ڈاکٹر محی الدین کی فکر ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکی ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان عوامی تحریک کے ضلعی سیکرٹری اطلاعات/ ہیڈ سوشل میڈیا ٹیم فیصل آباد منظور حسین رحمانی نے کہا ہے کہ SECP اور اسٹیٹ بینک کا کانسیپٹ پیپر دراصل پرو فیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی فکر کا عکس ہے اور یہ منہاج القرآن کے لئے اعزاز کی بات ہے یہ لمحہ خوشی، شکر اور فخر کا ہے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی پالیسی سازی کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل سے وابستہ ایک علمی رہنما کی پیش کردہ معاشی تجاویز کو ریاستی اداروں نے باقاعدہ اپنایا اور اس پر عملدرآمد کا آغاز کیا۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے جو حالیہ کانسیپٹ پیپر جاری کیا ہے، جس کی بنیاد پر پاکستان کی نئی معاشی قانون سازی کی جا رہی ہے، وہ لفظ بہ لفظ ان نکات پر مشتمل ہے جو پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اپنی بین الاقوامی شہرت یافتہ کتاب “Beyond the IMF” میں پیش کیے تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ بات خود اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک اہم میٹنگ میں کہی گئی کہ: “ہم اسی ماڈل پر کام کر رہے ہیں جو آپ نے اپنی کتاب میں پیش کیا۔” یہ محض ایک علمی اتفاق نہیں، بلکہ منہاج القرآن کے علمی وقار کا سرکاری سطح پر اعتراف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی فکر اب صرف جامعات یا کانفرنسز کی حد تک محدود نہیں رہی، بلکہ ریاستی پالیسی سازی کا حصہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ منہاج القرآن کی تحریک صرف روحانی تربیت نہیں بلکہ فکری و معاشی رہنمائی کا مینار بھی ہے۔ یہ منہاج القرآن کے ہر کارکن، ہر طالب علم، اور ہر عاشقِ مصطفی ۖ کے لیے ایک غیر معمولی اعزاز ہے کہ ان کی تحریک کی فکر کو ریاستی ادارے رہنمائی کا ذریعہ مان رہے ہیں۔ یہ پاکستان کے معاشی خود انحصاری کی طرف پہلا سنجیدہ قدم ہے، اور منہاج القرآن اس کارواں کی قیادت کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں