چینی مافیا کے گرد گھیراتنگ،گرفتاریوں کا آغاز

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل نے چینی ذخیرہ اندوزی کے الزام میں تاجر رہنما حاجی اسلم بھلی’زبیر بھلی’محمود بھلی اور عمیرپراچہ کو گذشتہ روز ان کے گھروں پر چھاپے مار کر حراست میں لیکر ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل جھنگ روڈ پر واقع ایئرریونیو میں بند کرکے پوچھ گچھ کا عمل شروع کر دیا۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے چینی ذخیرہ اندوزی کرنیوالوں کیخلاف ایف آئی اے کو کریک ڈائون کرنے کاحکم دیا تھا تاکہ چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پایہ جاسکے ایف آئی اے حکام نے چینی ذخیرہ اندوزی کے الزام میں حراست میں لیے جانیوالے تاجر رہنما حاجی اسلم بھلی کو سوالنامہ بھی دے دیا تاہم ایف آئی اے حکام اس سلسلہ میں کوئی بھی تفصیل بتانے سے گریزاں ہے۔ دوسری جانب شہر کے پانچ تاجروں حاجی عابد’ رانا ایوب اسلم منج’ رانا سکندراعظم خاں اور شیخ فاضل کی جانب سے حراست میں لیے جانے والے تاجررہنمائوں سے ملاقات کی گئی۔دریں ثنا،اسلام آباد (بیوروچیف) وزیر اعظم شہباز شریف نے قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول ایف آئی اے، ایف بی آر اور آئی بی، کو چینی کے شعبے میں مبینہ ہیر پھیر کے خلاف کریک ڈائون شروع کرنے کے لیے مکمل آزادی دے دی ہے جس کے ذریعے چند ہفتوں میں اربوں روپے کمانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ کچھ اندازوں کے مطابق چینی کے شعبے کے مافیا نے مختصر مدت میں تقریبا 140 ارب روپے کے ناجائز منافع کمائے ہیں۔ دو جہتی حکمت عملی کے تحت، وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے ایف بی آر اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کو چینی ملوں میں تعینات کر دیا ہے، جنہوں نے اس شعبے میں کئی سالوں سے جاری بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے اہم ڈیٹا اکٹھا کیا ہے۔ گنے کے کرشنگ سیزن کے تین ماہ کے دوران، حکومت نے ان چینی ملوں کی نشاندہی کر لی جو بے ضابطگیوں میں ملوث تھیں، اس کے علاوہ ذخیرہ اندوزوں، سٹہ مافیا کے ارکان اور ان مل مالکان کی بھی نشاندہی کی گئی جو چینی کی پیداوار، اسٹاک اور قیمت میں ہیر پھیر کر رہے تھے۔ منصوبہ بندی کے تحت ترتیب دی گئی حکمت عملی کے پہلے مرحلے میں، خریداری، چینی اٹھانے، مخصوص ڈیلرز کے پاس دستیاب اسٹاک، اور ادائیگیوں سے متعلق ڈیٹا کی بنیاد پرجو یا تو ان کے ذاتی بینک اکائونٹس کے ذریعے کی گئی یا نوکروں کے نام پر رکھے گئے جعلی اکاونٹس کے ذریعے حکومت کو جعلی خریداروں اور چینی ملوں کے بے نامی اور جعلی اکائونٹس میں منتقل کی گئی رقوم کا مکمل اندازہ ہو گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں