پولیس چیئرمین سنی اتحاد کونسل حامد رضا کو گرفتار کرنے میں ناکام

فیصل آباد (آن لائن ) سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین وممبرقومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا کو پولیس گرفتار کرنے ناکام، مدرسے کے طلبا ڈھال بن گئے’ پولیس کی گاڑیاں دیکھ کرمدرسے کے دروازے بند کردیئے گئے، حکومت مذاکرات نہیں چاہتی فیصلے سڑکوں پر ہوں گے، مذاکرات کی ناکام کی ذمہ دار حکومت ہے، صاحبزادہ حامدرضا کی میڈیا سے گفتگو۔ آن لائن کے مطابق گذشتہ روزسنی اتحاد کونسل کے چیئرمین وممبرقومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا کی فیصل آباد آمد کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری گرفتار کرنے جامعہ رضویہ مدرسہ جھنگ بازار پہنچ تو مدرسہ کے طلبا نے دروازے بند کردیئے اور مدرسے سے باہر آگئے اور احتجاج شروع کردیا۔ یارہے کہ9مئی کو فیصل آباد میں فوج کے احساس دفتر پر حملہ کے مقدمہ میں مرکزی ملزمان میں سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین وممبرقومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا کانام شامل ہے اور مقدمہ اشتہاری ہیں تاہم پولیس طلبا احتجاج اور حالات خراب ہونیکے پیش نظرحامدرضا کو گرفتار نہ کرسکی۔ آن لائن کے مطابق بعدازاں سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین وممبر قومی اسمبلی ترجمان اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی صاحبزادہ حامد رضانے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان نہ کیا تو چوتھی میٹنگ نہیں ہو گی،موجودہ حالات سے مذاکرات میں تلخیاں پیدا ہوں گی۔ 31جنوری سے آگے مذاکرات نہیں جائیں گے۔ مذاکرات کی ناکامی پر سڑکوں پر احتجاج ہو گا، القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ پاکستان کی عدالتی تاریخ پر ایک اور بدنما داغ ہے۔ سپریم کورٹ میں ایک دو سماعتوں میں یہ کیس اڑ جائے گا،مسلم لیگ نون نے کالعدم تنظیموں کو تحفظ فراہم کیا جاتا رہا اور کالعدم تنظیموں کے رہنمائوں کو پنجاب پولیس کی طرف سے سکیورٹی دی جا رہی ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا القادر ٹرسٹ کیس پر پنجاب حکومت اور وفاق کی طرف سے طوفان بدتمیزی مچایا گیا۔ ایک شخصیت نے کہا کہ مذہبی کارڈ استعمال کیا جا رہا ہے۔ کسی نے کہا کہ وہاں طلبا کارٹون دیکھتے ہیں۔ یہ عناصر خود لوگوں کی خفیہ ویڈیو بنا کر بلیک میل کرتے ہیں۔ اس کیس کی چار بار نوعیت تبدیل کی گئی۔ پہلے کہا یہ 190 ملین پاونڈ کا کیس ہے۔ پھر اس کا نام القادر کیس ہو گیا اور پھر کرپشن کا کیس کہا۔ آخرکار جو فیصلہ آیا اس میں اختیارات سے تجاوز کا کیس بنایا گیا۔ اس میں کسی طور پر بھی کرپشن نہیں کی گئی۔ بانی پی ٹی آئی یا اہلخانہ نے کوئی مفاد حاصل نہیں کیا۔ انگلینڈ سے رقم سپریم کورٹ کے اکانٹ میں آئی اور پھر سرکاری خزانے میں گئی جس پر یہ سود بھی لیتے رہے۔ صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا ایک نوٹنکی نے نصاب میں سیرت النبی شامل نہ ہونے کا پراپیگنڈا کیا۔عدالتی فیصلے میں لکھا گیا کہ وفاقی حکومت القادر ٹرسٹ کو تحویل میں لے لیکن پنجاب حکومت جو اپنے ادارے تو چلا نہیں سکی، وہ اس پر قبضہ کرنے کے لئے دوڑ پڑی۔ القادر یونیورسٹی سے طلبا کو بھونڈے طریقے سے بے دخل کیا گیا۔ یہ مال مفت دل بے رحم کے عادی ہو چکے ہیں۔ ترجمان اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی کا کہنا تھا وزیراعظم کو وسوسے آ رہے ہیں اور اب ان کے وسوسوں میں پڑنے کا وقت آ گیا ہے۔ مذاکرات کی ناکامی پر ہم سڑکوں پر بھرپور احتجاج کریں گے اور اب چھبیس نومبر کی طرح گولیاں نہیں چل سکیں گی بلکہ بہت بڑے پیمانے پر ہو گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا آرمی چیف سے کسی کے چار گھنٹے کے مذاکرات نہیں ہوئے۔ صرف سسپنس پیدا کرنے کے لئے ایسی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ مذاکرات اپنی جگہ پر ہو رہے ہیں۔ حکومت کے پاس کوئی اختیارات نہیں۔ ہم کوئی ریلیف نہیں مانگ رہے۔ ایک سابق وزیراعظم تو راتوں رات طیارے پر بیٹھ کر ملک سے باہر بھاگ گیا تھا۔ ہم تو کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن کے کردار کی اصلاح کی جائے۔ سب کو پتا ہے مسلم لیگ نون کو کیسے اور کون اقتدار میں لایا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں