پنجاب ہائر ایجوکیشن کا اعلیٰ تعلیم کیلئے5سالہ سٹرٹیجک پلان تیار

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں مستقبل اور پائیدار بنیادوں پر بہتری کیلئے پانچ سالہ سڑٹیجک پلان تیار کیا ہے جس کا آپریشنل پلان آئندہ 2ماہ تک لانچ کر دیا جائے گا۔ یہ بات کمیشن کے چیئر پرسن پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں(ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز ) نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں صنعتکاروں اور بزنس کمیونٹی کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرنے پر فیصل آباد کے کردار کو سراہا اور کہا کہ انڈسٹری اکیڈیمیا کے رابطوں سے بہترین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت تیار کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز کی ہدایت پر اعلیٰ تعلیم میں بہتری کیلئے سٹرٹیجک کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں اس پر عملدرآمد کیلئے سینئر صوبائی وزیر محترمہ مریم اورنگزیب کی قیادت میں ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں جامع سروے کرایا گیا جبکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری کی قیادت میں اس کا آپریشنل پلان تیار کیا جائے گا اور توقع ہے کہ اس کو 2ماہ تک لانچ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے تعلیمی معیار میں بہتری کے موضوع پر اظہار خیال کیا اور کہا کہ اس کیلئے اچھے اساتذہ کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کی ایجادات پر مبنی پائلٹ پراجیکٹس کی کمرشلائزیشن توقعات سے بہت کم ہے۔ اس لئے ہمیں اطلاقی تحقیق پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر اقرار نے کہا کہ سیالکوٹ چیمبر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ نظام کے تحت سمبڑیال یونیورسٹی لے رہا ہے۔ اسی طر ز پر فیصل آباد چیمبر کو بھی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں کی ذمہ داریاں لینی چاہئیں۔ تاکہ ان سے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس (PAC) کامرہ کا ذکر کیا اور کہا کہ وہاں ہنر مند افرادی قوت کو تیار کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے حالیہ فضائی جنگوں میں واضح فتح حاصل کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ فیڈمک میں پاکستان ائیر فورس کا رقبہ ہے وہاں بھی کامرہ ایرو ناٹیکل کی طر زپر تربیتی ادارہ بنانے کی اشد ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر اداروں میں بہتری کیلئے بھی با صلاحیت افراد کی ضرورت ہے جو اِن اداروں کو کامیابی اور ترقی کی انتہا تک پہنچا سکیں۔ انہوں نے نجی شعبہ کو لڑکیوں کیلئے ہاسٹل بنانے کی بھی پیشکش کی اور کہا کہ اس وقت تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے۔ میڈیکل کالجوں میں میرٹ پر 80فیصد طالبات منتخب ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے لڑکیوں اور لڑکوں کے داخلے کی شرح کو 60:40فیصد کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ حکومت کا ایجنڈا ہے کہ ہر ضلع میں یونیورسٹی ہو جبکہ نجی شعبہ میں بھی کئی نئی جامعات بھی کھل رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عزیز فاطمہ یونیورسٹی فیصل آباد کا چارٹر بھی جلد آرہا ہے۔ اس سے قبل مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے کہا کہ پہلے صرف ٹیکسٹائل اس شہر کی پہچان تھی مگر اب یہاں ڈیری، فارما اور آٹو موبائل سمیت دیگر صنعتوں کی وجہ سے شہر تیزی سے بدل رہا ہے ۔ انہوں نے فیصل آباد میں طویل خدمات سر انجام دینے پر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ملک کو زرعی طور پر خود کفیل بنانے کیلئے فیصلہ سازی کے ذریعے آپ نے شاندار کردار ادا کیا ۔ چیمبر کے حوالے سے فاروق یوسف شیخ نے کہا کہ ہمارا کام حکومت اور نجی شعبہ کے درمیان فاصلوں کو کم کر کے معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی چیمبر آئندہ مالی سال کے بجٹ کیلئے تجاویز تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف مسائل کی نشاندہی پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اُن کے حل کیلئے قابل عمل حل بھی پیش کرتے ہیں تاکہ حکومت کی طرف سے 60۔ ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے حوالے سے صدر چیمبر نے کہا کہ نئی یونیورسٹیاں قائم کی جا رہی ہیں جبکہ ڈاکٹر حبیب اسلم گابا اور وحید خالق رامے انڈسٹری اکیڈیمیا رابطوں کیلئے کوشاں ہیں تاکہ اِن جامعات میں ہونے والے تحقیقی اور تخلیقی کام سے صنعتوں کو فائدہ پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ جن جامعات نے اس حوالہ سے چیمبرسے رابطہ کیا ہم وہاں ضرور گئے تاکہ باہمی مشاورت سے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے ڈاکٹر اقرار احمد سے کہا کہ وہ مختلف یونیورسٹیوں کے ڈگری پروگراموں کے بارے میں آگاہ کریں جن سے عملی طور پر صنعتوں کے ذریعے قومی معیشت کو فائدہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری اکیڈیمیا رابطوں کے بغیر روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہوں گے اور اس سلسلہ میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر نے کئی جامعات سے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں تاکہ اِن تعلقات کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔ انہوں نے ایس ایم ای سیکٹر کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اُن کی ترقی کیلئے بھی خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ بلواسطہ طور پر برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔ فاروق یوسف شیخ نے کہا کہ انڈسٹری اکیڈیمیا رابطوں کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے پنجاب کی تمام پبلک اور نجی جامعات کے سنڈیکیٹس میںچیمبرز کے صدور کو لازمی ممبر لیا جائے۔ انہوں نے معاشی پالیسی سازی میں حقیقی نمائندوں کی شرکت پر زور دیا اور کہا کہ صنعتی ترقی کیلئے کاروبار کرنے کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہو ں گی۔ انہوں نے بتایا کہ گنجان آباد علاقوں سے صنعتوں کی منتقلی اور صنعتوں میں نئی تحقیق کے اطلاق کیلئے عملی اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ انہوں نے حصول تعلیم کیلئے باہر جانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پرتشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیں پاکستان میں بھی بین الاقوامی معیار کی تعلیم کا بندوبست کرنا ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کے اداروں میں جانے سے قبل طلبہ کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ اُن کی فکری اور کردار سازی کی جانی چاہیے تاکہ وہ خود کو سب سے پہلے پاکستانی سمجھیں ۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہا اورکہا کہ فیصل آباد چیمبر کا صدر پنجاب ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوشن کے ایڈوائزری بورڈ کا چیئر مین ہے جس سے سروس ڈلیوری سمیت ہسپتالوں کی مجموعی کارکردگی میں بہتری آرہی ہے۔ سوا ل و جواب کی نشست میں نائب صدر انجینئر عاصم منیر ، ایگزیکٹو ممبرز محمد علی ، وحید خالق رامے ، سابق صدر مزمل سلطان ، رانا محمد سکندر اعظم ، میاں محمد طیب ، ڈاکٹر حبیب اسلم گابا ، میاں تنویر احمد ، دانش امتیاز ، محترمہ سلمیٰ امبر ، ڈاکٹر محسن بشیر ، ڈاکٹر ماجد حسین ، ڈاکٹر شوکت علی ، ڈاکٹر اکمل اور دیگر شرکا نے حصہ لیا۔ آخر میں سینئر نائب صدر نوید اکرم شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر فاروق یوسف شیخ نے ڈاکٹر اقرار احمد خاں کو چیمبر کی گولڈن جوبلی تقریبات کے سلسلہ میں خصوصی کالر پن لگائی اور شیلڈ پیش کی ۔ انہوں نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کئے اور شرکا کے ہمراہ گروپ فوٹو بنوایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں