پہلی سہ ماہی میں 2119 ارب کا بجٹ سرپلس

اسلام آباد (بیوروچیف) رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حکومت کی آمدن اخراجات سے زیادہ ہوگئی۔موجودہ مالی سال کی اتبدائی تین ماہ کے دوران حکومت کی آمدن اور اخراجات کی تفصیلات جاری کردی گئیں ہیں،وزارت خزانہ کی رپورٹ کیمطابق موجودہ سال کی پہلی سہہ ماہی میں 2119ارب سے زائدکا بجٹ سرپلس رہا،وفاق نے 1338ارب،صوبوں نے 781ارب روپے سرپلس بجٹ دیا، جولائی تا ستمبر 3497 ارب کا پرائمری سرپلس بھی ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 3ماہ میں قرضوں پر 1377 ارب روپے سے زائد سود ادا کیا گیا،صوبوں کو 1775 ارب ادائیگی کے بعد وفاق کی خالص آمدن 4117 ارب رہی، مالیاتی سرپلس مجموعی قومی پیداوار کا 1.6 فیصد رہا، سرپلس میں اضافہ اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ 2428 ارب روپے منافع سے ہوا۔ رپورٹ کیمطابق 3ماہ میں پیٹرولیم لیوی 30 فیصد اضافے سے 371 ارب روپے وصول کی گئی،مجموعی ریونیو 6 فیصد بڑھ کر 6199 ارب سے زائد رہا،ٹیکس وصولیاں 11 فیصد بڑھکر 2884 ارب روپے ہو گئیں، صوبوں نے 21 فیصد زیادہ ٹیکس وصول کیا،781 ارب کا سرپلس دکھایا، پنجاب نے 3 ماہ میں سب سے زیادہ 442 ارب روپے کا سرپلس دیا،یہ سرپلس پچھلے سال کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہے،سندھ نے 209 ارب، خیبرپختونخوا 77 ارب اور بلوچستان نے 54 ارب سرپلس دیا،رپورٹ کیمطابق مجموعی اخراجات میں 3.6 فیصداضافہ، 4080 ارب ریکارڈکئے گئے،جبکہ دفاعی اخراجات 447 ارب روپے رہے جو جی ڈی پی کا 0.3 فیصد بنتے ہیں،3 ماہ میں ترقیاتی منصوبوں پر 41 ارب،پنشن پر 161 ارب خرچ ہوئے،مالی سال کی پہلی سہہ ماہی میں 119 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں