ڈاکٹرز،کمپیوٹرائزڈ نسخہ لکھیں گے’ قانون سازی کی تیاری

منڈی صادق گنج(نامہ نگار)پنجاب بھر میں ڈاکٹرز کے ہاتھ سے نسخہ لکھنے پر پابندی کی تیاری ، کمپیوٹرائزڈ نسخہ لازمی قرار دینے کی قانون سازی کا امکان لازم دینے کی کا ، ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے صوبے بھر کے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے ہاتھ سے نسخہ لکھنے پر پابندی عائد کرنے کیلئیقانون ساز ی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت اب ڈاکٹر ز مریضوں کو کمپیوٹرائزڈ نسخہ فراہم کرینگے یا ادویات کے نام واضح اور بڑے حروف میں تحریر کرنا لازمی ہوگا۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ مریضوں کو درپیش مشکلات اور ادویات کی غلط تشریح کے باعث کیا گیا ہے۔حکومت کا موقف ہے کہ اکثر ڈاکٹر ز مبہم اور ناقابل فہم انداز میں نسخے تحریر کرتے ہیں، جنہیں صرف مخصوص میڈیکل اسٹورز کے مالکان ہی سمجھ پاتے کے ہیں، جبکہ عام میڈیکل اسٹور پر وہ نسخہ قابل استعمال نہیں ہوتا۔ حکام کے مطابق اس عمل کے پیچھے بعض کمپنیوں اور ڈاکٹرز کے درمیان کمیشن مافیا کارفرما ہے، جہاں مخصوص ادویات کو خفیہ کوڈ یا غیر واضح انداز میں لکھا جاتا ہے، جس سے مریضو ں پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں