پٹرول کی قیمت میں اضافہ کا امکان

اسلام آباد (بیوروچیف) عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کے باعث ہائی اسپیڈ ڈیزل، پٹرول اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں 6روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکس ڈپو پیٹرول کی قیمت میں 5 سے 6 روپے فی لیٹر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو 15 جنوری کے حتمی حساب کتاب پر منحصر ہے، مٹی کے تیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 2 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا تخمینہ گزشتہ ہفتے امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل اور توانائی کی برآمدات پر سخت پابندیوں کی دھمکیوں کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں واپسی کے بعد لگایا گیا تھا، اس کے بعد سے برینٹ کی قیمتوں میں ایک سے دو ڈالر فی بیرل تک کا اضافہ ہوا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 15روز کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں ایچ ایس ڈی اور پیٹرول کی اوسط قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، جب کہ مٹی کے تیل کی ایکس ریفائنری قیمت میں بھی اضافہ ہوا، پیٹرول اور ڈیزل پر درآمدی پریمیم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ایکسچینج ریٹ عام طور پر مستحکم رہا۔تازہ ترین تخمینے کے مطابق آئندہ 15 روز کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 50 پیسے سے 6 روپے 50 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 50 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافہ ہوسکتا ہے۔اوگرا کے عہدیدار نے بتایا کہ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کو ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن (آئی ایف ای ایم) کے اندر ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔ایکس ڈپو پیٹرول کی قیمت 252روپے 66پیسے اور ڈیزل کی قیمت 258روپے 34پیسے فی لیٹر ہے، مٹی کے تیل کی سرکاری قیمت 162 روپے 95 پیسے ہے، 31 دسمبر کو حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 56 پیسے اور 2 روپے 96 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔پیٹرول بنیادی طور پر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور دو پہیوں والی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، اور یہ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ٹرانسپورٹ کا زیادہ تر شعبہ ایچ ایس ڈی پر چلتا ہے، اس کی قیمت کو افراط زر سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ یہ زیادہ تر بھاری نقل و حمل کی گاڑیوں، ٹرینوں اور زرعی انجنوں جیسے ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلوں اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے، جس سے سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔حکومت پیٹرول اور ایچ ایس ڈی پر تقریبا 76روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے، اگرچہ تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) صفر ہے، لیکن حکومت دونوں مصنوعات پر 60روپے فی لیٹر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی وصول کرتی ہے جو عام طور پر عوام کو متاثر کرتی ہے۔حکومت پیٹرول اور ایچ ایس ڈی پر تقریبا 16روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی وصول کرتی ہے، قطع نظر اس کے کہ ان کی مقامی پیداوار یا درآمدات کچھ بھی ہوں، اس کے علاوہ آئل کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کی جانب سے دونوں مصنوعات پر تقریبا 17روپے فی لیٹر ڈسٹری بیوشن اینڈ سیل مارجن وصول کیا جاتا ہے۔دوسری جانب لائٹ ڈیزل اور ہائی آکٹین بلینڈنگ اجزا پر 50روپے فی لیٹر چارجز وصول کیے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ آئل کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کی جانب سے دونوں مصنوعات پر تقریبا 17 روپے فی لیٹر ڈسٹری بیوشن اینڈ سیل مارجن وصول کیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں