پیپلز پارٹی پر تنقید کرکے وفاق کو کمزور کرنیکی سازش ہورہی ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے وفاق کو کمزور کرنے کی سازش کی ہے ۔ پنجاب حکومت نے گھروں کی تعمیر کیلئے قرض کی صورت میں کروڑوں روپیہ مختص کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے کہ بعد ازاں اقساط کی صورت میں واپس بھی لیا جائیگا۔ لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے سیلاب زدگان کیلئے 13لاکھ گھروں کو تعمیر کر کے ان میں سے 6 لاکھ گھر متاثرین میں بلا معاوضہ تقسیم بھی کر دیئے ہیں ۔ پنجاب کو چاہئیے کہ وہ مظلوم کسانوں کیلئے بھی کوئی عملی اقدامات اٹھائے کہ جن کی اربوں روپے کی فصلیں سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہو گئی ہیں ۔ پنجاب اس وقت 37 فیصد ریونیو اکھٹا کرکے وفاق سے 52 فیصد حاصل کر رہی ہے ۔ جبکہ سندھ حکومت 48 فیصد ریونیو اکھٹا کرکے 25 فیصد حاصل کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار جنرل سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب حسن مرتضی سید ۔ سنئیر نائب صدر سنٹرل پنجاب رانا فاروق سعید خاں نے آج فیصل آباد میں جنرل سیکرٹری سیکرٹریٹ چوک جمیل آباد میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نائب صدر سنٹرل پنجاب چوہدری ارشد جٹ ۔ سٹی صدر رانا نعیم دستگیر خاں ۔ جنرل سیکرٹری میاں اشفاق حسین ۔ سیکرٹری اطلاعات رانا خاور جاوید ۔ سنئیر نائب صدر شیخ اسلام ۔ میڈیا کوآرڈینیٹر محمد اطہر شریف ۔ ڈپٹی سیکرٹری افتخار حلیم رضا ۔ ڈپٹی سیکرٹری صغیر اعوان سیکرٹری ریکارڈ اینڈ ایونٹ محمد زمان خاں۔ آفس سیکرٹری شیخ یاسین رابطہ سیکرٹری عابد یاسین۔ بٹ ۔ نائب صدر میاں بشارت علی اور سابق سکریٹری اطلاعات میاں ظفر اقبال طاہر بھی پریس کانفرنس میں موجود تھے ۔ صوبائی رہنمائوں نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب اپنے ریونیو کولیکشن کے مقابلہ میں 14 فیصد زیادہ لے رہا ہے جبکہ سندھ ریونیو کولیکشن سے 23 فیصد کم لے رہا ہے ۔ اس باوجود سندھ کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پر بیجا تنقید کے سلسلہ کو فی الفور بند کرکے عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کیلئے عملی اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی نے ملکی مفادات کی خاطر مسلم لیگ ن کی حکومت کا ساتھ دیا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی بہتری اور عوامی مفاد کی خاطر یہ اتحاد چلتا رہے ۔ اسے ہماری کمزوری خیال نہ کیا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں