چلڈرن ہسپتال میں ادویات اور سرجیکل سامان نایاب،مریض بچوں کے لواحقین بازار سے مہنگے داموں خریدنے پر مجبور

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) چلڈرن ہسپتال انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مریضوں کو مفت ادویات فراہم کرنے کا دعویٰ کھائی میں پڑ گیا۔چلڈرن ہسپتال کے مین آپریشن تھیٹر، ایمرجنسی فارمیسی، آئوٹ ڈور فارمیسی، ادویات و سرجیکل کا سامان موجود ہی نہیں۔ ہسپتال میں علاج کے لیے آنے والے مریض بچوں کے لواحقین بازار سے مہنگے داموں ادویات خریدنے پر مجبور ہو گئے۔ موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق چلڈرن ہسپتال میں 96اقسام کی ادویات کی قلت ہے جن میں سیرپ، انجکشن، گولیاں، کیپسول، جن میں پیناڈول ڈراپس، سپرو، وٹامن ڈی ڈراپس، اوار ایس ،مونٹیکا ،ڈی واٹر،انجکشن ڈوفامین، ایمنو ایسڈ، انجکشن سوڈیم وغیرہ شامل ہیں اسی طرح آپریشن تھیٹر میں استعمال ہونے والے 68اقسام کے سرجیکل آلات نہیں جن میں گلوز،پاوڈین،انتھسزیا،ای ٹی ٹی ٹیوب،نلٹن،این جی،کاسٹن کاٹن،مونو میٹر ،یورن بیگ،بلڈ بیگ،پولہ تھین بیگز ،وی پی شنٹ،سپرٹ،یورن کلکٹر ،ڈایاسٹ فلٹر ودیگر آلات شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے دعوئوں کے ساتھ ساتھ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے مفت ادویات کے ساتھ ساتھ مفت علاج کی باقاعدہ تشہیر کی گئی ہے لیکن چلڈرن ہسپتال میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ۔ڈاکٹر دھڑلے سے میڈیسن کی پر چیاں لکھ لکھ کر دے رہے ہیں ہسپتال میں آنے والے تقریباً تمام مریض پرائیویٹ سٹوروں سے مہنگے داموں ادویات خرید کر علاج کروا رہے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چلڈرن ہسپتال انتظامی افسران نکمے تو ہیں ہی لیکن آپس میں کرپشن اور حصوں کی لڑائی کی وجہ سے پرچیز سیل،سابق ایم ایس ڈاکٹر ثاقب منیر،ڈین ڈاکٹر رزاق مغل ،اور اکائونٹ برانچ نے ٹینڈرز ہی نہیں کروائے ۔افسران کی جانب سے ٹینڈر نہ کروانے پر ہسپتال میں علاج نام کی کوئی شے موجود نہیں ہے اور خمیازہ غریب مریض بچوں اور ان کے لواحقین کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ ممبران اسمبلی ،بیوروکریٹس ، ودیگر اہم عہدوں پر فائز اہم شخصیات کے ریفرنس سے آنے والے مریض بچوں کو ایک پی کے ذریعے ادویات منگوا کر علاج کروا رہے ہیں تاکہ یہ ہی تاثر رہے کہ چلڈرن ہسپتال میں علاج مفت ہو رہا ہے۔اس حوالے سے ڈی ایم ایس چلڈرن ہسپتال ڈاکٹر حسن سے موقف کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں ادویات کی کوئی قلت نہیں اور ہی ایکسٹرا ایک پی ہورہی ہے ہسپتال کی ایک ایک چیز آن لائن ہے اگر کوئی ڈاکٹر باہر کی دوائی لکھ کر دے رہا ہے تو نشان دہی کریں اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں