چین امریکہ تجارتی جنگ بڑھ گئی

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ چین سے امریکا کو برآمد کی جانے والی تمام مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔ یہ اقدام دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان ایک ممکنہ شدید تجارتی جنگ کو جنم دے سکتا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چینی اشیا پر محصولات میں اضافہ کریں گے اور تمام اہم سافٹ ویئر پر نئی برآمدی پابندیاں نافذ کریں گے۔یہ اقدام بظاہر چین کے ٹیکنالوجی کے شعبے کو نشانہ بنانے کے لیے ہے۔ ان کا اعلان چین کی جانب سے حالیہ دنوں میں نایاب ارضیاتی دھاتوں پر نئی برآمدی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جو کہ امریکا کے ساتھ متوقع تجارتی مذاکرات سے قبل کیا گیا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے پوسٹ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کی جس میں انہوں نے لکھا کہ، اس حقیقت کی بنیاد پر کہ چین نے یہ بے مثال مقف اختیار کیا ہے، امریکا چین پر مزید 100 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔انہوں نے لکھا کہ، یہ محصولات یکم نومبر یا اس سے قبل نافذ العمل ہوں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدرشی جن پنگ سے ملاقات منسوخ نہیں کی، یقین ہیغزہ جنگ بندی برقرار رہے گی، پیرکے روز یرغمالیوں کی واپسی شروع ہوگی، دورہ اسرائیل میں پارلیمنٹ سے خطاب کروں گا۔ٹرمپ نے اس اعلان سے چند گھنٹے قبل ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پوسٹ میں کہا تھا کہ چین نے دنیا بھر کے ممالک کو نایاب معدنیات کی برآمدی پابندیوں سے متعلق خط بھیجے ہیں، جس میں وہ نایاب دھاتوں کی پیداوار سے متعلق تمام عناصر پر برآمدی کنٹرول لگانے کے منصوبے کا ذکر کر رہا ہے۔ ان خطوط کا حوالہ غالبا بیجنگ کی پالیسی کی طرف تھا۔ٹرمپ نے دعوی کیا کہ انہیں کچھ ممالک کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے جو بیجنگ کے اقدامات سے ناراض ہیں، اور انہوں نے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کیوں کہ چین کے ساتھ حالیہ تعلقات بہت اچھے تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کو امریکی سافٹ ویئر کی برآمد پر پابندیاں اس کے ٹیکنالوجی سیکٹر، خاص طور پر کلاڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت، کے لیے زبردست دھچکا ثابت ہو سکتی ہیں۔ٹرمپ نے طیاروں اور ان کے پرزہ جات پر بھی برآمدی پابندیوں کی دھمکی دی ہے، جبکہ اس معاملے سے واقف ایک شخص نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ دیگر ممکنہ اہداف پر بھی غور کر رہی ہے۔چین طویل عرصے سے واشنگٹن سے یکطرفہ تجارتی پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا آیا ہے، جنہیں وہ عالمی تجارت کے لیے نقصان دہ قرار دیتا ہے۔چینی مصنوعات پر پہلے ہی امریکا کی جانب سے 30 فیصد ٹیرف عائد ہے۔ اب نئے درآمدی ٹیکس کے اعلان کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی گر گئیں۔صدر ٹرمپ کی چین کو ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیوں اور امریکا-چین تعلقات میں ایک بار پھر نیا بھونچال پیدا کر دیا ہے۔چین دنیا بھر میں 90 فیصد سے زائد نایاب ارضیاتی دھاتوں اور میگنیٹس کی تیاری کرتا ہے۔ یہ دھاتیں برقی گاڑیوں، ہوائی جہازوں کے انجنوں اور فوجی ریڈار سسٹمز جیسے مصنوعات میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ٹرمپ کے اس اچانک اعلان نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے باعث پانچ سو ایس اینڈ پی انڈیکس میں دو فیصد سے زائد کمی آئی ہے جو اپریل کے بعد ایک دن میں سب سے بڑی گراوٹ تھی، جب ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں نے مارکیٹ میں اتار چڑھا پیدا کیا تھا۔دریں اثنائ۔بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے امریکی کمپنیوں، تنظیموں اور افراد کے زیرِ ملکیت یا آپریٹ کردہ بحری جہازوں پر خصوصی پورٹ فیس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا نفاذ 14اکتوبر سے ہوگا۔اس بات کا اعلان چین کی وزارت ٹرانسپورٹ نے کیا جس میں کہا گیا کہ یہ اقدام امریکا کی جانب سے سیکشن 301تحقیقات کے بعد چینی جہازوں پر اضافی پورٹ فیس نافذ کرنے کے فیصلے کے ردعمل میں اٹھایا گیا جو آئندہ منگل سے موثر ہو گا۔ چینی وزارت ٹرانسپورٹ نے مزید واضح کیا کہ جن جہازوں پر یہ فیس لاگو ہوگی ان میں وہ بحری جہاز بھی شامل ہیں جو امریکی کمپنیوں، تنظیموں یا افراد کے زیر ملکیت یا آپریٹ کیے جا رہے ہوں جن اداروں میں امریکی مفاد (براہِ راست یا بلاواسطہ) 25فیصد یا اس سے زیادہ ہو اور وہ تمام بحری جہاز جو امریکی ہوں یا امریکا میں تیار کیے گئے ہوں۔سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق چین نے اعلان کیا کہ یہ خصوصی فیس مرحلہ وار عائد کی جائے گی، پہلے مرحلے میں 14اکتوبر سے ایسے تمام امریکی بحری جہازوں کیلیے فیس 400یوان فی نیٹ ٹن (تقریبا َ56.3امریکی ڈالر) مقرر کی گئی ہے۔یہ فیس آئندہ تین سالوں تک ہر سال 17اپریل کو بتدریج بڑھائی جائے گی۔وزارت نے اس فیصلے کو چینی بحری کمپنیوں کے قانونی حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے جائز اقدام قرار دیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی اقدامات بین الاقوامی تجارتی اصولوں اور چین-امریکا بحری نقل و حمل کے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہیں جن سے دونوں ممالک کے درمیان بحری تجارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔چینی وزارت نے امریکا پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اپنی غلط پالیسیوں کی اصلاح کرے اور چین کی بحری صنعت کو بلاجواز دبانے کا سلسلہ بند کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں