پٹرول کی مد میں سبسڈی کب’ کیسے اور کس کو ملے گی؟

وزیر اعظم شہباز شریف نے جہاں پیٹرول کی قیمت میں80روپے کمی کا اعلان کیا ہے وہیں موٹر سائیکل سواروں کو سو روپے فی لیٹر سبسڈی دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ اور زراعت کے شعبوں میں بھی سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ ضروری اشیا اور کرائے کا بوجھ عام آدمی پر نہ پڑھے۔تاہم ابھی تک واضح نہیں کہ ملک بھر میں کروڑوں موٹر بائیکس مالکان جبکہ زراعت اور ٹرانسپورٹ شعبوں سے وابستہ لاکھوں افراد تک یہ سبسڈی کیسے پہنچے گی۔وزار ت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ چند روز قبل وزیراعظم کی سربراہی میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا جو اجلاس ہوا تھا۔ اس میں خرم شہزاد کے بقول، وزرائے اعلیٰ نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ ان کے پاس موٹر سائیکل سواروں کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کا طریقہ کار موجود ہے، اس لیے طریقہ کار بھی صوبے ہی وضع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے اعلان کے مطابق20لیٹر تک پیٹرول پر موٹر سائیکل سواروں کو سو روپے فی لیٹر کے حساب سے مہینے میں دو ہزار روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔صرف صوبہ پنجاب میں اعداد و شمار کے مطابق ایک کروڑ 96 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں ہیں جبکہ ٹریکٹروں کی تعداد ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں موٹر سائیکلوں کے مالکان کو ایک ویب پورٹل کے ذریعے یا 1000 پر کال کر کے سبسڈی کے لیے رجسٹریشن کروانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ صوبوں کے پاس بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے مستحق افراد کا ڈیٹا موجود ہے۔ اس کے لیے وہاں سے بھی ان افراد کا ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے۔تاہم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک اہلکار تنویر عباس نے بتایا کہ بی آئی ایس پی میں صرف ان افراد کی معلومات موجود ہوتی ہیں جو غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہے ہیں اس کے علاوہ ان کے پاس کسی سواری کے ہونے کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔وزارت خزانہ کے مشیر کے مطابق بی آئی ایس پی پروگرام کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے وزارت پیٹرولیم کے ساتھ مل کر ایک ایپ تیار کی ہے جس میں موٹر سائیکل سوار رجسٹرڈ ہوں گے اور پھر اس کے بعد ہی انہیں پیٹرول پمپ مہینے میں 20 لیٹر تک پیٹرول پر سو روپے فی لیٹر کے حساب سے سبسڈی دیں گے۔ وزار ت پیٹرولیم کی طرف سے ایپ ابھی تک فعال نہیں ہے اور حکام کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ ایپ جلد ہی فعال ہو جائے گی۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق اس وقت ملک بھر میں 12 ہزار کے قریب پیٹرول پمپس ہیں اور وزارت خزانہ نے ہر پیٹرول پمپ کے لیے دو موبائل فون خریدنے کی منظوری دے دی ہے جن میں وہ ایپ موجود ہوگی جو آئی ٹی اور پیٹرولیم کی وزارت نے مل کر تیار کی ہے۔ کوئی بھی شخص بشرطیکہ موٹر سائیکل اس کے نام پر رجسٹرڈ ہو، کسی بھی پیٹرول پمپ سے پیٹرول ڈلوانے کے لیے جائے گا تو موٹر سائیکل سوار اپنے زیر استعمال موبائل فون کے ذریعے اپنا شناختی کارڈ اس ایپ کے ذریعے شیئر کرے گا جس کے بعد موٹر سائیکل سوار کا تمام ریکارڈ پیٹرول پمپ کے ذمہ داران کے سامنے آ جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے مطابق موٹر سائیکل مالکان کو 100 روپے رعایت کے ساتھ 20 لیٹر پیٹرول دیا جائے گا۔ اس میں اپلائی کرنے کے لیے ایک ویب سائٹ اور ایپ کا ذکر کیا گیا۔سندھ حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کاشتکاروں، موٹر سائیکل سواروں اور مسافر بس مالکان کو سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیرِ اعلی سید مراد علی شاہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سندھ میں 66 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں، سبسڈی فراہم کرنے کے لیے موبائل ایپ تیار کی گئی ہے، جس کے ذریعے ان موٹر سائیکل مالکان کو رجسٹرڈ کیا جائے گا۔صوبہ خیبر پختونخوا، جہاں پر اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے، نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، تاہم خیبر پختونخوا اور بلوچستان حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دینے کے بارے میں بھی کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں