمران جماعت ہے مگر بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تاحال کوئی سرگرمیاں سامنے نہیں آ رہی ہیں ادھر الیکشن کمیشن نے پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے کیلئے تیاریاں شروع کر دی ہیں نئی حلقہ بندیاں ہونگی یکم ستمبر 2024ء تک پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست جاری ہو جائے گی جبکہ الیکشن کمیشن دسمبر کے دوسرے ہفتے تک الیکشن کرانے کے بارے میں تیار ہے مگر ابھی تک پنجاب حکومت کی جانب سے کوئی پیشرفت نظر نہیں آ رہی ابھی تک پنجاب حکومت نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آئندہ انتخابات کس لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے مطابق ہوں گے؟ انتخابات کے شفاف غیر جانبدارانہ انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں سے پہلے حکومت پنجاب کو مجبور کرے کہ وہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ بابت فوری اور یقینی پیش رفت کرے وزیراعلیٰ پنجاب جہاں اتنے کام کر رہی ہیں وہاں بلدیاتی نظام کی مضبوطی کیلئے بھی اقدامات یقینی بنائیں تاکہ جمہوری نظام کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں