پنجاب کابجٹ آج ‘ترقیاتی سکیموں’ تعلیم و صحت پر توجہ

اسلام آباد (بیوروچیف) پنجاب حکومت مالی سال 2025-26 کے لیے 6ہزار 500 ارب روپے کا سالانہ بجٹ آج صوبائی اسمبلی میں پیش کرے گی۔ وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن بجٹ پیش کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، بلکہ پہلے سے عائد ٹیکسز کی موثر وصولی کو یقینی بنایا جائے گا۔بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں پر خاص توجہ دی گئی ہے، پنجاب کا کل ترقیاتی بجٹ 1240ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جس میں مختلف شعبوں کی ترقی کے لیے ریکارڈ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 470ارب روپے جبکہ جاری اسکیموں پر 535ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی امداد سے 124ارب روپے کے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔بجٹ میں سماجی شعبوں (تعلیم، صحت، فلاح و بہبود) کے لیے 493ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے، اسکول ایجوکیشن کے لیے 100 ارب روپے،ہائر ایجوکیشن کے لیے 39.5ارب ، خصوصی تعلیم کے لیے 5ارب ،نان فارمل ایجوکیشن کے لیے4ارب ،اسپیشلائزڈ ہیلتھ و میڈیکل ایجوکیشن کے لیے 95ارب روپے اور ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ویلفیئر کے لیے 86ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔پنجاب کے بجٹ میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے لیے 335ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے 120ارب ،شہری ترقی کے لیے 120.76ارب ،پبلک بلڈنگزکے لیے 25ارب روپے،توانائی منصوبے کے لیے 7.5ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔پنجاب کے بجٹ میں زراعت کے لیے 80ارب روپے، لائیواسٹاک کے لیے 5 ارب ،فشریز کے لیے 10ارب، وائلڈ لائف، فشریز کو ملا کر 25ارب روپے رکھے گئے ہیں۔بجٹ میں سروسز سیکٹر کے لیے 141.6ارب روپے،گورننس اور آئی ٹی کے لیے 20ارب،ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے 80 ارب، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لیے 38ارب روپے،ائنز اینڈ منرلز کے لیے 1.2ارب اور صنعت، سرمایہ کاری و تجارت کے لیے 12ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا ہے کہ بجٹ میں پسماندہ علاقوں، خاص طور پر جنوبی پنجاب کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ ترقی کا عمل متوازن ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں