2

چکن دھونے کی روایت درست یا خطرناک؟

کراچی ( بیو رو چیف ) روایت کے مطابق بہت سے لوگ چکن کو پانی، سرکے یا لیموں کے ساتھ دھوتے ہیں تاکہ اسے زیادہ محفوظ بنایا جا سکے جبکہ فوڈ سیفٹی ماہرین اس عمل کو غیر موثر قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سرکے یا لیموں سے دھونا بیکٹیریا کو قابل اعتماد طریقے سے ختم نہیں کرتا بلکہ یہ عمل جراثیموں کی آلودگی اور غذا ء سے ہونے والے امراض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیکٹیریا کو مارنے کا واحد طریقہ چکن کو اچھی طرح پکانا ہے جبکہ زیادہ تر پیک شدہ چکن پہلے ہی کمپنی کی طرف سے دھویا جا چکا ہوتا ہے، اس لیے گھروں میں دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں۔دوسری جانب، شیف روایت کے مطابق چکن کو دھونے اور اردگرد کی جگہ کو جراثیم کش محلول سے صاف کرنے پر زور دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، لیکن صفائی کے سخت اصولوں پر عمل کرنے سے کچھ حد تک تحفظ ممکن ہے۔ فرانسیسی کھانوں میں “برائننگ” یعنی نمکین پانی میں چکن کو بھگونا عام ہے، جسے محفوظ سمجھا جاتا ہے،تاہم ماہرین کے نزدیک یہ بھی دھونے جیسا عمل ہے اور اس سے بیکٹیریا ختم نہیں ہوتا۔نتیجہ یہ ہے کہ چاہے بازار سے تازہ مرغی لی جائے یا پیک شدہ، اصل تحفظ صرف اچھی طرح پکانے سے ہی ممکن ہے۔ چکن کے گوشت کو 165 ڈگری فارن ہائیٹ درجہ حرارت یا یوں کہہ لیں تیز آنچ پر پکانا اس میں موجود بیکٹریا کو مار دیتا ہے۔ دھونا ایک روایتی عمل ضرور ہے، لیکن فوڈ سیفٹی کے اصولوں کے مطابق اس پر انحصار کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں