ڈاکٹر اقرار احمدخاں نے وی سی ہائوس خالی کر دیا

فیصل آباد (آن لائن) زرعی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقراراحمد خاں نے آخر کار سرکاری رہائشگاہ وی سی ہائوس خالی کردیا گذشتہ روز سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے ریٹائرمنٹ کے سرکاری رہائشگاہ میں رہائش پذیز تھے اور انہوں نے وہاں ایک پریس کانفرنس کرنے کی کوشش کی تھی جوکہ پنجاب کے آئینی سربراہ گورنر پنجاب /چانسلر یونیورسٹیز سلیم حید ر کے خلاف کرنی تھی جس پر زرعی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں کو پریس کانفرنس سے منع کیا بلکہ میڈیا کو وی سی ہائوس نہیں جانے دیا گیا اور ساتھ سابق وائس چانسلر کو وی سی ہائوس فوری خالی کرنے کا نوٹس بھی جاری کردیا جس پر گذشتہ رات سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں بل آخر انتظامیہ کی کارروائی کے خوف سے سرکاری خالی کردی اپنے سامان وغیرہ لیگئے یاد رہے کہ گذشتہ انہوں نے پنجاب کے آئینی سربراہ گورنر پنجاب /چانسلریونیورسٹیز سیلم حید ر کے خلاف فیصل آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سنگین الزامات عائد کردیئے یا د رہے کہ اس سے قبل گورنر پنجاب /چانسلرزرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے سابق وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر اقرار احمد خاں کے ریٹائرمنٹ سے قبل یکے بعد دیگرے سلیکشن بورڈ اور سنڈیکیٹ اجلاس کرتے ہوئے خلاف ضابطہ یونیورسٹی میں پروفیسر زسمیت بے شماربھرتیاں کو غیرقانونی قرار دیتے ہو ئے منسوخ کر دیا،آئین کے مطابق دوبار ہ بھرتیوں پر غور کرنے کا حکم دیاتھاجبکہ سابق گورنر پنجاب بیلغ الرحمان نے بھی سابق وائس چانسلر اقرار احمد کو اپنے بیٹے نہال احمد کو سکالرشپ کیلئے بیرون ملک بھجوانے،بھائی ڈاکٹر اظہار خاں اور دیگر رشتے داروں کو نوازنے سمیت اختیارات کا ناجائز، مبینہ کرپشن، اقربا پروری سمیت بے شمارملازمین کو بھرتی کرنے کے سنگین الزامات کے خلاف تحقیقات کرنے کا حکم دے رکھا تھا جس پر کارروائی کی جارہی ہے آن لائن کے مطابق سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں گذشتہ 15سال تک وائس چانسلر رہے ہیں،زرعی یونیورسٹی کے قانون کے مطابق کسی بھی وائس چانسلر کو ریٹائرمنٹ کے بعد وی سی ہائوس کو ایک ہفتہ میں خالی کرنا ہوتا ہے مگرسابق وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے ریٹائرمنٹ کے بعد تاہم وی سی ہائوس خالی نہیں کیا گذشتہ روز وی سی ہائوس میں ایک پریس کانفرنس کی میڈیا کو اطلاع دی جس پر یونیورسٹی کی انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہو ئے سابق وائس چانسلر کو پریس کانفرنس کرنے سے منع کردیا اور فوری وی سی ہائوس بھی خالی کرنے کا نوٹس دیدیا بعدازاں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار خاں نے پنجاب کے آئینی سربراہ گورنر پنجاب /چانسلریونیورسٹی سیلم حید ر کے خلاف فیصل آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس میں سنگین الزامات عائدکرتے ہوئے کہاکہ یونیو رسٹی ایک ایکٹ اور قانون کے مطابق کام کرتی ہے میں نے تمام بھرتیاں قانون کے مطابق کی ہیں اور گو رنر پنجاب نے سیا سی طو پرانتقا می کاروائی کرتے ہوئے 228ملا زمین کو معطل کیا ہے،زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے گورنر پنجاب کے حکم کو یکطرفہ، غیر قانونی، اور سیاسی قرار دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کہا کہ یہ فیصلہ تعلیمی معاملات پر سیاسی اثر و رسوخ قائم کرنے کی ایک کوشش ہے، جو نہ صرف یونیورسٹی کے تعلیمی معیار بلکہ اس کے انتظامی ڈھانچے کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ اس موقع پر انہوں نے ایک سوال کا زرعی یو نیورسٹی میں ہو نے والی بھر تیوں اور اپنے رشتہ داروں اور بھا ئی کو پروفیسر کے عہدہ پر ترقی دینے کے الزامات پرکو ئی خا طر خواہ جواب نہ دے سکے یہ قا بل ذکرہے کہ ڈاکٹر اقرا ر احمد پر اپنی چودہ سال کی تعینا تی کے دوران مختلف بے قا عدگیو ں او ر تعمیراتی کاموں میں کروڑوں روپے مبینہ طور پر کر پشن کر نے کے الزامات ہیں جبکہ کما لیہ یو نیو رسٹی کے چا رج کے دوران بھی مختلف الزاما ت کی اینٹی کر پشن میں تحقیقا ت جاری ہے، علاوہ ازیں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں کے خلاف اپنے بیٹے بھائی دیگر رشتے داروں کو نوازنے اورغیر قانونی بھرتیوں سمیت اختیارات کے ناجائز استعمال،مبینہ کرپشن جیسے سنگین الزامات کی تحقیقات جاری ہے زرعی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اقرار احمد سے سرکاری رہائش گاہ سے قبضہ ختم کرایا جائے۔اختیارات سے ناجائز استعمال اور مبینہ طور پر غیر قانونی بھرتیوں اور ترقیوں کی اعلی سطح پر تحقیقات کرائی جائے حال ہی میں گورنر پنجاب /چانسلر یونیورسٹیز سلیم حیدرنے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے اپنی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل جولائی تا اکتوبر 2024 کے دوران اپنے منظور نظر پروفیسرز’ ایسوسی ایٹ پروفیسرز’ اسسٹنٹ پروفیسر اور دیگر کو نوازنے کیلئے یکے بعد دیگرے سلیکشن بورڈ کے 14اجلاس بلا کر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بے شمار افراد کو بھرتی کیا گیا جن میں 103 نئے اور 125یونیورسٹی میں کام کرنیوالے سمیت دیگر ملازمین شامل تھے اور انٹرویو کے خلاف من پسند افراد کو نوازنے کیلئے ٹیسٹ کے حاصل کردہ نمبرز میں ہیراپھیری کی گئی اور اہل امیدواروں کو نظرانداز کر دیا گیا۔ اکثر امیدواروں کے ٹیکنیکل’ تجربے کے اضافی نمبرز دیئے گئے اور تھرڈ پارٹی کی خدمات بھی حاصل نہ کی گئی جس پر گورنر پنجاب نے سلیکشن بورڈ اور سنڈیکیٹ اجلاس کے فیصلوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اور بے شمار افراد کی بھرتیوں کو قوائد وضوابط کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کرد یا اور سنڈیکیٹ کمیٹی کو کہا گیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر تمام معاملات کی مکمل چھان بین کرتے ہوئے جامع رپورٹ طلب کر لی اور مذکورہ نشستوں کو قانون کے مطابق تشہیر کر کے دوبارہ بھرتیاں کی جائیں۔یادرہے کہ سابق وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر اقرار احمد خاں کیخلاف مبینہ کرپشن، اقربا پروری سمیت دیگر الزامات کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں