52

چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد۔ پاکستان کی سفارتی کامیابی (اداریہ)

مخالفین کی بھرپور مخالفت کے باوجود آخر کار چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں ہو رہی ہے اور اس سے ملک کے لیے بہت سے فوائد کی توقع ہے ٹورنامنٹ سے پاکستان کیلئے سیاحت’ کفالت اور نشریاتی حقوق کے ذریعے نمایاں آمدنی حاصل کرنے کی توقع ہے میچوں میں ہزاروں شائقین کی شرکت کی توقع کے ساتھ مقامی کاروبار جیسے کہ ہوٹل’ ریسٹورنٹس اور دکانیں’ ممکنہ طور پر فروخت میں اضافہ دیکھیں گے میگاایونٹ میں بھارتی حکومت کے رویہ کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے سیاست کو کھیل کے میدان میں لا کر دنیا بھر کے کرکٹ کے دیوانے دل میں بھارت کے منفی طرز عمل بارے میں رائے رکھتے ہیں اور تاریخ ہمیشہ لکھتی رہے گی کہ بھارتی حکمران پاکستان کی دشمنی میں دنیائے کرکٹ کو بھی تباہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں لوگ اپنی رائے ضرور رکھتے ہیں، آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیسے بڑے بین الاقوامی کرکٹ ٹورنامنٹ کی میزبانی سے پاکستان کے امیج کو عالمی سطح پر فروغ دینے میں مدد ملے گی اور ہائی پروفائل ایونٹس کے انقعاد میں اس کی صلاحیتوں کا مظاہرہ ہو گا ٹورنامنٹ کی تیاری کے نتیجے میں لاہور’ کراچی’ راولپنڈی میں کرکٹ سٹیڈیم کی تزئین وآرائش کی گئی ہے جس سے طویل مدت تک ملک کے کرکٹ انفراسٹرکچر کو فائدہ ہو گا کرکٹ کے نئے میدانوں کی اہمیت اجاگر ہو گی یہ ٹورنامنٹ پاکستان کا دورہ کرنے والی ٹیموں کے درمیان ثقافتی تبادلے کا موقع فراہم کرے گا عوام کے درمیان تعلقات اور باہمی تعاون کو بڑھانے کا سبب بنے گا چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں کرکٹ کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو گی نوجوانوں کھلاڑیوں اور شائقین کو متاثر کرے گی ممکنہ طور پر اس کھیل میں شرکت اور دلچسپی میں اضافے کاس بب بنے گی بچے جو گلیوں کی کرکٹ سے دور ہو گئے تھے پھر گلیاں آباد کریں گے، المختصر مجموعی طور پر آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025ء کی میزبانی پاکستان کے لیے اہم سفارتی کامیابی ہے اس سے ملک کی معیشت’ بنیادی ڈھانچے اور عالمی امیج پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے،، بھارتی حکمرانوں کی پاکستان دشمنی سیاست سے نکل کر کھیل کے میدان تک پہنچ گئی ہے جس کا اظہار پاکستان میں آئی سی سی کے میگا ایونٹ چیمئنز ٹرافی 2025 پر اثرانداز ہونے کی کوششیں ہیں بھارتی کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کو پاکستان میں کھیلنے سے روکا اور ایک عرصہ تک بھارت یہ مطالبہ کرتا رہا کہ اس ایونٹ کو پاکستان میں نہیں بلکہ پاکستان کی میزبانی میں کسی غیر جانبدار ملک میں منتقل کیا جائے مگر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے ڈٹ جانے کے بعد بھارت تلملا اٹھا آئی سی سی نے اس میگاایونٹ کو پاکستان میں کرانے کی اجات دی تاہم بھارت کے کھلاڑیوں کی ہٹ دھرمی اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے پرزور مطالبہ پر بھارت کے ساتھ پاکستان اور دیگر ٹیموں کے میچز دبئی میں منعقد کرنے کی منظوری دے دی گئی بھارتی میڈیا اس ایونٹ میں اپنے کھلاڑیوں کو اتنا سپورٹ کر رہا ہے کہ اس نے تو بھارت کو چیمپئن بھی بنوا دیا ہے جبکہ اس ٹورنامنٹ میں بہت بلندپایہ ٹیمیں انگلینڈ’ آسٹریلیا’ نیوزی لینڈ’ جنوبی افریقہ’ بنگلہ دیش’ افغانستان’ سری لنکا وغیرہ موجود ہیں اور ان میں سے آسٹریلیا’ نیوزی لینڈ’ جنوبی افریقہ’ بنگلہ دیش کی ٹیمیں حالیہ میچوں میں بھارت کی ٹیم کی درگت بنا چکی ہیں لہٰذا بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈہ کہ بھارتی ٹیم فاتح ہو گی کہ کوئی حیثیت نہیں پاکستان کی ٹیم میں خامیاں ضرور ہیں مگر ہمارے کھلاڑی وطن کیلئے کھیلتے ہیں کھیل میں ہارجیت تو ہوتی رہتی ہے پوری دنیا دیکھ چکی ہے کہ ہماری ٹیم نے بڑی بڑی ٹیموں کو ہرایا ہے 2017ء میں پاکستان نے انڈیا سے چیمپئنز ٹرافی جیتی تھی جس کا بھارت کو آج بھی بہت دُکھ ہے 2025ء کی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان اپنے اعزاز کا دفاع کر رہا ہے پاکستان کی ٹیم اچھے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور اگر ایک میچ میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے تو اگلے میچ میں سنبھل بھی سکتی ہے پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی 2025ء کا انعقاد بڑی کامیابی ہے ایونٹ کے کامیاب انتظامات اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے منزل بہت مشکل تھی مگر قوم کی دعائوں اور کی گئی کوشسوں اور ٹیم ورک کے نتیجے میں یہ سب ممکن ہوا اور ایونٹ آگے بڑھ رہا ہے جس پر اﷲ کا شکر ادا کرنا چاہیے بھارت کی تمام امیدیں دم توڑ چکی ہیں انشاء اﷲ پاکستان اس ایونٹ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں