77

پودوں کا ونگ کمانڈر ……

تحریر … میاں محمد آصف
جیسے ہی ہم پشاور سے نکلے تو ترناب ، گلشن اقبال نرسری اور ہستم خاں کی تکون کا ہر کونہ اپنی طرف کھینچنے لگا – پشاور سے دس کلومیٹر جی ٹی روڈ پر ترناب آتا ہے جہاں 1908 میں ہارٹیکلچررسٹ نے دو سو ایکٹر پر زرعی فارم قائم کیا تھا جس کی اس دور اندیشی کو آج ہماری ہوشیاری مات دینے پر تلی ہوئی ہے – نوشہرہ جاتے ہوئے گلشن اقبال نرسری اسی علاقہ میں دائیں ہاتھ واقع ہے نرسری کیا ہے محنتوں اور جدتوں کا جہاں ہے زمین جس کی چہار آسمان ہے نرسریوں کے عموم میں یہ ایک خصوص ہے جہاں تازگی سے بڑھ کر مشاطگی ہے نمو سے بڑھ کر نمود ہے اور رنگوں سے بڑھ کر رنگا رنگی ہے یہیں پر ایک سعادت مند فرزند کی طرح ہستم خاں سرکاری نوکری کو لات مار کر والد گرامی کی مسند سنبھالے پھول پھلواڑی کی زیب وزینت میں مصروف ومگن ہے کہ یہی اس کا گگن ہے -ہستم خاں پشاور یونیورسٹی سے ایم اے جنرلزم کی ڈگری رکھتا ہے ایگریکلچر میں ڈپلوما ہولڈر اور آسٹریلیا سے نرسری مینجمنٹ میں تربیت یافتہ جب بولتا ہے تو اس کے پودے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ۔
خیال کی کلیاں اور افکار کے پھول اس کی معلومات کے برگ وبار میں چاہت بھرے لہجے کی راحت میں قلب وذہن کی تراوٹ کا اہتمام کرتے جارہے تھے ہستم خاں حالات کی تلخیوں ، رشتوں کی نزاکتوں ، پودوں کی دنیا کی حیرتوں اور انسانی سرشت کے خار زاروں پر یکسانی روانی سے بول رہے تھے بول کیا رہے تھے تلخابہ حیات تول رہے تھے – انکی گفتگو میں سب کچھ تھا قوم کا مرثیہ بھی اور حکمرانوں کا نوحہ بھی – نہی تھا تو خود کا قصیدہ نہیں تھا مگر دوسروں کے لیے اپنی پسند کی وارفتگی ضرور تھی – اپنے شعبہ میں مہارت کا پیکر ، اپنی ذات میں انجمن اور سادگی کا نشیمن ہستم خاں قوم کے درد کا درماں ڈھونڈ رہا تھا پر راضی بہ رضا بھی تھا پودوں اور ان کی برداشت ونگہداشت کے بارے میں اپنی تصدیق پر میرے ہمرکاب بھی مطمئن تھے اور نئے افق دریافت ہونے پر مسرور بھی ۔
گلشن اقبال نرسری اور ہستم خاں کے حصار سے نکلنا آسان نہیں – واپسی پر یادوں کے پھول دوستی کے گلشن کو مہکاتے رہے – یہ پھول ان پودوں کے تھے جو اس وقت کے ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ نے ہستم خاں کے ساتھ مل کر لگائے تھے- پولیس سکول آف انویسٹی گیشن حیات آباد پشاور سے لے کر سکول آف پبلک ڈس آرڈر اینڈ رائٹ مینجمنٹ طورومردان تک ، درمیان میں ٹریننگ سکول صابی ، ٹریننگ سکول سوات ، پولیس سکول آف انٹیلیجنس ایبٹ آباد اورپولیس سکول آف ایکسپلوسیو ہینڈلنگ نوشہرہ کے پڑائو بھی آئے اور سی پی او کے گل وگلزار بھی – کہاں کہاں ہستم خاں نے سبزہ نہیں بچھایا ، پودے نہیں سجائے اور پھول نہیں کھلائے – میں سوچنے لگا ہستم خاں تم نہیں بدلو گے – تم کتنی آہستگی سے دل کے گلشن کو پانی دینے کے بہانے نئے بیج بو دیتے ہو ۔ تمہارے خلوص کی فصل ایسے ہی تو نہیں ہر وقت پر بہار رہتی – ہاں ہستم خاں تم نہیں بدلو گے سنا تم نے کہ تم خود غرضی کے اس سمندر میں ایک کمیاب نہیں نایاب جزیرہ ہو قناعت کا ، محبت کا ، سکون بھری سکینت کا – تمہارے بغیر تو اگلے جہان میں بھی گذارہ نہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں