66

چھوٹی صنعتوں کی ترقی کیلئے حکومتی اقدامات (اداریہ)

ملک میں چھوٹی صنعتوں کی ترقی کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستانی صنعتوں کو گلوبل سپلائی چین کا حصہ بنانے کے حوالے سے بھرپور اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے چھوٹے درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں حکومت انہیں سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے ایس ایم ایز کی ترقی کے حوالے سے وفاق اور تمام صوبے مل کر کام کریں وزیراعظم شہباز شریف کو ایک بریفنگ میں بتایا گیا کہ سمیڈا بورڈ کی تشکیل’ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کا باقاعدگی سے انعقاد اور سٹیئرنگ کمیٹی میں گلگت بلتستان اور کشمیر کے چیف سیکرٹریز شامل کر دیئے گئے ہیں وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے فروغ اور اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) سے متعلق غور کیا گیا اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے بینکوں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ ایس ایم ایز کو قرض کی فراہمی کے حوالے سے بینک فارمرز کو مزید آسان اور سہل بنایا جائے وفاقی وزارت صنعت وپیداوار نے ایس ایم ایز سیکٹر کی ترقی کے حوالے سے صوبائی حکومتوں سے رابطے مزید بہتر بنائے ہیں ایس ایم ایز سیکٹرز کے حوالے سے سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں نے اس سلسلے میں جامع لائحہ عمل تیار کر لیا ہے جبکہ پنجاب’ خیبرپختونخوا’ گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کی حکومتیں جامع حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں ملک بھر میں موجود ایس ایم ایز کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے،، وزیراعظم کی ہدایت پر ملک کی چھوٹی صنعتوں کی ترقی کیلئے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے عمل کا آغاز خوش آئند ہے اور اس اقدام سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو فروغ حاصل ہو گا حکومت کو بہت دیر کے بعد چھوٹی صنعتوں کی ترقی کا خیال آیا ہے لیکن یہ بھی غنیمت ہے کہ حکومت ان صنعتوں کو بھی ان کے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے ملک بھر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مراعات اور ضروری سہولیات کی فراہمی سے ہی ان کو قدم جمانے کا موقع مل سکتا ہے اس کیلئے حکومت کو غیر فعال چھوٹی صنعتوں کو زیرومارک پر قرضے جاری کرنے چاہئیںساتھ ہی بجلی’ گیس کے نرخوں میں کی کے ساتھ ساتھ ان کے لیے ٹیکسوں میں کی کا بھی اعلان کرنا چاہیے تاکہ چھوٹے کاروباروں کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے مواقع میسر آ سکیں بدقسمتی سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے ساتھ برس ہا برس سے سوتیلی ماں جیسا سلوک ہو رہا ہے جس کی وجہ سے یہ چھوٹی صنعتیں مالی مشکلات کا شکار رہی ہیں اب جبکہ حکومت نے ان کاروباری اداروں کو فعال بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تو اس مقصد کے لیے جلد سے جلد عملدرآمد کا ہونا ضروری ہے چھوٹی صنعتوں کی ترقی کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے ان صنعتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق چلانے میں مدد ملے گی جبکہ ان کاروباری اداروں کی پیداواری صلاحیت بہتر ہو گی اور یہ ادارے ملکی معیشت کی بہتری کیلئے اپنا حصہ ڈال سکیں گے ضرورت اس امر کی ہے کہ چھوٹے کاروباری اداروں کی بھرپور راہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کی دیگر ضروریات پر بھی حکومت توجہ مبذول کرے تاکہ ان صنعتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں