چینی کھانے کے بجائے پینا زیادہ خطرناک

لاہور ( بیو رو چیف )میٹھا پسند کرنے والوں کے لیے اچھی خبر ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق چینی مکمل طور پر ترک کرنا ضروری نہیں، بلکہ یہ زیادہ اہم ہے کہ چینی کس شکل میں استعمال کی جا رہی ہے۔حالیہ دوسائنسی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ چینی اگر مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس، انرجی ڈرنکس یا یہاں تک کہ فروٹ جوس کے ذریعے لی جائے تو یہ صحت کے لیے کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، بہ نسبت اس کے کہ چینی ٹھوس غذاں جیسے بیکری آئٹمز یا ڈیری مصنوعات کے ذریعے کھائی جائے۔ماہرین اس بات پر حیران رہ گئے کہ صحت پر چینی کے اثرات اس بات پر کتنا زیادہ انحصار کرتے ہیں کہ وہ گلاس سے پی جا رہی ہے یا پلیٹ سے کھائی جا رہی ہے۔اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ تمام میٹھی اشیا ترک کر دینا بھی لازمی طور پر صحت مند فیصلہ نہیں۔برگھم ینگ یونیورسٹی (BYU) کی ایک بڑی تحقیق، جو جریدے Advances in Nutrition میں شائع ہوئی، میں دنیا کے مختلف براعظموں سے 5 لاکھ سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔تحقیق کے مطابق سافٹ ڈرنکس اور فروٹ جوس کے ذریعے لی جانے والی چینی سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے جبکہ یہی چینی اگر دیگر غذاں کے ذریعے لی جائے تو خطرہ نسبتا کم رہتا ہے۔تحقیق کی سربراہ اور ماہر غذائیات کیرن ڈیلا کورٹ نے کہا کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس نے واضح طور پر بتایا ہے کہ چینی کے مختلف ذرائع کس طرح ذیابیطس کے خطرے کو مختلف انداز میں بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینی کو پینا، چاہے وہ سافٹ ڈرنک ہو یا جوس، صحت کے لیے چینی کھانے کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ ہے۔ماہرین کے مطابق اس کی وجہ جسم کا چینی کو ہضم کرنے کا طریقہ ہے۔ مشروبات ایک ہی وقت میں بڑی مقدار میں خالص چینی فراہم کرتے ہیں جس سے بلڈ شوگر میں اچانک اضافہ ہوتا ہے۔ یہ جگر پر دبا ڈالتا ہے، جگر میں چکنائی بڑھاتا ہے اور انسولین کی مزاحمت کو خراب کرتا ہے۔اس کے برعکس، جب چینی پھل، دودھ یا ثابت اناج کے ساتھ لی جائے تو فائبر، پروٹین اور چکنائی کی وجہ سے چینی آہستہ آہستہ جذب ہوتی ہے، جو جسم کے لیے بہتر ہے۔اگرچہ فروٹ جوس میں وٹامنز ہوتے ہیں، مگر ماہرین کے مطابق اس میں موجود مرتکز چینی اسے سافٹ ڈرنکس کے برابر نقصان دہ بنا دیتی ہے۔ اسی لیے جوس، ثابت پھل کا صحت مند متبادل نہیں سمجھا جاتا۔تحقیق سے وابستہ ایک اور ماہر سوزان جانزی نے کہا کہ چینی کا استعمال اکثر سماجی مواقع پر ہوتا ہے، جبکہ میٹھے مشروبات روزمرہ عادت بن جاتے ہیں، اور یہی فرق نقصان کا باعث بنتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کی غذائی ہدایات میں تمام اضافی چینی کو برا کہنے کے بجائے چینی کے ذرائع اور شکل کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں