پٹرولیم مصنوعات کے شعبے میں بے ضابطگیاں افسوسناک

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) مسلم لیگ ن مینارٹیز ونگ پنجاب کے صدر سینیٹرسردارخلیل طاہرسندھو نے پٹرولیم شعبے میں2050ارب سے زائد کی بے ضابطگیوں کے انکشاف پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم ڈویژن سرکلرڈیبٹ کے مسئلے کے فوری حل کرنے کیلئیعملی اقدامات کرنے چاہئیں۔پائپ لائن پروجیکٹس کی تکمیل کے لئے مناسب فورمز پر اٹھایاجائے اوراوجی ڈی سی ایل اہم منصوبوں میں تاخیر کے خلاف نشان دہی کی ضرورت ہے-ان کاکہناتھاکہ اڈیٹرجنرل کی آ ڈٹ رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم کے شعبے میں 2 ہزار 50 ارب روپے سے زائد کی سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ انٹر کارپوریٹ سرکلر ڈیبٹ کا حل نہ ہونے سے1427 ارب کے واجبات جمع ہوئے۔ 350 ارب کے جی آئی ڈی سی فنڈز ٹرانس نیشنل پائپ لائنز کے لیے استعمال نہیں ہوئے، سوئی گیس کمپنیوں سے 69 ارب روپے کی وصولیوں میں ناکام رہی۔انہوں نے کہا کہ سوئی نادرن نے آر ایل این جی کو گھریلو سیکٹر کی طرف منقتل کر دیا، ونٹر لوڈ مینیجمنٹ کی خلاف ورزی کے سبب 53 ارب روپے جبکہ گیس فیلڈز میں کمپریشن آلات کی تنصیب میں تاخیر سے 44 ارب کا نقصان ہوا۔انہوں نے وزیراعظم میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے بجلی سمیت پٹرولیم میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی اعلی سطح پر تحقیقات کروائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں