پٹرول کی قیمت میں اضافہ کا امکان

اسلام آباد (بیوروچیف) عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے 30جون کو ختم ہونے والے اگلے پندرہ دن تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب تقریبا ایک روپے اور 5روپے فی لیٹر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق موجودہ ٹیکس کی شرحوں کی بنیاد پر باخبر ذرائع نے بتایا کہ 15جون کو حتمی حساب سے پیٹرول کی ایکس ڈپو قیمت میں تقریبا ایک روپے فی لیٹر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) میں 5روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔اس وقت ایکس ڈپو پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 252.63روپے ہے۔ پیٹرول زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور دو پہیوں والی سواری میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا براہ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر پڑتا ہے۔ڈیزل کی اس وقت ایکس ڈپو قیمت 254.64روپے فی لیٹر ہے۔ ٹرانسپورٹ کا زیادہ تر شعبہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر چلتا ہے۔ اس کی قیمت کو افراط زر میں کمی یا اضافے کی وجہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ زیادہ تر بھاری نقل و حمل کی گاڑیوں، ٹرینوں، اور زرعی انجنوں، جیسے ٹرک، بس، ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے، اور خاص طور پر سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ ڈیزل کی قیمت کم ہونے کے باوجود ٹرانسپورٹ کرایوں میں شاذ و نادر ہی کمی آتی ہے۔حکومت اس وقت پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر تقریبا 94 روپے فی لیٹر چارج کر رہی ہے۔ اگرچہ تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) صفر ہے، حکومت اب بھی ڈیزل پر 77.01روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی اور پیٹرول اور ہائی آکٹین مصنوعات پر 78.02روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔حکومت پیٹرول اور ایچ ایس ڈی پر تقریباً 16روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کرتی ہے، چاہے وہ مقامی طور پر تیار کیے گئے ہوں یا درآمد کیے جائیں۔مزید برآں، تقریبا 17روپے فی لیٹر ڈسٹری بیوشن اور سیل مارجن آئل کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کے لیے مختص ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں