کاشتکاروں کی خوشحالی،زرعی ترقی کیلئے پنجاب میں میگا زرعی پراجیکٹس کاآغاز

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کاشتکاروں کی خوشحالی، زرعی ترقی اور خود کفالت کے خواب کی تعبیر کے لئے پنجاب بھر میں میگا زرعی پراجیکٹس کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ بات چیئرپرسن وزیر اعلی پنجاب انسپکشن ، سرویلنس و مانیٹرنگ بریگیڈیئر (ر) بابر علائوا لد ین (ستارہ امتیاز ملٹری)نے ایوب ریسرچ کے دورہ کے دوران ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے نئے منصوبوں میں ایگریکلچران پوٹھوار اور سٹرس بحالی ٹاسک فورس کا قیام شامل ہے تاکہ مخصوص علاقوں میں موزوں فصلوں کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔کسان کارڈ سکیم کے تحت100،ارب روپے کی خطیر رقم سے کاشتکاروں کو بلاسود قرضے فراہم کئے جا چکے ہیں جبکہ ویٹ سپورٹ پروگرام کے تحت12،ارب روپے کاشتکاروں میں تقسیم کئے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سولرائزیشن آف ایگری ٹیوب ویلز پروگرام کے تحت 8ہزار کسانوں کو سبسڈی دی جائے گی۔ بریگیڈیئر (ر) بابر علائوالدین نے کہا کہ گرین ٹریکٹر سکیم کے تحت 10ہزار کاشتکاروں کو 5سے 10لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی فراہم کی گئی ہے جبکہ ساڑھے12،ایکڑ سے زائد گندم اگا مہم کے کامیاب کسانوں میں 1ہزار فری گرین ٹریکٹرز بھی تقسیم کئے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات پر خطہ پوٹھوار، تھل اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں فصلوں کی کامیاب کاشت کے لیے میگا پراجیکٹس شروع کئے جا رہے ہیں۔ ہائی ٹیک فنانسنگ پروگرام کے تحت11،اقسام کے جدید زرعی آلات کسانوں کو سبسڈی پر فراہم کئے جائیں گے۔چیئرپرسن سی ایم آئی ایس ایم نے زور دیا کہ زرعی تحقیق کے ثمرات سے کاشتکار استفادہ حاصل کر کے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں زرعی تحقیق، تعلیم اور توسیع کے شعبوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کر کے جدید کاشتکاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مشینی کاشت کے فروغ اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لئے محکمہ زراعت کے تمام شعبوں کو مشترکہ کاوشیں کرنا ہوں گی۔ بابر علاالدین نے اس موقع پر کہا کہ ”ریسرچ میں پاکستانیوں نے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا ہے” اور ملکی ترقی میں زراعت کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔مزید برآں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب دالوں کی کاشت کے رقبہ میں اضافے پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ 50نئی زرعی اقسام کی تیاری پر کام کر رہا ہے جبکہ 2021 سے2025 تک 106نئی ورائٹی متعارف کرائی جا چکی ہیں۔ چیف سائنٹسٹ ساجد الرحمان کے مطابق ادارہ اس وقت پروڈکشن ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ دے رہا ہے تاکہ کاشتکار زیادہ اور معیاری پیداوار حاصل کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں