64

ڈیڑھ برس میں ریکارڈ توڑ مہنگائی (اداریہ)

ملک میں مہنگائی نے لوگوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے آٹا’ چینی’ گھی’ دودھ’ دہی’ چکن’ بیف’ مٹن’ چاول’ دالیں’ مصالحہ جات’ سبزیاں’ پھل ہر شے عوام کی پہنچ سے دور ہو گئی ہے، معاشی زبوں حالی وبدحالی کی جو صورت حال ہے اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا صورتحال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے حالات سب کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں، پہلی بار ہوا ہے کہ اب غریب ہی نہیں امیر بھی پریشان نظر آ رہا ہے آئی ایم ایف نے شرائط کی ایسی تلوار لٹکا دی ہے کہ مانے بغیر چارہ نہیں جن شرائط پر اکتفا کیا جا رہا ہے ان میں گیس اور بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ بھی شامل ہیں بجلی کے نرخوں میں اضافے کی شرح قابل یقین حد تک بڑھ چکی ہے لوگ گھروں کا قیمتی سامان بیچ کر بجلی کے بل جمع کرا رہے ہیں اگرچہ قوم نے کئی بُرے ادوار دیکھے تاہم ایسے دنوں کا کبھی سامنے نہیں کیا پاکستان میں گزشتہ ڈیڑھ برس سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں ایسے میں کسی گھر میں صرف ایک کمانے والا ہو تو کیا اس کی محدود آمدن سے گھر چلانا ممکن ہے؟ ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح کا تناسب دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ شاید ملک کی بیشتر آبادی کے لیے اب ایسا ممکن نہیں رہا لوگوں کی اکثریت آمدن بڑھانے کے طریقے تلاش کر رہی ہے لیکن کیا ہر کسی کے لیے ایسا کرنا ممکن بھی ہے؟ اس کوشش میں کیا ان کو جینے کیلئے اَن دیکھی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے؟ آج کے زمانے میں کوئی شخص ایسا نہیں جو اس بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان نہ ہو، کئی شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل کر مہنگائی کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں گیس بجلی کے نرخوں میں اضافہ نے غریبوں کو دن میں تارے دکھا دیئے ہیں ان کی بلوں کی ادائیگی مشکل ترین مسئلہ بنتی جا رہی ہے صنعتی پیداوار پر بھی بُرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، ان مسائل کو دور کرنے کے لیے بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے ترقی وخوشحالی کے لیے زرعی پیداوار کو بڑھانے کی ضرورت ہے انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہے محنت کش کا روزگار چھن چکا ہے روزگار کے نئے مواقع ملنا تو درکنار اب تو جو لوگ روزگار پر لگے ہیں ان کا مستقبل بھی غیر واضح ہے حکومت کے عوام کو تسلی دینے کیلئے فلاحی اقدامات کے اعلانات بھی عوام کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے آبادی کی غیر معمولی بڑھتی ہوئی رفتار خوشحالی کے راستے میں رکاوٹ بن گئی ہے جو حالات ہیں ان میں مہنگائی کا بڑھنا قدرتی امر ہے موجودہ مہنگائی کی صورت حال کو منافع خوری اور بلیک مارکیٹنگ نے اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ درمیانے اور متوسط طبقے کے لوگ بھی پیٹ بھرنے اور تن ڈھانپنے جیسی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہیں غربت میں کمی کی بجائے بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے، مفلسی اور بدحالی کو روکنے کیلئے حکومت کے اقدامات ناکافی ہیں عوامی اضطراب بڑھ رہا ہے لوگوں کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے مہنگائی کا مسئلہ جلد یا بدیر حل ہوتا نظر نہیں آتا اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو موجودہ حکومت کیلئے مشکلات کا ایسا سلسلہ شروع ہو گا جن پر قابو پانا نہ صرف دشوار بلکہ ناممکن ہو گا حکومتی معاشی ٹیم کو بہت زیادہ سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے، پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ حکمرانوں نے ہر دور میں بنیادی مسایل کے دیرپا اور پائیدار حل کے بجائے ”ڈنگ ٹپائو” کی پالیسی اختیار کی ہے معاشی پالیسیاں ہوں’ سیاسی استحکام ہو یا عام آدمی کے مسائل ہر شعبے میں حکمرانوں نے وقتی فائدہ دیکھتے ہوئے کام کیا ہے مہنگائی نے ملک کے عوام کا جو حال کیا ہے وہ سب کے سامنے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے حکمران اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب عوام حکمرانوں کیخلاف سڑکوں پر نکلیں گے؟ سیاسی جماعتیں اپنے اقتدار کے لیے کوشاں ہیں، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جا رہی ہیں آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کیلئے اسکی سخت شرائط قبول کرکے ان پر عملدرآمد شروع کرانا حکمرانوں کا وطیرہ بن چکا ہے موجودہ بجٹ آئی ایم ایف کی ہدایت پر بنایا گیا ٹیکسوں کی بھرپور سے ہر شعبہ متاثر ہو رہا ہے غریب کی زندگی اجیرن بن چکی ہے مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے مگر اس کے باوجود حکومت تمام تر وسائل کے باوجود کچھ نہیں کر سکی جو لمحہ فکریہ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم انکی کابینہ اور حکومتی مشینری مل کر اس کا حل نکالیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں