59

چین امریکہ کشیدہ تعلقات ‘ عالمی تجارت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں (اداریہ)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین’ کینیڈا اور میکسیکو کی درآمدی مصنوعات پر بھاری ٹیکسز عائد کر کے تجارتی جنگ چھیڑ دی’ صدر ٹرمپ نے 3صدارتی حکم ناموں کے ذریعے میکسیکو اور بیشتر کینیڈین درآمدات پر 25فیصد اور چین سے آنے والی اشیاء پر 10فی صد ٹیکسز عائد کر دیئے ہیں بیجنگ اوٹاوا اور میکسیکو نے سخت جوابی ردعمل دیا ہے ٹرمپ نے ایک بار پھر کینیڈا کو پیش کش کی ہے کہ وہ امریکہ کی 51 ویں ریاست بن جائیں’ ٹیکس کم ہو جائیں گے جبکہ چین نے عالمی ادارہ تجارت (ڈبلیو ٹی او) جانے سمیت مختلف جوابی اقدامات اٹھانے کا اعلان کر دیا کینیڈا اور میکسیکو نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کے ٹیکسز کا مقابلہ کرنے کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں دونوں ملکوں نے امریکہ پر جوابی 25 فی صد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے کینیڈین وزیراعظم جسٹسن ٹروڈو نے اپنی عوام سے امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر دیا ہے،، ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنی من مانیاں شروع کر دی ہیں جس سے عالمی تجارت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اس وقت چین ہی ایسا ملک ہے جو امریکہ سے تجارتی اور دیگر معاملات پر ٹکر لے سکتا ہے امریکہ چین کی تیز رفتار اقتصادی ترقی سے پریشان ہے جسکی وجہ سے چین کے عالمی اثر ورسوخ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے امریکہ چین کو ایک بڑے مدمقابل کے طور پر دیکھتا ہے خاص طور پر ٹیک انڈسٹری میں چین کی کمپنیاں HUAWEI-ZTE امریکہ کے غلبہ کیلئے خطرہ ہیں تجارت دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کا ایک اہم نکتہ رہا ہے، امریکہ نے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں اور دانشورانہ املاک کی چوری کا حوالہ دیتے ہوئے چینی اشیاء پر محصولات عائد کئے ہیں چین نے اپنے محصولات کے جوابی کارروائی کی ہے جس سے تجارتی جنگ چھڑ گئی ہے جس کے دونوں معیشتوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں امریکہ نے ایشیا پیسیفک کے علاقے بالخصوص بحیرہ جنوبی چین میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے امریکہ چین کے اقدامات کو علاقائی استحکام اور اس کے اپنے قومی سلامتی کے مفادات کے لیے خطرہ کے طور پر دیکھتا ہے امریکہ نے نہ صرف چین بلکہ کینیڈا میکسیکو سے بھی تجارتی جنگ چھڑی ہے جس کا اسے تینوں معیشتوں کی جانب سے شدید ردّعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جیسا کہ درج بالا سطور میں عرض کیا جا چکا ہے کہ چین سے اس وقت ٹکر لینا کوئی آسان کام نہیں چین کی معیشت نہ صرف مستحکم بلکہ اسے عالمی تجارت میں بہت زیادہ پذیرائی حاصل ہے اگر دونوں ملکوں امریکہ اور چین کے مابین تجارتی تنائو بڑھا تو اس سے عالمی تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے عالمی سپلائی چین میں خلل جسکی وجہ سے قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہو گا سٹاک مارکیٹس گریں گی اور کرنسیوں میں زبردست اتار چڑھائو آئے گا ممکنہ طور پر ایک عالمی کساد بازاری واقع ہو گی جس سے لاکھوں لوگ متاثر ہوں گے تنازعہ پڑوسی ممالک تک پھیل جائے گا اور دوسری قوموں کو کھینچ لے گا امریکہ ممکنہ طور پر یورپی اتحادیوں کو شامل کرتے ہوئے نیٹو کی اجتماعی شق کو استعمال کرے گا، جنگ بین الاقوامی اداروں اور عالمی گورننس کو کمزور کر دے گی ان حالات میں امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی کوششیں اور بات چیت بہت ضروری ہے اقوام متحدہ جیسی بین الاقوامی تنظیمیں تنازعات کے حل اور پُرامن حل کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں امریکہ اور چین کی اس تجارتی جنگ کے عالمی امن’ استحکام اور معیشتوں کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے،، اگر ٹرمپ نے اپنی ضد نہ چھوڑی اور چین کے ساتھ معاملات افہام تفہیم کے بجائے دھونس دھاندلی سے حل کرنے کی کوششیں کیں تو اسے چین کے سخت ردّعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس تنازعہ کے بُرے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں چین ہارنے والوں میں سے نہیں اس وقت امریکہ نے چین کے ساتھ ساتھ میکسیکو’ کینیڈا کی مصنوعات پر ٹیکسز عائد کر کے تینوں مضبوط معیشتوں سے ٹکر لی ہے یہ ضروری تو نہیں کہ امریکہ غالب آئے ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ چین’ میکسیکو’ کینیڈا کے ساتھ ساتھ اور کئی ممالک بھی امریکہ کے ان اقدامات کے خلاف امریکہ مخالف گروپ میں شامل ہو جائیں اگر ایسا ہوا تو امریکہ کو بھی مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں لہٰذا اس حوالے سے عالمی قوتوں کو معاملات کو سنبھالنے کے لیے آگے آنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی تجارت متاثر ہونے سے محفوظ رہ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں