77

کاروباری طبقہ کو ریلیف فراہم کیا جائے (اداریہ)

ملک میں چند برسوں سے کاروباری طبقہ میں عجیب سی بے چینی چھائی ہوئی ہے کاروبار پر جمود طاری ہے مارکیٹوں’ بازاروں’ شاپنگ سنٹرز میں خریداروں کا رش نہ ہونے کے برابر ہے 20سال قبل ملک میں کاروباری طبقہ نہ صرف خوشحال تھا بلکہ ہر شاپ پر کئی کئی سیلز مین خریداروں’ گاہکوں کو مطلوبہ شے کی فراہمی کیلئے چوکس رہتے تھے پھر عالمی طور پر کورونا کی وباء پھیل گئی تو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بزنس کمیونٹی بُری طرح متاثر ہوئی ملیں، کارخانے، فیکٹریوں’ دکانوں سے ملازمین کی ڈائون سائزنگ شروع ہو گئی انڈسٹری کی بندش کے بعد بے روزگاری بڑھ گئی دکانیں بند رہنے سے کاروباری طبقہ کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا تعلیمی اداروں کی بندش سے ایجوکیشن سسٹم متاثر ہوا زرعی سیکٹر کو بھی نقصان پہنچا یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کو روزی روٹی کے لالے پڑ گئے تعمیراتی کام ٹھپ ہو گئے میٹریل فروخت کرنے والے بدحال ہو گئے معیشت کو شدید دھچکا پہنچا کورونا کی وباء کے دوران کاروباری طبقہ کو جو نقصان پہنچا اس کا تاحال ازالہ نہ ہو سکا دنیا کے دیگر ممالک نے اپنی حکمت عملی اور عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے اس وباء پر قابو پا لیا اور اپنے اپنے ممالک کی معیشت کو ایک بار پھر ٹریک پر ڈال لیا مگر پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک کو معاشی طور پر نہ سنبھالا جا سکا پی ٹی آئی کے دور حکومت میں سیاسی انتشار اتنا بڑھا کہ سیاستدان آپس میں الجھ گئے عوام’ کاروباری طبقہ’ انڈسٹری کے مسائل حل کرنے کی حکومت کو ہوش نہیں رہی یوں کاروباری طبقہ دن بدن مختلف مسائل کا شکار ہوتا رہا عام انتخابات کے بعد اتحادی حکومت نے اقتدار سنبھالا اور ملکی معیشت کو سنبھالا دینے اور نظام حکومت چلانے کے ساتھ ساتھ بیرونی قرضوں کے سود کی قسطوں کیلئے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ فراہمی کی اپیل کی جس کے بعد ملک کو قرضہ تو مل گیا مگر اس کے بُرے اثرات اسی دن سے شروع ہو گئے وفاقی بجٹ سے قبل ہی آئی ایم ایف نے اپنی شرائط حکومت کے ساتھ رکھ دیں جن میں گیس’ بجلی کے نرخوں میں اضافہ ٹیکس محاصل بڑھانے دکان داروں’ پراپرٹی کا کاروبار کرنے والوں سمیت دیگر کاروباری طبقہ پر ٹیکس عائد کرنا شامل تھا حکومت نے شرائط تسلیم کر لیں اور بجٹ میں اعلانات کر دیئے یکم جولائی کو مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی ملک میں مہنگائی میں یکدم اضافہ ہو گیا دکانداروں پر فکسڈ ٹیکس کے اعلانات کے بعد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری طبقہ نے حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا حکومت کے ذمہ داروں کے ساتھ صنعتکاروں’ فیکٹری مالکان اور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے ملاقاتیں کر کے تاجروں اور دیگر کاروباری طبقہ کی مشکلات سے آگاہ کیا اور ودہولڈنگ ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس جسے ظالمانہ فیصلے واپس لینے کا مطالبہ کیا حکومت کی طرف سے لچک پیدا کرنے سے انکار پر ملک بھر میں تاجر تنظیموں نے احتجاجی دھرنا اور ہڑتال کا اعلان کیا آل پاکستان انجمن تاجران کی کال پر تاجروں نے شٹرڈائون ہڑتال کی تاجر تنظیموں نے حکومت کو الٹی میٹم دیا کہ اگر حکومت نے کاروباری طبقہ کو ریلیف فراہم نہ کیا تو شٹرڈائون ہڑتال بڑھائی جا سکتی ہے تاجروں سے اظہاریکجہتی کیلئے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان اور ان کی جماعت کے عہدیداران وکارکنان بھی ہڑتال میں شامل ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بجلی بلوں پر ٹیکس’ کرایہ’ اشیاء خوردونوش پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس واپس لیا جائے فیصل آباد ڈویژن کے چاروں اضلاع میں بھی تاجر تنظیموں نے شٹرڈائون ہڑتال کی تاہم فیصل آباد میں ہڑتال کے اعلان پر تاجر تنظیمیں گروپ بندی کا شکار رہیں شٹرڈائون کرنے والے ہڑتالی تاجروں نے تاجر دوست اسکیم کو مسترد کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ان کاروباری افراد کا کہنا تھا کہ ملازمین کی تنخواہیں پوری نہیں ہو رہی چھوٹے دکاندار حکومت کو کہاں سے ماہانہ ٹیکس ادا کریں تاجر راہنمائوں کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس’ سیلز ٹیکس’ جی ایس ٹی سمیت بجلی اور گیس کے بلوں پر 17قسم کے ٹیکس دینے کے باوجود ایڈوانس ٹیکس تاجر برادری پر خودکش حملے کے مترادف ہے حکومت اشرافیہ کی مراعات ختم کرے اورچھوٹے دکانداروں اور چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے فیکٹری مالکان’ کارخانہ داروں کو ریلیف فراہم کرے! اتحادی حکومت کی طرف سے ٹیکسوں کی مد میں چھوٹے دکان داروں اور دیگر کاروباری طبقے کیلئے ریلیف کا اعلان نہ کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ اگر شٹرڈائون ہڑتال اور احتجاجی تحریک زور پکڑ گئی تو حکومت کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں لہٰذا ہمارے خیال میں تاجروں کے ساتھ مذاکرات کر کے اس مسئلے کا فوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں