پنیر دماغ کی صحت کیلئے مفید،کیلشیم سگنلز کی ترسیل میں مددگار

کراچی ( بیو رو چیف )پنیر میں کیلشیم اعصابی سگنلز کی ترسیل میں مدد دیتا ہے۔ اگرچہ مکمل نہیں تاہم پنیر کچھ حد تک دماغ کی طبی حفاظت میں مدد دے سکتی ہے۔پنیر میں چند ایسے اجزا ہوتے ہیں جو دماغی صحت سے جڑے ہیں جیسے: وٹامن B12: اعصابی خلیات کے لیے ضروری ہے، یادداشت اور توجہ میں مدد دیتا ہے۔ پروٹین اور امینو ایسڈز: دماغی کیمیکلز بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔کیلشیم: اعصابی سگنلز کی ترسیل میں مدد دیتا ہے۔ صحت مند چکنائیاں: دماغی خلیوں کی ساخت کے لیے اہم ہے۔ کچھ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ معتدل مقدار میں ڈیری مصنوعات استعمال کرنے والے افراد میں عمر کے ساتھ ذہنی کمزوری کا خطرہ قدرے کم ہو سکتا ہے۔خیال رہے: تاہم زیادہ پنیر میں سیر شدہ چکنائی اور نمک زیادہ ہو سکتے ہیںحد سے زیادہ استعمال دل کی بیماری کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے، جو بالواسطہ دماغ پر بھی اثر ڈالتی ہے۔محققین نے جرمنی میں واقع ایک قرونِ وسطی کے گاں میں اپنی نوعیت کی پہلی اجتماعی قبر دریافت کر لی ہے، جس میں طاعون (بلیک ڈیتھ) سے ہلاک ہونے والے ہزاروں افراد سے متعلق اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔اس دریافت کو یورپ میں طاعون سے ہونے والی اموات کے باقاعدہ مدفن کی تاریخی طور پر پہلی نشاندہی قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق 1346 سے 1353 کے درمیان پھیلنے والی بلیک ڈیتھ کی وبا کے نتیجے میں یورپ کی تقریبا نصف آبادی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔ اگرچہ تحریری تاریخی ریکارڈز میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ جرمنی کے شہر ارفرٹ کے باہر بڑے گڑھوں میں تقریبا 12 ہزار افراد کو دفن کیا گیا تھا، تاہم ان قبروں کے درست مقامات طویل عرصے تک نامعلوم رہے۔اب ایک بین الشعبہ جاتی تحقیقی ٹیم نے تاریخی دستاویزات، زمینی پیمائشوں اور سیڈیمنٹ کور کے تجزیے کی مدد سے 14ویں صدی کے تحریری ریکارڈز میں بیان کردہ طاعون کے گڑھوں جیسے مدافن کی نشاندہی ممکن بنائی ہے۔لیپزگ یونیورسٹی کے جغرافیہ دان مائیکل ہائن کے مطابق تحقیق کے نتائج اس بات کی مضبوط شہادت فراہم کرتے ہیں کہ ماہرین نے ارفرٹ کرونیکلز میں بیان کی گئی طاعون کی اجتماعی قبروں میں سے ایک کو کامیابی سے شناخت کر لیا ہے۔دریں اثناء کراچی ( بیو رو چیف )عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی تنزلی کی رفتار بڑھ جاتی ہے مگر درمیانی عمر میں ایک عام عادت کو اپنا کر آپ اس کی روک تھام کرسکتے ہیں۔یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔جرنل آف اسپورٹس اینڈ ہیلتھ سائنس میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ورزش کے ایک سادہ مگر مستحکم معمول کو اپنا کر دماغ کو حیاتیاتی طور پر جوان رکھنے میں مدد ملتی ہے۔یعنی مضبوط یادداشت اور دیگر دماغی افعال عمر میں اضافے کے ساتھ متاثر نہیں ہوتے، بلکہ زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو افراد ایروبک ورزشوں کو معمول بنا لیتے ہیں، ان کا دماغ اصل عمر سے زیادہ جوان محسوس ہوتا ہے۔ایروبک ورزشیں تیز رفتاری سے چہل قدمی، دوڑنے، تیراکی، سیڑھیاں چڑھنے اور سائیکل چلانے جیسی سرگرمیوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ان ورزشوں سے دل کی دھڑکن کی رفتار تیز ہو جاتی ہے جبکہ سانس پھول جاتی ہے، جس سے دل اور نظام تنفس سے جڑی صحت بہتر ہوتی ہے۔اس تحقیق میں 26 سے 58 سال کی عمر کے 130 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا اور انہیں معتدل سے سخت ایروبک ورزشیں کرنے یا معمول کے مطابق زندگی گزارنے کی ہدایت کی گئی۔ہر ہفتے تک وقت تک ویڈیو گیمز کھیلنا صحت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے؟ورزش کرنے والے گروپ میں شامل افراد کو ہر ہفتے 2 بار 60 منٹ تک ورزش کے سیشنز کا حصہ بنایا گیا تاکہ ہر ہفتے جسمانی سرگرمیوں کا دورانیہ 150 منٹ تک پہنچ سکے۔ایم آر آئی اور کارڈیو فٹنس کا تجزیہ تحقیق کے آغاز اور ایک سال بعد اس کے اختتام پر کیا گیا۔ایک سال کے دوران ورزش کرنے والے گروپ میں شامل افراد کی دماغی عمر میں کمی دیکھنے میں آئی جبکہ دوسرے گروپ میں شامل افراد کی دماغی عمر معمولی سی بڑھ گئی۔مجموعی طور پر ورزش والے گروپ کے افراد کی دماغی عمر میں اوسطا 0.6 سال کی کمی آئی جبکہ دوسرے گروپ کے افراد کی دماغی عمر 0.35 سال بڑھ گئی۔محققین نے بتایا کہ بظاہر یہ فرق معمولی محسوس ہوتا ہے مگر سابقہ تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ دماغی عمر میں معمولی اضافہ بعد کی زندگی میں صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ درمیانی عمر میں دماغ کو جوان رکھنے کی کوشش شروع کرنا بہت اہم ہے۔اس سے قبل نومبر 2024 میں سویڈن کے کیرولینسکا انسٹیٹیوٹ کی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ درمیانی عمر میں زیادہ ایروبک ورزشیں کرنے سے دماغی تنزلی سے خود کو بچانے میں مدد ملتی ہے۔اس تحقیق میں 39 سے 70 سال کی عمر کے 61 ہزار سے زائد ایسے افراد کو شامل کیا گیا تھا جو ڈیمینشیا سے محفوظ تھے۔ان افراد کی کارڈیو فٹنس کو 2009 اور 2010 میں جانچنے کے لیے ٹیسٹ کیا گیا اور ساتھ میں دماغی افعال اور جینیاتی خطرے کا تجزیہ بھی کیا گیا۔اس کے 12 سال بعد ان افراد کی صحت کا دوبارہ جائزہ لے کر دیکھا گیا کہ فٹنس اور دماغی تنزلی کے درمیان تعلق کتنا مضبوط ہے۔نتائج سے معلوم ہوا کہ 20 اور 30 سال سے زائد عمر کے افراد کی کارڈیو فٹنس اچھی ہو تو 70 سال یا اس سے زائد عمر کے بعد ڈیمینشیا کا خطرہ 20 فیصد سے زیادہ کم ہو جاتا ہے۔محققین نے بتایا کہ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ جسمانی فٹنس دماغ کے لیے بھی فائدہ مند ہوتی ہے اور دماغی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کارڈیو فٹنس سے دماغ کے تیزی سے سوچنے کی صلاحیت بھی بہتر ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں