69

پنجاب میں گراں فروشوں سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ (اداریہ)

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گراں فروشی کے خلاف سخت کارروائیوں کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اشیاء خوردونوش پر ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دی جائے گی گراں فروشوں کو صرف جرمانے کافی نہیں بلکہ ان کو عبرت کا نشان بنانے کیلئے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں گراں فروشی پر ان کی 3یوم کیلئے دکانیں سیل کر دی جائیں وزیراعلیٰ نے راولپنڈی میں منعقدہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اضلاع کا دورہ کروں گی اگر کسی بھی جگہ انتظامیہ کی گرفت کمزور پائی گئی تو افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی ہو گی،، وزیراعلیٰ پنجاب کا گراں فروشوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے اس سے اشیاء خوردونوش کے بے قابو نرخوں کو کنٹرول میں لانے کیلئے کی جانے والی انتظامی کوششوں کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے، پورے ملک میں مہنگائی نے بے چارے عوام کی زندگی مشکل بنا دی ہے ہر ہفتہ کو ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے ہفتہ وار رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ مہنگائی میں کمی لانے کے اقدامات ناکافی ہیں اس ہفتے میں بھی 19اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا کم آمدنی والے افراد کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریے ہفتہ وار بنیادوں پر 0.07فی صد کا اضافہ ہوا یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں میں بھی مہنگائی کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رہی پنجاب بھر میں تعمیراتی کام بھی سست ہوتے جا رہے ہیں دگرگوں معاشی حالات نے کاروباری افراد کیلئے کافی دشواریاں پیدا کر رکھی ہیں رہی سہی کسر مختلف قسم کے ٹیکسوں اور بل بجلی وگیس کے بلوں نے نکال دی ہے بے چارے عوام کہاں جائیں؟ بدقسمتی سے صوبہ پنجاب میں تمام اضلاع کی انتظامیہ گراں فروشوں کا قبلہ درست کرنے میں ناکام ہے اشیائے خوردونوش کی سرکاری طور پر مقررکردہ قیمتوں پر صارفین کو کوئی چیز نہیں ملتی یوٹیلیٹی سٹورز جو پسے ہوئے غریب افراد کیلئے روشنی کی کرن کا کام کرتے رہے ہیں ان سٹورز پر موجود اشیاء بھی اوپن مارکیٹ ریٹ پر ہی مل رہی ہیں جس کے بعد یوٹیلیٹی سٹورز عوام کیلئے بے فائدہ بن چکے ہیں دکاندار صارفین کو مہنگے داموں اشیاء فروخت کر رہے ہیں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کا بھی دکانداروں کو کوئی ڈر نہیں رہا اور وہ بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ ہمیں تھوک مارکیٹ سے اشیاء مہنگی ملتی ہیں ہم سستے داموں کیسے فروخت کر سکتے ہیں سرکاری نرخنامے دکانوں پر آویزاں ہوں تو بھی مقررہ نرخوں پر اشیاء دستیاب نہیں ہوتیں وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبہ میں گراں فروشوں پر سخت ہاتھ ڈالنے کے نہ صرف احکامات جاری کر دیئے ہیں بلکہ انہوں نے خود تمام اضلاع میں صورتحال کا جائزہ لینے کا عندیہ بھی دیا ہے جس سے امید بندھ گئی ہے کہ عوام کو ناجائز منافع خوری سے نجات حاصل ہو گی بلاشبہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں اپنی انتظامی گرفت مضبوط رکھی ہوئی ہے اور روزانہ اشیائے خوردونوش کے نرخوں کے بارے میں رپورٹس کا جائزہ لیکر فوری احکامات جاری کرتی ہیں جس کی وجہ سے آٹا مافیا’ چینی کے ڈیلرز اور دیگر اشیاء کی مصنوعی قلت پیدا کر کے دام بڑھانے والے اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہو سکے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو چاہیے کہ وہ پنجاب بھر میں سبزی وفروٹ منڈیوں کے آڑھتیوں کو بھی ناجائز منافع خوری سے روکنے کیلئے انتظامیہ کو آرڈر جاری کریں گراں فروشوں کی دکانوں کو بند کرنے کے فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے ضلعی افسران روزانہ کی بنیاد پر بازاروں مارکیٹوں شاپنگ مالز کے دورے کر کے صورتحال کا جائزہ لیں اوورچارجز کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں