126

چک جھمرہ کی سیاسی تاریخ

تحریر،افضال تتلہ
چک جھمرہ کا موجودہ قومی حلقہ این اے 95 کی
1970 سے لے کر 2023 تک کی مکمل تفصیلات کا اگر ذکر کیا جائے تو وہ کچھ یوں ہوگا
1970
اس الیکشن میں چک جھمرہ سے جو ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوے ان کا نام میاں احسان الحق تھا جنہوں نے64000 ووٹ لیے یہ پی پی پی کے ٹکٹ سے الیکشن لڑ رہے تھے دوسرے نمبر پر چوہدری شریف علی چٹھہ 37000 ووٹ لے سکے جبکہ تیسرے نمبر پر امتیاز گل نے 27000 ووٹ لیے اسی طرح چوتھے نمبر پر لال دین سلیم تھے انہوں نے 6000 ووٹ لیے 1970 کے اس الیکشن میں اس حلقہ کا نمبر این ڈبلیو 51 تھا تب حلقہ بندی این اے کی بجائے این ڈبلیو اور این این سے کی جاتی تھی مطلب مشرقی اور مغربی پاکستان کی نشاندہی کی جاتی تھی۔
1977
چوہدری امتیاز احمد گل یہاں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے 70565 ووٹ لیکر ایم این اے منتخب ہوئے تھے جبکہ رحمت علی 40692 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے اسی طرح تیسرے نمبر پر آزاد امیدوار محمد اسلم خان نے 795 لیے اور چوتھے نمبر پر سید غلام عبدل حسن 695 ووٹ حاصل کیے تب اس حلقہ کا نمبر این اے 74 تھا
1985
چوہدری بشیر احمد رندھاوا جو کہ سرگودھا روڈ پر موجود گائوں 4 چک رام دیوالی کے رہائشی تھے 29054 ووٹ لے کر ایم این اے ہوئے منتخب تھے ان کے مقابلے میں اسی علاقے کے گاں 9 چک ج ب بھلوال کے امتیاز گل 28879 ووٹ لے کر دوسرے جبکہ چک جھمرہ کے گائوں 162 ر۔ب سکندر پور کے غلام مصطفی باجوہ 28298 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر تھے جبکہ سید عبدل حسن گیلانی 2241 اور شوکت علی گل 517 ووٹ حاصل کر سکے اس الیکشن میں بھی اسی حلقہ کا نمبر این اے 74 تھا
1988
غلام مصطفی باجوہ نے آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے 48019 ووٹ لے کر ایم این اے کی سیٹ اپنے نام کی تب ان کے مدمقابل چوہدری لطیف رندھاوا پی پی پی کے ٹکٹ پر الیکشن میں آئے انہوں 38435 ووٹ حاصل کیے جبکہ بطور آزاد امیدوار چوہدری سلیم باجوہ 3361 ووٹ حاصل کر کے تیسرے نمبر پر تھے تب اس حلقہ کا نمبر این اے 62 تھا
1990
محمد خان جونیجو جو آئی جے آئی کا ٹکٹ لے کر اس حلقے میں آئے اور 57208 ووٹ لے کر یہاں سے ایم این اے بننے میں کامیاب ہوئے جبکہ غلام مصطفی باجوہ 34925 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تب بھی اس حلقے کا نمبر این اے 62 ہی تھا
1993
سردار دلدار احمد چیمہ جھمرہ سے 45457 ووٹ لے ایم این اے شپ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئے تب وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر تھے جبکہ راجہ نادر پرویز پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر 45298 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے اور چوہدری بشیر رندھاوا پی آئی ایف کی نامز امیدوار تھے انہوں 4851 ووٹ حاصل کیے تب بھی اس حلقے کا نمبر این اے 62 ہی تھا
1997
راجہ نادر پرویز پاکستان مسلم لیگ ن کی ٹکٹ سے 56857 ووٹ لے کر ایم این اے بنے اسی طرح غلام مصطفی باجوہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ سے الیکشن کے میدان میں آئے اور 22637 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے جبکہ جھمرہ میں پی ٹی آئی کا پہلی بار امیدوار میدان میں آیا ان کا نام گل اعجاز احمد تھا جو 863 حاصل کر کے تیسری پوزیشن پر رہے اسی طرح آزاد امیدواروں میں عبد الرحمن مغل نے 606،سہیل اقبال باجوہ نے 481،ناصر احمد گجر 433 اور چوہدری محمد اکرم رندھاوا نے 425 ووٹ حاصل کیے مگر اس حلقہ کا نمبر این اے 62 ہی تھا
2002
کرنل (ر) غلام رسول ساہی نے پاکستان مسلم لیگ ق کا ٹکٹ حاصل کیا اور 55464 لے کر ایم این اے بن گئے تب ان کے مقابلے میںواجد مصطفی باجوہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا 35417 ووٹ حاصل کر کے دوسری پوزیشن لی، پی ایم ایل این کے امیدوار مصباح دیں ضیغم تھے 8197 ووٹ حاصل کر سکے جبکہ محمد اصغر 3806 ایم ایم اے کے محمد اطہر اقبال چٹھہ نے 3114 این اے کے نامزد کردہ رانا زبیر احسن خان 2036 جبکہ آزاد امیدوار پروفیسر ڈاکٹر سلیم اقبال چٹھہ نے 602 ووٹ حاصل کیے اس الیکشن میں اس حلقہ کا نمبر تبدیل ہوکر این اے 75 ہوگیا تھا
2008
طارق محمود باجوہ پی پی پی کے ٹکٹ پر 83699 ووٹ حاصل کیے اور ایم این اے منتخب ہوگئے پی ایم ایل کے ٹکٹ پر کرنل (ر) غلام رسول ساہی نے 68196 ووٹ حاصل کیے جبکہ آزاد امیدواروں میں خریز نواز باجوہ نے 861،محمد تنویر نے 358،مہر جہانگیر اشرف وینس 200 اور واجد مصطفی باجوہ نے 100 ووٹ حاصل کیے اس الیکشن میں بھی یہاں کا نمبر این اے 75 ہی تھا
2013
اس بار پھر کرنل(ر)غلام رسول ساہی پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر 129933 ووٹ لے کر ایم این اے بننے میں کامیاب ہوگئے جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے تگڑے سیاست دان فواد احمد چیمہ کی شکل میں سامنے آئے جو 42091 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر تھے اسی طرح پی پی پی کے طارق محمود باجوہ 9902 ووٹ حاصل کر سکے جے آئی کے فاروق احمد چٹھہ 1494،ایم کیو ایم کے محمد افضل 216 جبکہ آزاد امیدواروں میں پیر سید طاہر علی قادری نے 998،سیدہ ہما تحسین 896،میاں ریحان مقبول 518،سید غلام عبدل حسن شاہ 224،جاوید احمد چٹھہ 216،فقیر حسین فقیر 155 ووٹ حاصل کر سکے 2013 میں بھی یہ این اے 75 ہی تھا
2018
جھمرہ کے حلقہ میں 2018 کے جنرل الیکشن میں سب سے زیادہ امیدوار سامنے آئے جن کی تعداد 13 تھی اس الیکشن میں ایک اور ریکارڈ بھی بنا تاریخ میں پہلی بار کوئی آزاد امیدوار چک جھمرہ میں بطور ایم این اے سامنا آیا چوہدری عاصم نذیر بطور آزاد امیدوار تاریخ میں سب سے زیادہ 147937 ووٹ لے کر ایم این اے منتخب ہوئے ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار ظفر ذوالقرنین ساہی 86717 ووٹ ہی لے سکے اسی طرح ٹی ایل پی کے افتخار علی 9969، پی پی پی طارق محمود باجوہ 6090، اے اے ٹی امداد علی 5343، ٹی ایل آئی کے اشفاق احمد 1528،اے پی ایم ایل کے سجاد احمد 406، ایم ایم اے کی افیقہ نے 325 ووٹ حاصل کیے جبکہ آزاد امیدواروں رضوان لیاقت نے 942، شبیر احمد نے 588،محمد ظاہر نے 439 اور فرمان علی نے 259 ووٹ حاصل کیے اس الیکشن میں اس حلقہ کا نمبر این اے 101 تھا
2024
آئندہ انتخابات یعنی 2024 میں ہونے والے الیکشن میں اس حلقہ 31 امیدوار سامنے آئے ہیں اب اس حلقہ کا نمبر این اے 95 ہے اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ان الیکشن میں کون ، کیسے این اے 95 کا سیاسی میدان اپنے نام کرتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں