61

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی عدلیہ کی عظمت یقینی بنانے کیلئے پُرعزم (اداریہ)

چیف جسٹس سپریم کورٹ یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ جج کا وقار’ عدلیہ کی عظمت یقینی بنائیں گے، طاقت کی تقسیم کا اصول غالب رہے گا، عوام کیلئے قانون کی حکمرانی یقینی بنائی جائے گی الوداعی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ پر ملے جلے تاثرات ہیں ایک طرف مجھے ان کے جانے کا افسوس ہے کیونکہ ہمیں ان کی کمی محسوس ہو گی بطور جج ان سے بہت کچھ سیکھا جب خواتین کے حقوق بالخصوص وراثت کے حقوق کی بات آتی تو وہ عدالت کی مکمل طاقت کے ساتھ ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے میںکوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے انشاء اﷲ پاکستان کے عوام کے لیے قانون کی حکمرانی یقینی بنائیں گے طاقت کا اصول غالب رہے گا جج کے وقار اور عدالت کی عظمت کو سختی سے یقینی بنایا جائے گا چاہے چترال میں بیٹھا کوئی جج ہو یا میرے ساتھ سپریم کورٹ میں بیٹھا جج بار کی شکایات کو بھی فوری حل کیا جائے گا فوری طور پر بلوچستان کے ضلع جیوانی’ خیبرپختونخواہ میں ٹانک’ سندھ میں گھوٹکی اور پنجاب میں صادق آباد جیسے دور دراز اضلاع پر فوری توجہ دی جائے گی کیونکہ کراچی’ لاہور’ پشاور’ کوئٹہ ہائیکورٹ اور حکومت کی فوری توجہ حاصل کرتے ہیں ان دور دراز کے اضلاع کو ہماری توجہ کی ضرورت ہے یہاں بہترین ججز کو جانا چاہیے کیونکہ انہیں کسی اور جگہ سے زیادہ ان کی ضرورت ہے، چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی کا عدلیہ کی عظمت یقینی بنانے کا عزم لائق تحسین ہے خاص طور پر ان اضلاع میں جو پسماندہ ہیں اور وہاں قانون کی بالادستی کی ضرورت ہے اعلیٰ اور قابل ججز کو تعینات کرنے کا عندیہ انصاف کا بول بولا کرنے کیلئے بڑا فیصلہ ہے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی ملک کے 30ویں چیف جسٹس ہوں گے وہ پہلے چیف جسٹس ہیں جنہیں 26ویں ترمیم کی منظوری کے بعد پارلیمانی کمیٹی نے نامزد کیا ہے ان کا تعلق خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے سے اور ان کی تعیناتی کو نہ صرف قانونی حلقوں بلکہ ان کے قبائلی علاقوں کے لوگوں نے بھی اہم اور تاریخی قرار دیا ہے،، چیف جسٹس سپریم کورٹ قاضی فائز عیسیٰ کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد جسٹس یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب پر تعیناتی بہت خوشی کا مقام ہے قانونی ماہرین کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی نے ہمیشہ اہم ترین فیصلوں میں قانون کی بالادستی کیلئے فیصلے کئے اور کبھی بھی میرٹ کو نظرانداز نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ قانونی حلقوں میں ان کو بہت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اب جبکہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس بن چکے ہیں اور انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے وہ آئین وقانون کی بالادستی کیلئے اپنا بہترین کردار ادا کریں گے تو امید کی جا رہی ہے کہ ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں