چینی کی بڑھتی قیمتوں کا نوٹس،1ہفتے میں رپورٹ طلب

اسلام آباد(بیوروچیف) پارلیمان کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا نوٹس لیتے ہوئے وزار ت نیشنل فوڈ سکیورٹی سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی،کمیٹی نے ایف بی آر سمیت مختلف وزارتوں میں اندرونی آڈٹ نظام کو بہتر بنانے اور آڈٹ اعتراضات کو ڈیلی سطح پر نمٹانے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ چیئرمین ایف بی آر اور آڈیٹر جنرل سمیت دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور ایف بی آر کے مالی سال 2023/24کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیااجلاس کو آڈٹ حکام نے بتایا کہ کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کیلیے سپاٹ خریداری پر 1 ارب 15 کروڑ کی بیضابطگی سامنے آئی ہے جس پر چیئرمین ایٹمی ٹوانائی کمیشن نے بتایا کہ ہم نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے قواعد کے مطابق تمام خریداریاں کی ہیں انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کیلیے چین سے تاحیات سٹورز فراہم کرنے کا معاہدہ تھا تاہم کرونا کی وجہ سے چین نے سپلائی نہیں کی جس کی وجہ سے سٹورز آئٹمز مارکیٹ سے خریدنا پڑے انہوں نے کہاکہ تمام خریداریاں شفاف طریقے سے ٹینڈرز کے ذریعے کی گئی ہیں اس موقع پر رکن کمیٹی نے کہاکہ اداروں اور وزارتوں کو تمام خریداریوں کے دوران قواعد و ضوابط کی پابندی کرنی چاہیے انہوں نے کہاکہ کوئی بھی ادارہ من مرضی سے خریداریاں نہیں کرسکتا ہے رکن کمیٹی نے کہاکہ جہاں قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو ملوث افسران کے خلاف کاروائی کریں اس موقع پر آڈیٹر جنرل نے کہاکہ ہر محکمے میں اندرونی مالیاتی نظام کا شفاف ہونا ضروری ہے انہوں نے کہاکہ بہت سے اداروں میں چیف فنانشل آفیسرز اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے ہیں رکن کمیٹی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ آڈٹ نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں انہوں نے کہاکہ ہم کوئی چیز چھپانا نہیں چاہتے ہیں تمام معاملات میں شفافیت لازمی ہے چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ اصلاحات کے معاملے پر جلد آڈیٹر جنرل آفس کا دورہ کرینگے اور وہاں میٹنگ کرینگے آڈیٹر جنرل نے کہاکہ اس وقت مختلف وزارتوں اور اداروں کے پانچ سے چھ لاکھ آڈٹ اعتراضات زیر التوا ہیں رکن کمیٹی جنید انوار نے کہاکہ جب تک جزا وسزا کا نظام نہیں ہوگا بہتری نہیں آئے گی انہوں نے کہاکہ پی اے سی کو بتایا جائے کہ محکمانہ اکانٹس کمیٹی نے کیا تجاویز دی ہیں اس موقع پر آڈیٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ جب سے یہ پی اے سی بنی ہے مختلف اداروں اور وزارتوں سے 30 ارب روپے وصول کئے گئے ہیںانہوں نے کہاکہ پی اے سی بنتے ہی وصولیاں شروع ہوجاتی ہیں اجلاس کو آڈٹ حکام نے بتایا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے ٹینڈر کے بغیر 2کروڑ 36 لاکھ روپے سے زائد کی خریداری اور ملازمین کو ایڈوانسز دئیے گئے جس پر حکام نے بتایا کہ تمام معاملات درست کر لئے گئے ہیں ایڈیٹر جنرل پاکستان نے کہاکہ آڈٹ اعتراضات دستیاب ریکارڈ کے مطابق بنایا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ کوویڈ کی وجہ سے بھی کچھ مسائل سامنے آئے ہیں جن کو درست کر لیا جاتا ہے رکن کمیٹی نے کہاکہ بار بار اس طرح کی خلاف ورزیاں نہیں ہونی چاہیے حکام نے بتایا کہ روزانہ 50کروڑ کی بجلی پیدا کرکے نیشنل گرڈ میں دیتے ہیں انہوں نے کہاکہ بجلی کی فروخت کے ساتھ ہی پیسے نہیں ملتے ہیں اس وقت ہم 8فیصد بجلی دیتے ہیں جبکہ گرمیوں میں 25فیصد بجلی دیتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمیں 70فیصد بجلی کی رقم لازمی چاہیے تاکہ فیول اور دیگر ضروریات کو پورا کرسکیں سید نوید قمر نے کہاکہ گردشی قرضوں کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے اس موقع پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ممبر فنانس نے کہاکہ اس وقت ہمارے 340ارب روپے بجلی کی مد میں بقایا جات ہیں حکام نے بتایاکہ اس وقت پورے ملک میں 20کینسر کے ہسپتال چلا رہے ہیں اور ان تمام ہسپتالوں کو اپ گریڈ کر رہے ہیںرکن کمیٹی ثناء اللہ مستی خیل نے کہاکہ کیا تابکاری اثرات سے کینسر کے امراض میں اضافہ ہوا ہے جس پر کام نے بتایا کہ نیوکلیئر پار پلانٹس سے کینسر کے خطرات نہیں بڑھتے ہیں حکام نے بتایا کہ سی پی پی اے نے 62ارب روپے کی بجلی کی ادائیگی سی پی پی اے کو نہیں کی جس کے بعد دوبارہ اینوائسس بھجوائے گئے رکن کمیٹی حسین طارق نے کہا کہ پہلے رقم دینے سے انکار کیا گیا اور یہ خاموشی بیٹھ گئے اس میں کوئی مسئلہ ہے جس پر ڈی جی فنانس نے کہا کہ بجلی کی ڈیمانڈ کے مطابق فراہم کی جاتی ہے اور یہ ایک نارمل طریقہ کار ہے آڈیٹر جنرل نے کہا کہ ایک سال تک رقم بقایا تھی اور ہم نے اس کی نشاندھی کی اور اس دوران ڈی اے سی نہیں ہوئی تھی ڈی اے سی ہونے کے بعد بتایا گیا کہ ریلوری ہوگء ہے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 807ارب میں صرف 7ارب کی وصولی کی ہے ایف بی ار نے جس پر چیئرمین ایف بی ار نے کہا کہ اس میں مختلف کیسز ہیں ایک شخص نے اربوں روپے فراڈ کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکا آڈٹ حکام نے بتایا کہ ایف بی ار کے کامن پول فنڈ میں اربوں روپے ہے جس کا اڈٹ نہیں کیا جاتا ہے جس پر چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ یہ کسٹمز کا اکانٹ ہے اس موقع پر ممبر کسٹمز نے کہا کہ جو رقم ہم وصول کرتے ہیں وہ انعامی رقم ہوتی ہے جوکہ پرائیویٹ رقم ہوتی ہے اور یہ کسٹم ایکٹ کے تحت جمع ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ تمام ڈیوٹیاں وفاقی حکومت کے اکانٹ میں جاتی ہے تاہم جی ڈی پروسیسنگ فیس بھی کامن پول فنڈ میں چلا جاتا ہے رکن کمیٹی عمر ایوب خان نے کہا کہ یہ عوام کا پیسہ ہے اس کا اڈٹ ہونا چاہیے چیئرمین کمیٹی نے کہا بورڈ کی ہدایات موجود ہیں رکن کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ تمام رقومات کا اڈٹ ضروری ہے چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس فنڈ کو برقرار رہنے دیں تاہم اس کا اڈٹ ہونا چاہیے انہوں نے کہا اصولی طور پر تمام انعامی رقم افسران کوملنا چاہیے کمیٹی نے معاملے کو موخر کرتے ہوئے ایک ماہ میں رولز بنانے کی ہدایت کی اڈٹ حکام نے بتایا کہ میسرز نے 314ارب روپے کا ٹیکس فراد کیا اور اس کا ریکارڈ نہیں دیا گیا جس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس میں صرف 68ملین کا فراڈ ہوا ہے جس میں 28ملین ریکوری بھی ہوئی ہے اور یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے آن کے خلاف ایف آئی آر درج ہے اب ایس ار او جاری کردی گئی ہے جس سے کرپشن کا راستہ بند ہوگا چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس ملک میں فیک اور فلائنگ اینوائسز کا سلسلہ جاری ہے جس کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیںکمیٹی نے معاملہ دوبارہ ڈی اے سی میں لے جانے کی ہدایت کی آڈٹ حکام نے بتایا کہ ایب ار کے 17فیلڈ افسز میں 104چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ کچھ ریکوری ہوئی ہے اور بعض معاملات عدالتوں میں زیر التوا ہیں کمیٹی نے معاملے کو دوبارہ ڈی اے سی میں بھجوانے کی ہدایت کی چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس قوانین کے آڈٹ کے دوران ڈی اے سی میں ماہرین ٹیکس کو بھی شامل کرنے کی اجازت دی جائے چیئرمین کمیٹی نے تمام اعتراضات کو کلپ کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی ار کو ماہانہ بنیادوں پر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ خاتون نے جو زبان استعمال کی تھی وہ وفاقی وزیر کے افس کے دفتر کے حوالے سے درست نہیں تھی انہوں نے کہا کہ مذکورہ خاتون افیسر نہایت ایماندار ہیں تاہم ان کی زبان درست نہیں تھی کمیٹی نے وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی سے حالیہ چینی بحران کے حوالے سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں